Natural Skincare Tips
Where entertainment meets inspiration! 💡
Explore the best of online earning strategies, mind-relaxing content, and daily doses of fun.
Let’s turn your scroll time into a productive and enjoyable experience. Stay connected for more! 🚀🎶❤️
وزن کم کرنے کے لیے کچھ لوگ بھوک کاٹتے ہیں، میڈیکل میں اس بھوک کاٹنے کے نقصانات اور وزن کم کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
ڈاکٹر طارق حسین سومرو لاڑکانہ
آج کل ہر دوسرا شخص کہتا ہے "ڈاکٹر صاحب وزن بہت بڑھ گیا ہے، میں نے کھانا بالکل چھوڑ دیا ہے"۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے۔ بھوک کاٹ کر وزن کم کرنا ایسا ہی ہے جیسے پیاس سے بچنے کے لیے پانی میں زہر ملا کر پینا۔ وزن تو کم ہوگا لیکن صحت ختم ہو جائے گی۔
میڈیکل نقطہ نظر سے - بھوک کاٹنے کے نقصانات
جب آپ کھانا چھوڑ دیتے ہیں تو جسم سب سے پہلے چربی نہیں، مسلز (پٹھے) کھاتا ہے۔
نقصانات
1. جگر اور گردے فیل
جسم میں کیٹون باڈیز بنتی ہیں، جو جگر اور گردوں کو خراب کر دیتی ہیں۔
2. بال گرنا، جلد خراب
پروٹین نہ ملنے سے بال گرتے ہیں، چہرہ کالا پڑ جاتا ہے۔
3. دل کا فیل ہونا
اچانک الیکٹرولائٹ کم ہونے سے دل کی دھڑکن رک سکتی ہے۔
4. پتھری بننا
بھوک سے پتے میں پتھری بنتی ہے۔
5. ہارمونز خراب
عورتوں میں ماہواری بند، مردوں میں کمزوری۔
6. وزن واپس ڈبل ہو جانا
جیسے ہی آپ دوبارہ کھانا شروع کریں گے، وزن پہلے سے زیادہ بڑھ جائے گا۔ اسے
Yo-Yo Effect
کہتے ہیں۔
میں نے لاڑکانہ میں کئی نوجوان لڑکیاں دیکھی ہیں جو شادی کے لیے بھوک کاٹ کر وزن کم کرتی ہیں اور پھر بے ہوش ہو کر ہسپتال آتی ہیں۔
سائنس کے لحاظ سے
سائنس کہتی ہے جسم ایک انجن ہے۔ اگر آپ انجن کو پیٹرول ہی نہیں دیں گے تو وہ فیول کے بجائے اپنے ہی پرزے کھانا شروع کر دے گا۔
جب آپ بھوکے رہتے ہیں تو جسم
Starvation Mode
میں چلا جاتا ہے۔ اس موڈ میں جسم اپنا میٹابولزم 30% تک سست کر دیتا ہے۔ یعنی اب آپ جو تھوڑا بہت کھائیں گے بھی، وہ بھی چربی بن کر جمع ہوگا۔
سائنس کا اصول ہے: وزن کم کرنا ہے تو میٹابولزم کو تیز کرو، بند مت کرو۔ بھوک کاٹنے سے میٹابولزم مر جاتا ہے۔
سماجی نقطہ نظر سے
ہمارے معاشرے میں وزن کم کرنے کا مطلب سمجھا جاتا ہے "روٹی چھوڑ دو"۔
سوشل میڈیا پر ہر دوسرا حکیم کہہ رہا ہے "7 دن میں 10 کلو وزن کم کریں، کچھ نہ کھائیں"۔ غریب عوام اس کے پیچھے بھاگتی ہے۔
سچ یہ ہے کہ ہمارا اصل مسئلہ روٹی نہیں، ہمارا لائف اسٹائل ہے۔ ہم سارا دن بیٹھے رہتے ہیں، رات کو 2 بجے تک جاگتے ہیں، کولڈ ڈرنک پیتے ہیں، فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں، اور پھر روٹی کو الزام دیتے ہیں۔
سماج کو سمجھنا ہوگا کہ صحت مند جسم عزت ہے، بھوکا جسم فیشن نہیں۔
نفسیات کے لحاظ سي
بھوک کاٹنے سے سب سے زیادہ نقصان دماغ کو ہوتا ہے۔
نفسیات میں اسے
Eating Disorder
کہتے ہیں۔ جب آپ بھوکے رہتے ہیں تو دماغ میں Serotonin
کم ہو جاتا ہے۔ نتیجہ غصہ، چڑچڑاپن، ڈپریشن، نیند نہ آنا۔
بہت سے لوگ بھوک کاٹ کاٹ کر
Bulimia اور Anorexia
جیسی خطرناک نفسیاتی بیماریوں میں چلے جاتے ہیں۔ انہیں ہر وقت لگتا ہے میں موٹا ہوں، چاہے وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ ہی کیوں نہ بن جائیں۔
یاد رکھیں، ذہنی سکون کے بغیر جسمانی وزن کبھی کم نہیں ہوتا۔
اسلامی نقطہ نظر سے
اسلام بھوک کاٹنے کے خلاف ہے۔ اسلام اعتدال کا دین ہے۔
اسلام میں وزن کم کرنے کا بہترین طریقہ روزہ ہے، بھوک نہیں۔ روزے میں آپ سحری اور افطاری میں کھاتے ہیں، لیکن حد میں۔ یہ سنت بھی ہے اور سائنس بھی۔
بھوک کاٹ کر اپنے جسم کو تکلیف دینا اسلام میں جائز نہیں، کیونکہ یہ جسم اللہ کی امانت ہے۔
وزن کم کرنے کا صحیح اور آسان طریقہ
1. کھانا مت چھوڑو، کم کرو
روٹی آدھی کر دو، چاول ہفتے میں ایک بار، سالن میں تیل کم۔
2. پانی زیادہ
دن میں 10-12 گلاس پانی، ہر کھانے سے 30 منٹ پہلے ایک گلاس۔
3. چہل قدمی
روز 40 منٹ تیز واک، یہ سب سے بہترین دوا ہے۔ جم کی ضرورت نہیں۔
4. رات کا کھانا جلدی
٨ بجے سے پہلے کھا لو، اس کے بعد کچھ نہیں۔
5. میٹھا اور کولڈ ڈرنک بند
یہ زہر ہے، اسے چھوڑ دو تو 50% وزن خود کم ہو جائے گا۔
6. نیند پوری
٧ گھنٹے نیند لازمی، کم نیند سے وزن بڑھتا ہے۔
خلاصہ
بھوک کاٹ کر وزن کم کرنا جسم کو مارنا ہے۔ کھا کر، چل کر، اعتدال سے وزن کم کرنا جسم کو زندہ رکھنا ہے۔ صحت مند رہنا ہے تو فاقہ نہیں، اعتدال کرو۔
Dr Tarique Hussain Soomro Larkana..
آپ کیا بزنس یا جاب کرتے ہیں؟
وزن کم کرنا چاہتے ہیں؟ سب سے آسان ٹِپ...
ایک ہی مہینے میں 10 سے 15 کلو وزن کم کرنے کا ٹارگٹ رکھنے کے بجائے، ہر ماہ صرف 2 سے 3 کلو وزن کم کرنے کا ٹارگٹ رکھیں۔
ایک مہینے میں 2 یا 3 کلو وزن کم کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، اور اس طرح آپ بغیر زیادہ دباؤ کے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے وزن میں کمی لا سکتے ہیں۔
میرے بالوں کی حالت پہلے ایسی نہیں تھی… پھر میں نے اپنی ہیئر کیئر روٹین میں یہ چند تبدیلیاں کیں، اور اب بالوں کو دیکھ کر خود دل خوش ہو جاتا ہے!
اگر آپ کے بالوں میں بھی خشکی ہے ، بال rough ہو گئے ہیں، آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں یا hair fall زیادہ محسوس ہو رہا ہے تویہ پوسٹ آخر تک ضرور پڑھیں… کیونکہ میں آج آپ کو اپنی پوری Hair Care Routine بتانے والی ہوں۔
میں ہفتے میں 3 بار اپنے بال دھوتی ہوں اور کوشش کرتی ہوں کہ اس سے زیادہ شیمپو نہ کروں کیونکہ شیمپو کا کام سکیلپ کو صاف کرنا ہے شیمپوزیادہ استعمال کرنے سے بالوں میں موئسچر کم ہو جاتا ہے جس سے بال خشک اور رف ہو جاتے ہیں اس لیے بالوں کی مناسب کیئر بہت ضروری ہے ۔
جس دن میں ہفتے میں پہلی بار بال دھوتی ہوں اس دن شیمپو کرنے سے پہلے میں اپنے بالوں میں آئلنگ کرتی ہوں اور میں اپنا بنایا ہواتیل ہی لگاتی ہوں۔تیل بنانے کے لیے آپ کو ناریل یا سرسوں کا تیل لینا ہےاس میں3 آملے، 1 چمچ میتھی دانہ،1 چمچ تل اور1 چمچ کلونجی کو تیل میں ڈال کراسے ہلکی آنچ پر پکانا ہے پھر اسے ٹھنڈا کرکے چھان لینا ہے ۔ اس تیل سے سکیلپ اور بالوں میں ہلکی مساج کرنی ہے۔اس تیل کو ایک گھنٹہ لگا رہنے دینا ہے اس کے بعد شیمپو سے بال دھونے ہیں اور بعد میں کنڈیشنر لگانا ہے ۔
ہفتے میں دوسری بار بال دھونے سے پہلے میں یہ protein mask لگاتی ہوں کیونکہ ہمارے بال بنیادی طورمردہ پروٹین فائبرز ہوتے ہیں، اس لیے انہیں پروٹین اور مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہےاس ماسک کو بنانے کے لیے آپ کو1 کیلا،3 چمچ دہی، 1 انڈا،2 چمچ مایونیز اور1چمچ اولیو آئل کا لینا ہے ان سب چیزوں کو اچھی طرح بلینڈ کرکے smooth سا paste بنا لینا ہے پھر اسے بالوں پر اچھی طرح اپلائی کرناہےتقریباً 20–30 منٹ لگا رہنے دیں اس کے بعد میں اپنے بال شیمپو سے دھو لینے ہیں اورپھر کنڈیشنر لگانا ہے اس ماسک کے بعد میرے بال بہت سلکی اور نرم و ملائم ہو جاتے ہیں ۔
ہفتے میں تیسری بار میں شیمپو سے پہلے پھرآئلنگ کرتی ہوں۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد شیمپو سے دھونے کے بعد کنڈیشنر استعمال کرتی ہوں۔
شیمپو کے بعد بال اور اسکیلپ خشک ہوجاتے ہیں خاص طور پر اگر شیمپو سخت ہو یا بار بار استعمال کیا جائے اور کنڈیشنر بالوں میں نمی برقرار رکھنے، انہیں نرم کرنے اور الجھاؤ کم کرنے میں مدد دیتا ہے اس لیے کنڈیشنر ضرور استعمال کیا کریں ۔
اپنے بالوں سے پیار کریں اور ان کا بھرپور خیال رکھیں۔
اگر آپ کو صرف ایک hair problem ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا موقع ملے،تو آپ کون سی problem ختم کریں گی۔اور آپ کون سی روٹین فالو کرتی ہیں۔👇
*کلاس سے غیر حاضر رہنے کا تمہارے پاس کیا بہانہ ہے؟*
> ایک شیخ کی اپنے شاگرد کو خوبصورت نصیحت
*"جب میں اپنے شیخ کے پاس پڑھ رہا تھا، تو کچھ ایسے حالات پیش آئے جن کی وجہ سے مجھے ان کے ایک سبق سے غیر حاضر ہونا پڑا۔ جب اگلی نشست آئی تو میں نے ان کی آنکھوں میں گہری ناراضگی دیکھی...*
میں سمجھ گیا کہ مجھے اپنی غیر حاضری کی وجہ بتانی چاہیے تاکہ وہ مجھے معاف کر دیں - اور اللہ کی قسم، وہ کوئی سنگین وجہ تھی.
تو میں نے کہا: *شیخ، میری غیر حاضری کی وجہ...*
انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے بولنے سے روک دیا.
پھر انہوں نے کہا:
یہی کافی ہے کہ تم ابھی سانس لے رہے ہو.
میں نے کہا: میں سمجھا نہیں.
انہوں نے جواب دیا:
*"اگر تم بیمار تھے، تو اپنے سبق پر آؤ - اگر تم میں ابھی زندگی باقی ہے تو تم قرآن سے شفا پاؤ گے*
*اور اگر وہ موت کی بیماری ہے - تو علم حاصل کرتے ہوئے مرو*
*اگر تم پریشانی میں ہو - تو اپنے سبق پر آؤ اور اپنے رب سے قرآن کی برکت سے اپنی مشکل دور کرنے کی دعا کرو*
*اگر تمہارے پاس مہمان ہے - تو اسے اپنے سبق میں لا کر اس کی عزت کرو، اور شاید تم اس کی ہدایت کا ذریعہ بن جاؤ*
*"اگر، اگر، اگر..."*
پھر انہوں نے آخر میں کہا:
تمہاری غیر حاضری کا واحد عذر جو میں قبول کروں گا وہ یہ ہے کہ مجھے بتایا جائے:
وہ فوت ہو گیا ہے
*اللہ کی قسم، اس کے بعد مجھے کبھی کوئی ایسی وجہ نہیں ملی جو مجھے سبق چھوڑنے پر مجبور کرے.*
*خلاصہ:*
اے طالب علم، جب تم غیر حاضر ہوتے ہو [اور تمہاری غیر حاضری بار بار ہوتی ہے] تو جان لو کہ تم خود ہی بہانے بنا رہے ہو
جب تم اپنے حفظ اور دہرائی میں کوتاہی کرتے ہو، تو جان لو کہ _تم_ خود ہی بہانے بنا رہے ہو
*میری نصیحت 🌷*
اپنی زندگی کی ڈکشنری سے *حالات* کا لفظ نکال دو - یہ تمہیں کبھی کوئی فائدہ نہیں دے گا
*اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:*
بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے (١٤)، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے (١٥)
*[سورۃ القیامۃ]*
بال اتنے جھڑ گئے ہیں کہ کنگھی کرتے ہوئے دل گھبرا جاتا ہے؟لمبے ہونے کا نام ہی نہیں لیتے نہ smooth ہیں نہ silky؟تو یہ آسان سا گھریلو اسپرے اپنی hair-care routine میں شامل کرکے دیکھیں!
میں نے اسے اپنے بال لمبے کرنے کے لیے استعمال کیا تھا لیکن اس کے استعمال سےمیرے بال پہلے سے زیادہ ہیلدی اورگرنابھی کم ہو گئے تھے ۔میں نے تواس اسپرے کو اپنی روٹین میں شامل کیا ہوا ہے ۔
اس کے لیے صرف 4 چیزیں چاہئیں: 2 چمچ چاول ،1چمچ گرین ٹی لیف 10–12 لونگ، دارچینی کا ایک چھوٹا ٹکڑا
ان سب چیزوں کو ایک گلاس پانی میں ڈال کر رات بھر کے لیے بھگودیں۔
صبح اسے اچھی طرح چھان لیں اور پانی کو اسپرے بوتل میں محفوظ کر لیں۔
اب بالوں کو حصوں میں تقسیم کرکے جڑوں اور بالوں پر اچھی طرح اسپرےکریں
میری بتائی ہوئی روٹین:
بال دھونے کے اگلے دن اسپرے کریں، پھر اس کے اگلے دن دوبارہ کریں اور
تیسرے دن بال دھو لیں۔ پھر یہی روٹین باقاعدگی سے جاری رکھیں۔
باقاعدگی سے استعمال کرنے سے بال زیادہ نرم، صحت مندمحسوس ہو تے ہیں جبکہ بالوں کی لمبائی میں فرق دیکھنے کے لیے وقت اور مسلسل استعمال کرنا ضروری ہے۔
نماز کے بعد صبح کے اذکار ضرور کریں اور پھر نیم گرم پانی کے ایگ گلاس سے اپنے دن کی شروعات کریں !! کسی اچھے فیس واش سے منہ دھو ئیں، موئسچرائزر لگائیں،سن بلاک لگائیں، کنگھی کریں ہلکی سی لپ اسٹک یا لپ بام لگائیں اب آپ ایک نئے دن کے آغاز کے لیے تیار ہیں !! اس نئے دن سے ایک نئی شروعات کریں !! اور اپنی دعاؤں میں ہمیں بھی یاد رکھیں !! ❤️
میری امّی ستر برس کی ہیں۔
اور لاہور کے اُس گھر میں اکیلی رہتی ہیں جہاں کبھی ہم تین ایک دوسرے کی آوازوں میں جیا کرتے تھے ابا ، امی اور میں ۔
میں سترہ سال پہلے امریکہ گیا تھا۔
پہلے تعلیم کے لیے۔
پھر نوکری مل گئی۔
پھر گرین کارڈ۔
پھر شادی۔
پھر بچے۔
اور پھر زندگی اتنی تیز ہو گئی کہ وقت صرف کلینڈر کی تاریخوں میں رہ گیا۔
شروع شروع میں امّی روز فون کرتی تھیں۔
“کھانا وقت پر کھا لینا…”
“اتنی برف میں باہر نہ نکلا کرو…”
“اپنی بیوی کو میرے لیے سلام کہنا…”
پھر آہستہ آہستہ اُنہوں نے کالز کم کر دیں۔
کیونکہ بوڑھے والدین ایک وقت کے بعد اپنی محبت بھی دھیمی کر دیتے ہیں… تاکہ اولاد کو بوجھ محسوس نہ ہو۔
ہم ہر ہفتے ویڈیو کال کر لیتے تھے۔
امّی ہمیشہ ٹھیک لگتیں۔
بالوں میں سفیدی بڑھتی جا رہی تھی۔
آواز پہلے سے ہلکی ہو گئی تھی۔
مگر وہ ہمیشہ یہی کہتیں:
“میں بالکل ٹھیک ہوں بیٹا۔
بس خوش رہا کرو۔”
اور ہم یقین کر لیتے۔
پچھلے مہینے دفتر کے کام سے اچانک گلف جانا پڑا تو پاکستان چکر لگانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔
میں نے امّی کو نہیں بتایا۔
سوچا امّی کو حیران کردوں گا۔
رات تقریباً گیارہ بجے میں گلی میں داخل ہوا تو پورا محلہ ویسا ہی تھا۔
وہی پکوڑوں والے کی خوشبو۔
وہی دور کسی گھر سے آتی نیوز کی آواز۔
وہی بجلی کے تاروں پر بیٹھے پرندے۔
صرف ایک چیز بدلی تھی۔
میرا اپنا گھر اب پہلے سے بہت چھوٹا لگ رہا تھا۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
کافی دیر بعد اندر سے چپل گھسیٹنے کی آواز آئی۔
پھر کنڈی کھلی۔
اور امّی سامنے کھڑی تھیں۔
چند سیکنڈ تک وہ صرف مجھے دیکھتی رہیں۔
جیسے آنکھیں یقین اور خواب کے درمیان پھنس گئی ہوں۔
پھر اُنہوں نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرا چہرہ چھوا۔
“سچ میں تم ہو…؟”
بس اتنا کہا۔
اور میری ساری کامیابیاں اُس ایک جملے کے سامنے چھوٹی پڑ گئیں۔
گھر میں داخل ہوا تو عجیب خاموشی تھی۔
وہی فرنیچر۔
وہی پردے۔
وہی ابو کی پرانی کرسی۔
مگر گھر میں “رہنا” ختم ہو چکا تھا۔
اب وہاں صرف “وقت گزر” رہا تھا۔
امّی فوراً کچن میں چلی گئیں۔
میں نے کہا:
“امّی رہنے دیں، میں باہر سے کچھ منگوا لیتا ہوں۔”
وہ ہنس پڑیں۔
“سترہ سال امریکہ رہ کر بھی تمہیں یہ نہیں سمجھ آئی کہ ماں کے گھر میں کھانا منگوایا نہیں جاتا؟”
چند منٹ بعد وہ چائے لے آئیں۔
دو کپ۔
بالکل ویسے ہی جیسے ابو کے زندہ ہونے کے زمانے میں بنایا کرتی تھیں۔
ہم دونوں اُس پرانی میز کے پاس بیٹھ گئے… جس کے ایک کونے کی لکڑی اب بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔
میں نے پہلی بار غور سے گھر کو دیکھا۔
دیوار پر ہمارا پرانا اسکول گروپ فوٹو اب بھی لگا تھا۔
میرے کمرے کے دروازے پر آج بھی میرا نام اسٹیکر سے چپکا ہوا تھا۔
اور کچن کے کیلنڈر پر امریکہ اور پاکستان کے وقت لکھے ہوئے تھے۔
نیویارک۔
لاہور۔
فرق: دس گھنٹے۔
مجھے عجیب سا احساس ہوا۔
امّی نے اپنی زندگی دو Time Zone میں تقسیم کر رکھی تھی۔
ایک اپنے لیے۔
اور ایک ہمارے لیے۔
چائے پیتے ہوئے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہیں۔
محلے کے اشفاق انکل فوت ہو گئے۔
سامنے والے گھر میں نئی فیملی آ گئی۔
اور اس سال آم بہت میٹھے آئے ہیں۔
پھر اچانک وہ خاموش ہو گئیں۔
کافی دیر تک کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی رہیں۔
پھر بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی رات کو تمہارے کمرے کی لائٹ جلا دیتی ہوں کبھی کبھی۔”
میں چونکا۔
“کیوں؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
“عادت ہے نا۔
پہلے تم دیر تک پڑھتے رہتے تھے۔
اب کبھی کبھی لگتا ہے شاید تم لوگ اچانک واپس آ جاؤ گے۔”
خدا گواہ ہے…
اُس لمحے مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ ہجرت صرف اُن لوگوں کی نہیں ہوتی جو ملک چھوڑتے ہیں۔
اصل ہجرت اُن ماں باپ کی ہوتی ہے…
جو اپنی اولاد کے بعد اُسی گھر میں رہ جاتے ہیں۔
اگلی صبح جب میں اٹھا تو امّی پہلے ہی جاگ رہی تھیں۔
فجر کے بعد کا وقت تھا۔
وہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
میں دروازے کے ساتھ کھڑا اُنہیں دیکھتا رہا۔
پہلے کبھی غور نہیں کیا تھا…
بوڑھے لوگ چلتے نہیں، اپنی یادوں کو آہستہ آہستہ اٹھائے پھرتے ہیں۔
میں نے کہا:
“امّی، اتنی صبح کیوں اٹھ گئی ہیں؟”
وہ مسکرائیں۔
“بڑھاپے میں نیند بھی انسان سے پہلے بوڑھی ہو جاتی ہے۔”
پھر میرے پاس بیٹھ گئیں۔
کافی دیر خاموش رہیں۔
پھر آہستہ سے بولیں:
“تمہیں پتا ہے…
میں اب بھی شام کو دو کپ چائے بنا لیتی ہوں کبھی کبھی۔”
“دو کپ؟”
وہ ہنسیں۔
“پھر یاد آتا ہے تم لوگ تو یہاں نہیں ہوتے۔”
اُن کی ہنسی ختم ہوتے ہوتے آواز بھیگ گئی۔
اور اُس لمحے مجھے محسوس ہوا…
تنہائی شور نہیں کرتی۔
وہ انسان کی عادتوں میں آ کر رہنے لگتی ہے۔
میں نے وہیں فیصلہ کر لیا۔
میں اگلے دن واپس نہیں گیا۔
دفتر میں چھٹی بڑھا دی۔
ٹکٹ آگے کر دی۔
اور کئی برسوں بعد پہلی بار گھڑی دیکھنا چھوڑ دیا۔
اگلے چند دنوں میں میں نے ایک عجیب تبدیلی دیکھی۔
امّی بدلنے لگیں۔
آہستہ آہستہ۔
جیسے کسی سوکھے پودے کو دوبارہ پانی مل جائے۔
وہ صبح ناشتہ بناتے ہوئے گنگنانے لگتیں۔
پرانے صندوق کھول کر ہماری بچپن کی چیزیں نکالتیں۔
محلے والی خالہ کو فخر سے بتاتیں:
“میرا بیٹا آیا ہوا ہے امریکہ سے…”
اور ہر رات سونے سے پہلے پوچھتیں:
“کل کہیں باہر چلیں؟”
ایک دن میں اُنہیں انارکلی لے گیا۔
وہی بازار جہاں بچپن میں وہ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتی تھیں کہ کہیں رش میں کھو نہ جاؤں۔
اُس دن وہ میرا بازو پکڑ کر چل رہی تھیں۔
وقت شاید اسی کو کہتے ہیں۔
راستے میں انہوں نے ایک چھوٹی سی دکان سے میرے لیے کھسہ خریدنے کی ضد کی۔
میں ہنس پڑا۔
“امّی، میں امریکہ میں یہ کہاں پہنوں گا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہیں۔
پھر بولیں:
“پتہ نہیں بیٹا…
ماں کو بس یہ لگتا ہے کہ بچہ کچھ لے کر جائے۔”
اُس رات میں بہت دیر تک سو نہیں سکا۔
میں سوچتا رہا…
ہم امریکہ جا کر بڑے گھر خرید لیتے ہیں۔
بڑی گاڑیاں۔
بڑی تنخواہیں۔
بڑی مصروفیات۔
مگر ہمارے ماں باپ اُسی پرانے گھر میں ہماری چھوٹی چھوٹی عادتوں کے ساتھ رہ جاتے ہیں۔
میرے واپس آنے سے ایک رات پہلے امّی میرے کمرے میں آئیں۔
میں کپڑے پیک کر رہا تھا۔
وہ دروازے پر کافی دیر کھڑی رہیں۔
پھر بولیں:
“ایک بات پوچھوں؟”
“جی امّی۔”
“تم خوش ہو وہاں؟”
میں جواب نہ دے سکا۔
کیونکہ پہلی بار مجھے لگا…
سکون اور کامیابی ایک چیز نہیں ہوتے۔
میں نے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ بہت ہلکا ہو چکا تھا۔
جیسے وقت آہستہ آہستہ اُنہیں دنیا سے کم کرتا جا رہا ہو۔
پھر وہ مسکرائیں اور بولیں:
“فکر نہ کرو۔
میں ٹھیک ہوں۔
یہ دنیا کا سب سے جھوٹا جملہ ہے۔
اگلی صبح جب میں ایئرپورٹ کے لیے نکلا تو امّی ہمیشہ کی طرح دروازے تک آئیں۔
میں گاڑی میں بیٹھا تو وہ کافی دیر تک دروازے کے پاس کھڑی رہیں۔
بالکل ویسے ہی… جیسے بچپن میں اسکول جاتے وقت کھڑی رہا کرتی تھیں۔
میں ایئر پورٹ کے آدھے راستے تک پہنچا تو محسوس ہوا کہ چہرہ آنسووں سے بھیگ چکا ہے میں نے ڈرائیور سے کہا گاڑی واپس موڑ لو گھر چلنا ہے ۔
گھر پہنچا ڈرائیور کو پیسے دے کر رخصت کیا ، بیگ سائیڈ پر رکھے خاموشی سے دبے پاؤں امی کے کمرے میں آیا ، امی کروٹ سے بستر پر لیٹی تھیں جسم ہل رہا تھا وہ ہچکیوں سے رو رہی تھیں میں نے آہستگی سے انکے پیروں پر ہاتھ رکھا ، ایک دم ڈر کر اٹھ بیٹھیں ۔
چہرے جپر حیرت " تم گۓ نہیں ، فلائٹ نکل جاۓ گی ۔
میں نے کہا ، کہیں نہیں جا رہا نکل جانے دیں فلائٹ ۔
میں فیصلہ کر چکا تھا جب تک امی ہیں میں اب یہیں ہوں چلا گیا تو اس بوجھ تلے امی سے پہلے مر جاؤں گا کہ جب امی کو میری ضرورت تھی میں نہیں تھا پیسہ اور سکون اکثر دونوں ساتھ نہیں ملتے ، میں نے سکون کو چن لیا تھا ۔
اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے...
والدین پر اُن کی زندگی میں خرچ کیجیے، اُن کے ساتھ وقت گزاریے، اُن کی ضروریات پوری کیجیے، اُن کے دل کو خوش کیجیے۔ کیونکہ اُن کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اُن کے نام پر کی جانے والی خیرات، صدقات اور بڑے بڑے ایصالِ ثواب بھی اُس مسکراہٹ کا بدل نہیں بن سکتے جو اُن کے چہرے پر آپ کی محبت، خدمت اور قربت سے آتی ہے۔❣️❣️
یہ میرے پہلے بچے کی روداد ہے ۔جب میں نئی نئی ماں بنی۔وہی ساری ماؤں کی طرح،میرے بچے کو ہاتھ نہ لگاو،گندہ نہ ہو جاے،رو نہ پڑے،ڈسٹرب نہ ہو جاۓ۔
جس کمرے میں فاریہ سوتی اس سے سب کو دور دور رکھتی۔دل چاہتا باہر چڑیاں بولنا چھوڑ دیں ،گلی سے ٹریفک بند ہو جاے،آسماں سے طیارے پرواز بھرنا بھول جائیں ،بادل گرجنا برسنا چھوڑ دیں تاکہ میرے بچے کی نیند میں خلل نہ پڑ جاے۔اسقدر خبطی اور غیر حقیقی ہو جاتی ہیں ہم مائیں پہلے بچے کی بار۔۔۔سونگھ سونگھ کر کھلاتی ہیں،مانجھ مانجھ نہلاتی ہیں،سنبھال سنبھال رکھتی ہیں،وہ جسے کہتے ہیں صحیح معنوں میں بچے کے قدموں تلے آپ ہتھیلیاں نہیں اپنا آپ رکھ دیتی ہیں۔
اس وقت ہمیں کوئ یہ بٹھا کر نہیں سمجھاتا ناں کہ کیا ایک ہی بچہ پالنا ہے؟ کچھ طاقت،کچھ ہمت ،کچھ محبت دوسرے تیسرے اور چوتھے کے لئے بھی بچا کر رکھو!اور کچھ زندگی میں تھوڑا سا حصہ اپنے لئے بھی بچا کہ رکھو!
کچھ معاشرتی دباؤ اور ہمارے آس پاس کے لوگوں کے غیر حقیقی اور غیر مناسب رویے ہم سے ہمارے دوست،سہیلیاں حتی کہ اکثر اوقات خاندان تک چھڑوا کر گھر کی چار دیواری میں بچوں کے ساتھ قید کر دیتے ہیں اور ہم مائیں اندھا دھند صحیح غلط سمجھے بغیر پہلی بار کے جوش و جذبے میں ہنسنا،بولنا،بنننا سنورنا،دوست احباب سب چھوڑ کر اس بحر بیکراں میں ڈوب جاتی ہیں۔۔۔۔
پھر کیا ہوتا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔
پھر دوسرا بچہ آ جاے تو وہی گھنٹوں اکیلی بیٹھ کر نظمیں اور گانے سنانے والی ماں لوری سنانے کے بھی قابل نہیں رہتی،وہ رات بھر جاگنے والی دن میں بھی وقت دے نہیں پاتی۔وہ ہر وقت سنوارنے والی ماں ہاتھ منہ تک نہیں دھلا پاتی۔
اور یہ انقلاب صرف ماں کی زندگی میں نہیں بچوں کی زندگی میں بھی اتنا ہی نقصان دہ ہوتا ہے۔
تیسرا اور چوتھا بچہ تو ماں کے ہاتھوں بے دریغ پٹنے لگتا ہے،انکے منہ تک نہیں دھلتے،کپڑے تک نہیں بدلے جاتے۔
کیوں؟
کیونکہ ماں کوی آٹھ دس سال سے یہی کام کر کر کے تھک کر چور ہو چکی ہے۔وہ اسقدر تھک چکی ہے کہ اب اپنے اندر اس ماں کو بھی گنوا چکی ہے جسکا نام محبت ہے۔۔۔
اور پھر کیا ہوتا ہے ،ایک دن ہم ،ممتا سے بھری،چومتی چاٹتی ماؤں کی تیوریوں پر کئی کئی سلوٹیں دھرنا دے کر بیٹھ جاتی ہیں،لاف لائن ختم ہو کر چہرے پر اک اذلی بیزاری بس جاتی ہے ،بچے سوچنے لگتے ہیں ہماری ماں ہر وقت ناراض رہتی ہے اورماؤں کو اپنے ہی بچوں سے نفرت ہونے لگتی ہے۔
ماں۔۔۔۔چولہے پر رکھ کر بھولی گئی ہانڈی کی طرح سڑ چکی ہے۔
کبھی آپ نے سوچا کہ کچن میں تیز رفتار چولہا جلا کر چمنی،درواذے کھڑکیاں بند کر دئیے جائیں تو کیا ہو گا؟ پہلے کچن دھویں سے بھرے گا پھر اسکی چھت دیواریں کالی ہونگی اور آخر میں شاید خدانخواستہ سارا کچن ہی سڑجاے۔اسی لئے کچن میں چمنیاں،درواذے اور کھڑکیاں رکھی جاتی ہیں تا کہ دھواں ساتھ کا ساتھ نکلتا جاے۔
ہم ماؤں کا ایسا حال کرتے ہیں،
انکی کھڑکیاں چمنیاں سب اکھاڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ ایک دن وہ سڑا ہوا کچن بن جاتی ہیں۔
میری پہلی بیٹی کو گنتی سے لیکر لاتعداد انگلش اردو نظمیں ڈیڑھ سال کی عمر میں ہی یاد تھیں۔نو ماہ کی ہو کر وہ بولنے لگ گئی اور میرا تیسرا بچہ،میرا بیٹا دو سال تک بول نہ سکا،نظمیں آج بھی چھ سال کی عمر میں بھی اسے ایک آدھ ہی آتی ہے۔
جتنی فاریہ تیز طرار رہی احمر اتنا ہی ہر چیز میں پیچھے رہا۔کیوں؟ کیونکہ فاریہ کے ساتھ میں اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے حتی کہ اسے رضائ میں گھسے فیڈ کرواتے بھی بولتی تھی۔۔۔اور احمر کی دفعہ میں بول بول اور شور سن سن تھک چکی تھی۔
احمر کو فیڈ کرواتے منہ سی کر بیٹھتی،کہ وہی تو دو گھڑی سانس لینے کا وقت تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ میں اس سے بولی نہیں اور دو سال کی عمر میں ہمیں اسے لینگویج تھراپی کے لئے لیجانا پڑا کہ یہ بولتا کیوں نہیں۔
اپنی ساری ہمت ،توجہ اور محبت میں پہلے بچے پر لٹا بیٹھی تھی دوسرے کے بعد تیسرے تک آتے آتے ہمت سے جھولی خالی تھی۔
فاریہ کو ایک تھپڑ زرا سا لگا کر کئی دن دل روتا تھا۔احمر کو زور کا تھپڑ مار کر اپنا ہاتھ دکھا لیتی ہوں مگر دل کو کچھ نہیں ہوتا۔کیونکہ میں اپنی ساری توجہ محبت،محنت پہلے بچے پر انڈیل بیٹھی ہوں۔
خود کو معتدل رکھیے۔__________میری اک دوست پہلے بچے کو دو سال تک مدر فیڈ دیتی رہی اور دوسرے بچے کو سرے سے ہی چھڑوا دیا۔
پہلے کو سنبھالتے خود کو تھوڑا متناسب رکھیں۔
دل کا کیا ہے دل تو بہت سے غلط رستوں پر ڈالتا رہتا ہے۔اور ہمارے دلوں کے راستے میں ہر لمحہ کھڑا یہ معاشرہ یہ واحد جگہ ہے جہاں پر ہمیں ٹوکتا نہیں بلکہ سر کے بل ہمیں اس میں الٹا دیتا ہے۔
نتیجتا ہمارے جزبات کا استحصال ہمیں اور ہمارے بچوں کے لیے بلآخر خسارے کا سودا بن جاتا ہے۔۔پہلا بچہ صبر سے پالیں خود کو سنبھال کر اور بچا کر،اپنی طاقت اور صلاحیت کے حساب سے۔
وہ کچھوے اور خرگوش کی کہانی سنی ہے ناں۔خرگوش اس لئے سو جاتا ہے کہ وہ سرپٹ بھاگ کر جلدی تھک جاتا ہے اور کچھوا اسلیے نہیں سوتا چونکہ وہ کسی کام اور زمہ داری کو سر پر سوار نہیں کرتا،ٹھنڈے ٹھنڈے موڈ میں، دھیرے دھیرے چلتا ہے اور دور تک جاتا ہے۔ہم سب مائیں بھی فائر ہوتے ہی خرگوش کی طرح دوڑ پڑتی ہیں اور پہلے بچے کے بعد تھک ہار کر چُور ہو جاتی ہیں اور ریس ہار جاتی ہیں۔
ہماری سہیلیاں،دوست،بہنیں مائیں ہماری چمنیاں اور کھڑکیاں ہیں۔
ماں ہونے سے زیادہ مشکل نوکری اور کوی نہیں جو سالہاسال تک چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ہے۔جب ہم اپنے سارے رابطے،اپنے مشاغل،اپنا وقت،ہنسی خوشی،کرئیر سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں یا چھڑوا دیے جاتے ہیں تو ہماری کھڑکیوں دروازوں کو بھی بند کر دیا جاتا ہے جسکے بعد ہمارا مقدر جلد یا بدیر جل کر خاک ہو جانا ہو جاتا ہے۔
زندگی کو تھوڑا دھیما لیں۔یہ چند دن یا چند ماہ کی بات نہیں یہ بہت لمبی ریس ہے اور اسکے لئے آپکو لمبی ریس کے گھوڑے والا صبر ،سمجھ اور حوصلہ چاہیے۔
۔پہلے دن سے اپنی ترجیحات کو واضح رکھیں۔کوی طعنے دے ،نصیحتیں کرے،سبق پڑھاے ممتا کے رستے میں فنا ہو جانے کے، تو اسے دور سے سلام کریں اور خود سے پرےکر دئیں۔یہ سارے ہمارے معاشرے کی عورتوں کے رٹے رٹاے اسباق ہیں جنکا یہی سارا گھسا پٹا رزلٹ ہے جو ہماری صورت میں سامنے آتا ہے۔
ان سارے روائتی طریقوں کے ایک نہیں بے تحاشا نقصانات ہیں جنکا احاطہ ایک مضمون میں تو کافی ہی نہیں۔کئی دن تک اس پر بات کرنا ہو گی،کئی طرح سے تو اسکے وہ سارے چھپے اور ڈھکے نقصان سامنے آئیں گے جو اس سارے سلسلے میں ماں اور بچوں کو اور نتیجتاً ایک گھر ایک خاندان کو سہنے پڑتے ہیں۔
آپ ماں ہوں ،بیوی ہوں یا بیٹی اپنی زندگی میں ہمیشہ اپنا حصہ رکھیں۔اپنے دوستوں اور احباب سے رابطہ رکھیں۔ یہ دوست ہی ہیں جنہوں نے آپکی تھکاوٹ کی داستاں سننی ہے،جن سے دل کی بات کر کے آپ نے دھواں نکالنا ہے،
یہ تھکی ہوی حکایتیں نہ آپکے بچے سمجھ سکتے ہیں نہ میاں سننے میں کوئ دلچسپی رکھتا ہے۔وہ عورتیں اور سہلیاں ،بہنیں اور بھابیاں جو آپکے جیسے مسائل میں گھری ہیں ان سے اکثر ملتی رہیں۔
ہفتہ میں ایک بار بن سنور کر ،پھر سے لڑکی بنکر ،بچوں کے بغیر سہیلیوں میں جائیں،خوب ہنسیں قہقہے لگائیں۔آپ پہلے سے زیادہ تازہ دم اور خوش وخرم لوٹیں گیں۔
اگر یہ ممکن نہیں تو کوی مشاغل اپنائیں،کوی بیوٹیشن کا کورس،کوی بلاگ،فوٹوگرافی،لکھنا،پڑھنا،آرٹ اینڈ کرافٹ،کچن گارڈننگ، کوی بھی مشغلہ جس سے آپکا خوب دل لگا ہو،صرف اپنے لیے اسے وقت دئیں کم سے کم ہفتے میں دو بار ،کم سے کم ہفتے میں دو تین گھنٹے۔۔
ہماری بہترین زہنی صحت ہمارے بچوں کی بہترین تربیت کے لیے بہت ضروری ہے۔اور کوئ اور اس حقیقت سے اتفاق کرے یا نہ کرے خود ماں کا اس سے اتفاق کرنا اشد ضروری ہے۔
مائیں مسکراتی ہیں تو بچے مسکرانا سیکھتے ہیں۔ماوں کے ماتھے پر ہر وقت سلوٹیں ہوں تو وہ خود بخود بچوں کے تیوروں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔
ہم سالوں بچوں کو نہلاتے دھلاتے انہیں بیبے بچے بنانے میں لگ کر خود کو گندہ مندہ خوبصورتی سے عاری کر لیتی ہیں۔
ہم مائیں یہ بھول جاتی ہیں کہ سجا سنورا بچہ ماؤں کو اور لوگوں کو دکھای دیتا ہے اور گندی مندی خود سے لاپرواہ ماں بچے کو۔تو وہ دراصل سجنا سنورنا نہیں سیکھ رہا ،گندا اور لاپرواہ رہنا سیکھ رہا ہے۔
ہم اس پر وہ ساری محنت کر رہی ہیں جسکا آنے والے وقت میں کوی حاصل نہیں۔زرا سا وہ آپکی گود سے نکلا اور پھر آپ ڈنڈا لیکر بھی اسے سکھائیں،سیکھ نہیں پاتا۔
یہی غلطی میں نے کی۔فاریہ کی بار خوب داد سمیٹی ،خوبصورت صاف ستھرے بچے کی،اسے سجا سنوار کر کسی ڈیکوریشن پیس کی طرح ایوارڈ بنا کر ہر جگہ سر اٹھاے پھرتی ۔اب وہی فاریہ باتھ لینے کو ہلتی نہیں۔
"فری نہا لے! نہا لے!"
ایک بار کہا ،دس بار،فاریہ ہلتی نہیں۔میں بول بول تھک جاتی ہوں۔کبھی جا کر اسکے سر پر کھڑے ہو جاتی ہوں ڈانٹ ڈپٹ کر،دھمکیاں دے کر ڈرا دھمکا کر گھسیٹ کر باتھ روم میں لاتی ہوں جہاں سے وہ چند منٹ میں نہا کر نکل آتی ہے، ڈھنگ سے نہاتی تک نہیں۔
۔سکول سے آ کر نائٹ پاجامہ پہنے سارا دن پھرتی ہے،بغیر کنگھی کے،بغیر منہ دھوے۔اپنے تصورات میں شاید وہ فخر سے اپنی ماں کی کاپی کرتی ہے اور ماں۔۔۔سوچ سوچ کڑھتی ہے کہ میری بیٹی ناز انداز کب سیکھے گی؟
اس بیٹی کو کیسے سجا سنوار کر رکھتی تھی جو اب کنگھی بھی ڈھنگ سے کر نہیں پاتی۔یہی حال آمنہ کا۔وہ خوبصورت پیارے پیارے بچے بڑے ہوتے جاتے ہیں اور میلے کچیلے رہنے لگتے ہیں بالکل ہم ماؤں کی طرح۔
پھر ہم مائیں چیختی چلاتی ہیں کبھی اپنا سر پیٹتی ہیں کبھی بچوں کی شامت بلاتی ہیں۔تو پھر چلا چلا کر پاگل کیوں نہ ہوں۔بلڈ پریشر اور شوگر کیوں نہ بڑھے۔اپنی دانست میں گلاب بوۓ تھے پر کاٹنے کے وقت سب خار نکلے۔
ہمیں جو اک بنیادی بات کوی سمجھا دیتا کہ جو ماں کرے گی بچے نے وہ سیکھنا ہے،کہ سب سے پہلے اپنے آپ کا خیال رکھنا ہی بہترین تربیت ہے تو زندگی کتنی خوبصورت ہوتی۔نہیں! ہمیں تو کہا جاتا ہے"مائیں تو اپنا آپ وار جاتی ہیں"
مائیں تو کھانا پینا بھول جاتی ہیں۔
ہاے ہاے_____ وہ تو بچوں کو چھوڑ کر پہلے خود کھانے بیٹھ جاتی ہے,اتنی ندیدی ہے"۔۔۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ جیسے سو طرح کے سو زبانوں اور لہجوں میں ایک ہی مفہوم والے فقرے جو کہتے ہیں چل قربانی کی گاے سُولی چڑھ!!!اور ایسا کہتے کسی کو ادراک بھی نہیں ہوتا کہ اک ماں کو سولی چڑھا کر آپ نے اپنی پوری نسل کا بیڑہ غرق کر دیا۔
خود کو کاموں میں کھپا دینا،تابعداری میں جوت دینا،مٹی مٹی کر لینا جتنا آسان ہے اتنا ہی کٹھن بھی ہے،خصوصا آپکے میرے جیسی پڑھی لکھی ماؤں کے لئے،جنہوں نے اک لمبے عرصے تک زندگی برتنے کے روائتی حساب نہ سیکھے ہوں،جنکی آنکھوں نے اجلے اجلے رنگ برنگے خواب دیکھے ہوں، ،جنکے تخیل نے تتلیوں اور جگنوؤں کو سوچا اور بارشوں کو چاہا ہو اور زندگی کے ہر خوبصورت موسم سے جی بھر کر محبت کی ہو۔
ہم ماؤں کے مسائل ہماری ان ماؤں سے مختلف ہیں جنہیں گھروں کے اندر اک محدود سی دنیا کے اندر محدود سوچ کے ساتھ پروان چڑھایا گیا تھا۔
ہم تو باغوں میں پھرنے والی تتلیاں تھیں جنہوں جارمیں بند کر کے کچن کی شیلف پر دھر دیا جاتا ہے اس آس میں کہ یہ اب اڑنا چھوڑ کر رینگنا سیکھ لیں گیں۔
اور آفریں ہے ہماری ساری عقلوں اور کتابوں پر کہ ہم سیکھ بھی جاتی ہیں۔
کیوں؟
کیونکہ آج بھی ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ اصغری اکبری کی داستان میں سے اصغری کی کہانی ہی ہر لڑکی کا آئیڈیل اور ہر گھر کی ملکہ کو ہونا چاہیے۔
گھسے پٹے رستے پر چل کے پھر وہی گھسی پٹی منزل!!!!
دنیا کو سمجھانے سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا خود اپنے دماغوں کو یہ بتانا بہت ضروری ہے کہ میرا مسکرانا،ہنسنا بولنا،خود سے پیار کرنا میرا حق اور فرض ہے خود غرضی نہیں۔مجھ پر میری زندگی کا بھی قرض ہے جو مجھے چکانا ہے۔اور یہی وہ سب سے بہتر تربیت ہے جو میں اپنی نسل کو دے سکتی ہوں۔
میں نے بھی خود کو زندگی کی ہر روائتی چکی میں پیس کر دیکھا ہے،ساری کتابوں کو چھان پھٹک کر انکے علم کو آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ کہی سنی باتوں اور اصل زندگی کے حقائق میں کسقدر گھمبیر فرق ہے۔
ہم پیرنٹنگ کے علم سے عاری لڑکیاں مائیں بنتی ہیں تو ہر علم آزماتی ہیں جو ہمیں ہر گلی ہر نکڑ پر پڑا مل جاے،کوی بتا دے،کہیں سے سن لیں حالانکہ اس میں سے بہت کم مفید ہوتا ہے باقی سب چھان بورا ہوتا ہے
۔اب یہ جو بلاگ لکھنے کا اک سلسلہ ہے یہ میرے پیرنٹنگ کے دنوں کا پہلا خواب ہے جسکو گھسیٹ گھسیٹ کر آخر میں لے آی ہوں۔دیر کر دی میں نے بھی زندگی سے یہ اخز کرتے کرتے ۔اب چاہتی ہوں کوی اور ممی اسی دریا کو پار کرنے میں اتنے کٹھن مراحل سے نہ گزرے۔
_______________
ممی کی ڈائری
تحریر:
ممی
(صوفیہ کاشف )
یہ صوفیہ کاشف کی آپ بیتی نہیں ہے بلکہ ایک ادبی روداد نویسی ہے جو تجربات اور مشاہدات کے ساتھ فرضی ممی کی طرف سے " ممی کی ڈائری" کے عنوان سے ایک ادبی رسالے کے لئے لکھی گئی تھی۔)
Copied
— 30th Day (GRAND FINALE!)
🏆 مبارک ہو! آپ نے کر دکھایا!
آج 30 دن کا وہ چیلنج مکمل ہو گیا ہے جو آپ نے ایک خواب سے شروع کیا تھا۔ 30 دن کی مسلسل محنت، واک، پانی کا ہدف، پرہیز اور سیلف کیئر کے بعد آج آپ ایک نيا اور پراعتماد ورژن بن چکے ہیں!
📋 آج کے ٹاسکس (Day 30 - Victory Day):
🏋️♂️ ویٹ لاس اور فٹنس:
فائنل میژرمنٹ (Final Weight & Inches Check): آج صبح نہار منہ اپنا وزن کریں اور پیٹ/کمر کے انچز ناپیں۔ پہلے دن کے رزلٹ سے موازنہ کریں!
ایکٹو ڈے: آج 30 منٹ کی واک کریں اور اس صحت مند زندگی کو اپنا مستقل لائف سٹائل بنانے کا عزم کریں۔
پانی کا ہدف: 3.5 سے 4 لیٹر پانی ہمیشہ کی طرح جاری رکھیں۔
💅 گرومنگ اور سیلف کیئر:
جشن اور فائنل لک (Victory Look): آج اپنا سب سے پسندیدہ ڈریس پہنیں، بالوں کو پرفیکٹ سیٹ کریں، اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنی فائنل تصویر لیں۔
سیلف اپریشین (Self-Appreciation): شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کو شاباش دیں اور اپنی اس کامیابی پر فخر محسوس کریں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Website
Address
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Natural Skincare Tips posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
