Ruhani Care Centre

Ruhani Care Centre

Share

Tibb O Hikmat & Islamic spiritual healing

29/07/2026

Jaali Peer Aur Dhongi Baba Ka Sach | Ilm-e-Ghaib Aur Istikhara

16/07/2026

Barakah Wazifa | Powerful Islamic Wazifa for Home & Business | Remove Negativity

16/06/2026

سال میں بارہ مہینوں کا تقرر کسی انسان کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ جس دن سے اللہ تعالی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اسی دن سے سال کے بارہ مہینہ مقرر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالٰیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةًؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ (سورہ التوبہ، آیت: 36)

قمری یعنی اسلامی سال کا آغاز محرم الحرام کے مہینہ سے ہوتا ہے محرم کو محرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں جنگ و قتال حرام ہے۔
محرم الحرام یہ مہینہ چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے اس مہینہ کی عظمت زمانہ جاہلیت میں یوں تھی کہ لوگ اس مہینہ میں جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے اجتناب کرتے تھے اور اسلام نے اسے برقرار رکھا۔ یہ مہینہ انتہائی فضیلت و عظمت اور عزت و برکت والا مہینہ ہے اس مہینہ کو تاریخ عالم اور تاریخ اسلام سے ایک خاص نسبت حاصل ہے سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرامین مبارکہ نے اس مہینہ کی عظمت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

*محرم الحرام اور روزہ:* اس ماہ مبارک میں روزوں کا بہت زیادہ ثواب ہے حدیث پاک میں آتا ہے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: محرم الحرام کے ہر دن کا روزہ ایک ایک ماہ کے برابر ہے۔ (معجم صغیر ،جزء 2، صفحہ: 71)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں: رمضان کے بعد محرم کا روزہ افضل ہے اور فرض کے بعد افضل نماز رات کے نوافل ہیں۔ (مسلم، کتاب الصیام، باب فضل صوم المحرم، حدیث، 1163)

قارئین کرم! محرم الحرام کس قدر عظمت و برکت والا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں روزوں کی کیسی فضیلت ہے بالخصوص عاشورہ کے روزہ کی، اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں اس مہینہ کی برکت و فضیلت سے مالا مال فرمائے۔ آمین
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن ہشام رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ نئے سال یا مہینے کی آمد پر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اَللّٰهُمَّ اَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ وَرِضْوَانٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ وَجَوَازٍ مِّنَ الشَّيْطَان۔ (معجم اوسط، من اسمہ محمد، 4 / 360، حدیث: 6241)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت سیِّدُنا طلحہ بن عُبیدُاللہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ جب حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چاند دیکھتے تو یوں دعا پڑھتے: اَللّٰهُمَّ اَهْلِلْهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْاِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّه (ترمذی، كتاب الدعوات، باب ما یقول عند رویۃ الھلال، 5 / 281، حدیث: 3462)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محرّم الحرام کا چاند دیکھ کر یہ دعا پڑھئے: مَرْحَبًا بِالسَّنَۃِ الْجَدِیْدِ وَالشَّھْرِ الْجَدِیْدِ وَالْیَوْمِ الْجَدِیْدِ وَالسَّاعَۃِ الْجَدِیْدِ مَرْحَبًا بِالْکَاتِبِیْنَ الشَّاھِدِیْنَ اَکْتَبَا فِی صَحِیْفَتِی بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہ لَاشَرِیْکَ لَہ وَ اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ وَرَسُوْلُہ وَاَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ وَاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ لَّارَیْبَ فِیْھَا وَاَنَّ اللہَ یَبْعَثُ مَنْ فِیْ القُبُوْر۔ (لطائف اشرفی، 2 / 226)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*محرم الحرام کی پہلی رات کے نوافل:* ماہِ محرم الحرام کی پہلی شب دو دو کر کے چھ رکعت یوں ادا کیجئے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد پندرہ بار سورۂ اخلاص اور ایک قول کے مطابق سات بار پڑھے اور ہر دو رکعت کے بعد یہ پڑھئے: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَّبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوح۔ (مرقع كليمی، 186)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محرّمُ الحرام کی پہلی رات دو رکعت یوں ادا کیجئے کہ سورۂ فاتحہ کے بعد گیارہ بار سورۂ اخلاص پڑھئے اور سلام کے بعد یہ پڑھئے: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَّبُّنَا وَرَبُّ الْمَلٰئِکَۃِ وَالرُّوح اس نماز کا بھی بہت ثواب ہے۔ (رکن دین، ص160)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تمام سال حفاظت اور برکت:* یکم محرم شریف کے دن دو رکعت نماز نفل پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین بار سورۃ الاخلاص پڑھے۔ سلام کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ اَنْتَ اللّٰہُ الْاَبَدُ الْقَدِیْمُ ہٰذِہ سَنَہٌ جَدِیْدَۃٌ اَسْئَلُکَ فِیْہَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ وَالْاَمَانَ مِنَ السُّلْطَانِ الْجَابِرِ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَّمِنَ الْبَلَاءِ وَ الْاٰفَاتِ وَاَسْئَلُکَ الْعَوْنَ وَالْعَدْلَ عَلٰی ہٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِشْتِغَالِ بِمَا یُقَرِّبُنِیْ اِلَیْکَ یَا بَرُّ یَا رَءُوْفُ یَا رَحِیْمُ یَا ذَالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔
جو شخص اس نماز کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اوپر دو فرشتے مقرر فرمادے گا تاکہ وہ اس کے کاروبار میں اس کی مدد کریں۔ اور شیطان لعین کہتا ہے کہ افسوس میں اس شخص سے تمام سال ناامید ہوا۔ (فضائل الایام والشہور ، صفحہ ٢٦٨، ٢٦٩)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*دعائے محرم الحرام:* پہلی محرم الحرام کو جو یہ دعا پڑھے تو شیطانِ لعین سے محفوظ رہے اور سارا سال دو فرشتے اس کی حفاظت پر مقرر ہوں گے۔ دعا یہ ہے:
اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الْاَبَدِیُّ الْقَدِیْمُ وَہٰذِہ سَنَۃٌ جَدِیْدَۃٌ اَسْئَلُکَ فِیْہَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطٰنِ وَاَوْلِیَائِہ وَالْعَوْنَ عَلٰی ہٰذِہِ النَّفْسِ الْاَمَّارَۃِ بِالسُّوْءِ وَالْاِ شْتِغَالَ بِمَا یُقَرِّ بُنِیْ اِلَیْکَ یَا کَرِیْمُ (فضائل الایام الشہور صفحہ ٢٦٧، بحوالہ نزہۃ المجالس)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت شاہ کلیمُ اللہ شاہ جہاں آبادی رَحمَۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو کوئی بارہ مرتبہ یہ دُعا: سُبْحٰنَ اللّٰہِ مِلْءَ الْمِیْزَانِ وَمُنْتَھَی الْعِلْمِ وَمَبْلَغَ الرِّضا وَزِنَۃَ الْعَرْشِ لَامَلْجَاءَ وَلَا مَنْجَامِنَ اللّٰہِ اِلَّا اِلَیْہِ سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَدَدَ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَعَدَدَ کَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّاتِ کُلِّہَا اَسْاَلُہُ السَّلَامَۃَ بِرَحْمَتِہٖ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ وَہُوَ حَسْبِیْ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ نِعْمَ الْمَوْلٰی وَ نِعْمَ الْنَصِیرُ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہِ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْن“ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پی لے تمام تکلیفوں اور آفتوں سے اللہ پاک کی حفاظت میں رہے گا۔ (مرقع کلیمی، ص187)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ سال بھر کسی قسم کی کوئی پریشانی، کوئی مصیبت آپ پر اپنا منحوس سایہ نہ پھیلائے، کوئی دشمن آپ پر جادو، جنات، تنتر، منتر کا وار نہ کر سکے، کسی ظالم کو آپ پر ظلم و زیادتی کرنے کی ہمت نہ ہو تو اسلامی سال کے پہلے دن (یعنی محرم الحرام کی پہلی تاریخ کو) تین سو ساٹھ (360) مرتبہ آیتہ الکرسی پڑھیں اور اول و آخر گیارہ گیارہ بار کوئی بھی درود شریف پڑھیں، تین سو ساٹھ مرتبہ آیتہ الکرسی پڑھنے کے بعد اس دعا کو پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ یَا مُحَوِّلَ الْاَحْوَال، حَوِّلْ حَالِیْ اِلٰی اَحْسَنِ الْاَحْوَال، بِحَوْلِکَ وَ قُوَّتِکَ یَا کَبِیْرُ یَا مُتَعَالُ یَا عَزِیْزُ یَا مِفْضَالُ، وَ صَلَّی اَللّٰهُ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِِ وَّ عَلٰی آلِہ وَ صَحْبِہ وَ سَلِّمَ۔
🖋️: روحانی و جسمانی معالج حکیم صوفی زبیر زاہد قادری

11/06/2026

آج مغرب کی نماز کے بعد اپنے گھر کی چھت سے آسمان کا ایک نہایت دلکش اور روح پرور منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ مغربی افق پر دو انتہائی روشن کواکب زہرہ (Venus) اور مشتری (Jupiter) ایک دوسرے کے قریب جلوہ گر تھے۔ علمِ نجوم میں اس فلکی اجتماع کو قرانِ سعدین (Conjunction of the Two Benefics) کہا جاتا ہے۔

علمِ نجوم کی اصطلاح میں جب دو کواکب قران (Conjunction) کی حالت میں آ جائیں، یعنی زمین سے دیکھنے پر ایک دوسرے کے انتہائی قریب دکھائی دیں، تو اس کیفیت کو قران کہا جاتا ہے۔ اگر یہ اجتماع زہرہ اور مشتری کے درمیان ہو تو اسے قرانِ سعدین کہا جاتا ہے، کیونکہ عاملین کے نزدیک مشتری سعدِ اکبر (Greater Benefic) اور زہرہ سعدِ اصغر (Lesser Benefic) شمار ہوتے ہیں۔

عاملین کے نزدیک قرانِ سعدین کو نہایت مبارک اور بابرکت اوقات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ وقت خیر، برکت، کشائشِ رزق، عزت، قبولیت، روحانی ترقی، سعادت، کامیابی اور حصولِ مراد سے متعلق امور کے لئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے عاملین اس موقع پر دعاؤں، اذکار، صدقہ و خیرات، شکرِ الٰہی اور خیر و برکت سے متعلق روحانی مشاغل کا اہتمام کرتے ہیں۔

عاملین کا یہ بھی ماننا ہے کہ مشتری (Jupiter) وسعت، حکمت، دولت، برکت، علم اور سعادت کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ زہرہ (Venus) محبت، الفت، حسن، قبولیت، خوش حالی اور باہمی موافقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ جب یہ دونوں سعد کواکب ایک مقام پر جمع ہوتے ہیں تو ان کی منسوب صفات بھی یکجا ہو جاتی ہیں، اسی لئے اس اجتماع کو علمِ نجوم میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

فلکیاتی اعتبار سے قرانِ سعدین (Planetary Conjunction) ایک نہایت خوبصورت آسمانی منظر ہے۔ اگرچہ مشتری اور زہرہ کے درمیان حقیقت میں کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ موجود ہوتا ہے، لیکن زمین سے مشاہدہ کرنے والے کو یہ دونوں ایک دوسرے کے انتہائی قریب دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے مناظر انسان کو کائنات کے حیرت انگیز نظم، اجرامِ فلکی (Celestial Bodies) کی منظم گردش اور خالقِ کائنات کی بے مثال قدرت کا احساس دلاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ﴾

ترجمہ: "بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلیوں میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔"
📖 سورۂ آلِ عمران، آیت 190

مزید ارشاد فرمایا:
﴿وَهُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ الشَّمۡسَ ضِیَآءً وَّالۡقَمَرَ نُوۡرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِیۡنَ وَالۡحِسَابَ﴾

ترجمہ: "اور وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا بنایا اور چاند کو روشن اور اس کے لئے منزلیں مقرر فرمائیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان سکو۔"
📖 سورۂ یونس، آیت 5

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

﴿تَبٰرَكَ الَّذِیۡ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوۡجًا وَّجَعَلَ فِیۡهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِیۡرًا﴾

ترجمہ: "بڑی برکت والا ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں چراغ اور چمکتا چاند رکھا۔"

📖 سورۂ الفرقان، آیت 61

یہ آیاتِ مبارکہ ہمیں دعوت دیتی ہیں کہ ہم آسمانوں، ستاروں، سیاروں، بروج اور کائنات کے نظام میں غور و فکر کریں اور ان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی نشانیاں تلاش کریں۔

#فلکیات

11/06/2026

یہ سوال نہ صرف عام لوگوں کے ذہنوں میں ہے بلکہ بعض پڑھے لکھے اور دیندار افراد کے دلوں میں بھی کبھی نہ کبھی یہ الجھن ضرور پیدا ہوتی ہے۔ اس لئے اس سوال کا مفصل، علمی اور دیانت دارانہ جواب دینا نہایت ضروری ہے۔

سب سے پہلے یہ حقیقت ذہن میں راسخ ہونی چاہیے کہ شفا نہ کسی ڈاکٹر کے ہاتھ میں ہے، نہ کسی دوا میں، اور نہ کسی عامل یا تعویذ میں۔ شفا صرف اللہ ربّ العزت کی طرف سے ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

> *وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ*
> "اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
> (سورۃ الشعراء: ۸۰)

غور فرمائیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ "دوا شفا دیتی ہے، بلکہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف شفا کو منسوب فرمایا۔

اسی طرح نبیِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

> *مَا أَنْزَلَ اللَّهُ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً*
> "اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں اتاری مگر اس کی شفا بھی اتاری ہے۔" (صحیح البخاری)

اسلامی عقیدے کے مطابق دنیا میں ہر کام اسباب کے ذریعے ہوتا ہے، مگر اسباب خود مستقل طور پر اثر پیدا نہیں کرتے۔ اسباب میں اثر پیدا کرنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے جسے "مسبب الاسباب" کہا جاتا ہے۔

- آگ جلاتی ہے مگر جلانے کی قوت اللہ نے دی ہے
- پانی بجھاتا ہے مگر بجھانے کی طاقت اللہ نے دی ہے
- دوا شفا دیتی ہے مگر شفا کی تاثیر اللہ نے ودیعت کی ہے
- دعا اثر کرتی ہے مگر اثر کرنے کی قوت اللہ نے عطا کی ہے

لہٰذا *ڈاکٹر، دوا، عامل، تعویذ، دعا سب اسباب ہیں* شافی صرف اللہ ربّ العزت ہے۔

ذرا تصور کریں کہ ایک ناخواندہ شخص جس نے کبھی طب نہیں پڑھی، کسی مریض کے سامنے آ کر کہے:
> "میں تمہارا آپریشن کروں گا۔"

اگر وہ آپریشن کرے اور مریض مر جائے تو کیا ہم کہیں گے کہ "آپریشن بے فائدہ چیز ہے"؟
ہرگز نہیں!
ہم کہیں گے کہ یہ شخص اس کام کا اہل نہیں تھا۔

اب یہی منطق روحانی علاج پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

روحانی علاج ایک مستقل فن

روحانی علاج کوئی بچوں کا کھیل نہیں جو کوئی بھی انجام دے سکے۔ یہ ایک ایسا علم ہے جس کے لئے درج ذیل چیزیں لازمی ہیں:

*قرآن و سنت کا علم*
روحانی علاج کا سب سے پہلا اور لازمی ستون قرآنِ کریم اور سنتِ نبویﷺ کا علم ہے۔ جو شخص قرآنی آیات کے معانی، مفہوم اور ان کے روحانی اثرات سے ناواقف ہو، وہ انہیں بطورِ شفا استعمال نہیں کر سکتا۔

*تزکیۂ نفس اور روحانی پاکیزگی*
روحانی اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معالج کا اپنا باطن پاک ہو۔ جس دل میں کینہ، حسد، غرور اور گناہوں کی آلودگی ہو، اس سے روحانی تاثیر ظاہر نہیں ہوتی۔

*ریاضت اور مشق*
ہر فن کی طرح روحانی علاج میں بھی ریاضت اور مسلسل مشق ضروری ہے۔

*مستند استاد کی سرپرستی*
جس طرح طب کی تعلیم کسی ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں ہوتی ہے، اسی طرح روحانی علم کے لئے بھی کسی صاحبِ نسبت اور صاحبِ فن عالم کی سرپرستی لازمی ہے۔

*آج کے دور کا اصل المیہ*

موجودہ دور میں روحانی علاج معالجہ کے میدان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر طرف *خود ساختہ عاملین* کی بھرمار ہے۔ کسی نے بازار سے کوئی پرانی کتاب خرید لی، چند عملیات رٹ لیے، اخبار یا سوشل میڈیا پر اشتہار دے دیا بس وہ عامل بن گیا۔

ان لوگوں میں عموماً درج ذیل خامیاں ہوتی ہیں:

- *نہ علم ہے:* قرآنی آیات کے معانی تک معلوم نہیں
- *نہ تربیت ہے:* کسی مستند استاد سے کبھی نہیں سیکھا
- *نہ تقویٰ ہے:* گناہوں میں ملوث، نمازوں سے غافل
- *نہ اخلاص ہے:* صرف پیسہ کمانا مقصود ہے
- *نہ ریاضت ہے:* محنت اور عبادت سے دور ہیں
ایسے لوگ جب ناکام ہوتے ہیں اور ناکام ہوتے ضرور ہیں تو عوام میں یہ پیغام پھیلتا ہے کہ *"روحانی علاج بے کار ہے۔"*

*جعل سازی اور ٹھگی*
بدقسمتی سے اس میدان میں کچھ لوگ خالص ٹھگ اور دجّالی فتنے کے شکار ہیں جن کا مقصد لوگوں کو بے وقوف بنا کر پیسہ اینٹھنا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف اس فن کو بدنام کرتے ہیں بلکہ معصوم لوگوں کو مالی، ذہنی اور جذباتی نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

اسلام نے ایسے لوگوں کے بارے میں سخت وعید بیان کی ہے اور انہیں دھوکہ باز قرار دیا ہے۔

*حقیقی اہلِ فن کی تاثیر*
تاریخِ اسلام میں اہل اللہ اور ماہرینِ روحانیات کے ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جو روحانی علاج کی حیرت انگیز تاثیر پر گواہ ہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دم سے زہر کا علاج کیا، جسے نبیِ کریم ﷺ نے نہ صرف جائز قرار دیا بلکہ اجر کا باعث بھی بتایا۔

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا وہ مشہور واقعہ صحیح بخاری میں موجود ہے جب انہوں نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر ایک سردار کو ڈسنے سے شفایاب کیا۔ نبیِ کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا:

> *وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ*
> *"تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورۃ الفاتحہ) دم ہے؟"*

اور پھر آپﷺ نے اس عمل کو درست قرار دیا۔

آج بھی دنیا میں ایسے صاحبِ علم اور صاحبِ تقویٰ حضرات موجود ہیں جن کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے روحانی علاج کے ذریعے ایسے نتائج ظاہر فرمائے ہیں جن کی کوئی طبی توجیہ نہیں۔ یہ واقعات ہزاروں لوگوں نے خود مشاہدہ کئے ہیں۔

*دونوں طریقۂ علاج کا صحیح موازنہ*
کیا روحانی علاج طبی علاج کا متبادل ہے؟

یہ ایک اہم سوال ہے۔ اسلام کا موقف اعتدال کا ہے۔ نبیِ کریم ﷺ نے خود علاج کروایا اور فرمایا:

> *تَدَاوَوْا عِبَادَ اللَّهِ*
> *"اے اللہ کے بندو! علاج کرو۔"*
> (ابو داود، ابن ماجہ)

اس سے معلوم ہوا کہ طبی علاج کو ترک کرنا اسلام کی تعلیم نہیں۔

لیکن ساتھ ہی آپﷺ نے رقیہ (دم) کو بھی نہ صرف جائز بلکہ خود اپنے گھر والوں پر دم فرمایا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ روحانی اور طبی علاج ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے *معاون* ہیں۔ بعض امراض بنیادی طور پر روحانی ہوتے ہیں جیسے جادو، نظرِ بد، جنّاتی اثرات، جن کا طبی علاج ممکن نہیں۔ بعض امراض طبی ہوتے ہیں جن کا روحانی علاج کافی نہیں ہوتا۔ اور بعض امراض میں دونوں مل کر شفایابی کا ذریعہ بنتے ہیں۔

*روحانی علاج کی تاثیر کم کیوں دکھتی ہے؟*

اب مرکزی سوال کی طرف آتے ہیں۔ روحانی علاج کے نتائج ایلوپیتھک علاج جیسے فوری اور واضح کیوں نہیں دکھتے؟ اس کے کئی اسباب ہیں:

*۱۔ غیر مستند عاملین کی اکثریت*
جیسا کہ اوپر بیان ہوا، بیشتر عاملین اہل ہی نہیں ہوتے۔ ان کے اعمال کا نتیجہ نہ نکلنا لازمی ہے۔

*۲۔ مریض کا یقین اور توکل*
طبی تحقیق بھی ثابت کر چکی ہے کہ *"پلیسیبو ایفیکٹ"* یعنی یقین اور امید کا علاج پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ روحانی علاج میں بھی مریض کا یقینِ کامل شفا میں مددگار ہوتا ہے۔ جب مریض کے دل میں شک ہو تو شفا میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

*۳۔ اللہ کی حکمت*
کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کسی مریض کو فوری شفا نہیں دیتا کیونکہ بیماری میں اس کے لئے کوئی روحانی فائدہ پوشیدہ ہوتا ہے، گناہوں کی معافی ہوتی ہے یا درجات کی بلندی مقصود ہوتی ہے۔ یہ بات طبی علاج پر بھی یکساں لاگو ہوتی ہے۔

*۴۔ ایلوپیتھک علاج بھی ہمیشہ فوری نہیں ہوتا*
یہ بھی یاد رہے کہ ایلوپیتھک علاج بھی ہمیشہ فوری اور یقینی نہیں ہوتا۔ کینسر، ایڈز، بعض دل کی بیماریاں اور ہزاروں دیگر امراض کا طب کے پاس آج بھی کوئی یقینی علاج موجود نہیں۔ تو کیا ہم کہیں گے کہ طب ناکام ہے؟

*۵۔ معیارِ پیمائش کا فرق*
طبی علاج کے نتائج فوری اور مادی ہوتے ہیں، انہیں آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے۔ روحانی علاج کے اثرات بعض اوقات تدریجی اور باطنی ہوتے ہیں جو یکدم ظاہر نہیں ہوتے مگر اندر سے شفا کا عمل جاری ہوتا ہے۔

اس پوری بحث کا خلاصہ چند نکات میں یہ ہے:

> ✦ *شفا کا اصل مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے* نہ ڈاکٹر، نہ عامل

> ✦ *دونوں علاج اسباب ہیں* دونوں کو اپنے صحیح مقام پر رکھیں

> ✦ *روحانی علاج ایک مستقل فن ہے* جس کے لئے علم، تقویٰ، ریاضت اور اخلاص شرط ہے

> ✦ *نااہل عاملین کی ناکامی* روحانی علاج کی ناکامی نہیں ہے

> ✦ *جائز روحانی علاج قرآن و سنت سے ثابت* ہے اور اس کے نتائج باذنِ اللہ حیرت انگیز ہو سکتے ہیں

> ✦ *نہ غلو کریں، نہ انکار کریں* اعتدال ہی میں سمجھداری ہے

ایک مسلمان کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دنیا میں اسباب ضرور اختیار کئے جاتے ہیں، مگر دل کا تعلق ہمیشہ مسبب الاسباب یعنی *اللہ تعالیٰ* سے ہونا چاہیے۔ جو دل اسباب میں گم ہو جاتا ہے وہ حقیقت سے محروم رہتا ہے اور جو دل اسباب چھوڑ کر صرف توکل کا دعویٰ کرے وہ سنتِ نبویﷺ سے غافل ہے۔

کامل مسلمان وہ ہے جو *اسباب بھی اختیار کرے اور دل اللہ سے لگائے رکھے*

09/06/2026

نقشِ قلب برائے اصلاحِ قلب و اطفال
دل کی بیماریوں، ذہنی بے چینی، طبیعت کی بے اعتدالی اور بچوں کی تربیتی مشکلات نے آج بہت سے گھرانوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ خصوصاً ایسے بچے جو تعلیم سے دور بھاگتے ہوں، والدین کی نافرمانی کرتے ہوں، ضد، شرافت سے دوری یا بری صحبت کا شکار ہو چکے ہوں، ان کی اصلاح والدین کے لئے ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ اہلِ فن کے نزدیک بعض روحانی اعمال اور نقوش ایسے امور میں معاون اور مفید ثابت ہوتے ہیں، بشرطیکہ انہیں درست اصولوں، کامل یقین اور اللہ ربّ العزت پر بھروسے کے ساتھ انجام دیا جائے۔

یہ نقش قلب کی جملہ بیماریوں کے لئے مجرب المجرب، بارہا کا آزمودہ اور اہلِ فن کے نزدیک نہایت مؤثر شمار کیا جاتا ہے۔

اسی طرح وہ بچے جو پڑھائی میں دل نہ لگاتے ہوں، تعلیم سے جی چراتے ہوں، والدین کی نافرمانی کرتے ہوں، ضدی، شریر یا آوارہ مزاج ہو گئے ہوں، ان کے لئے بھی یہ عمل مفید اور بارہا کا تجربہ شدہ ہے۔

طریقۂ عمل یہ ہے کہ مذکورہ دونوں نقوش کو زعفران اور عرقِ بید مشک سے مناسب ساعت میں تحریر کیا جائے۔ ایک عدد نقش گلے میں پہنایا جائے اور اکیس (21) سے اکتالیس (41) دن تک روزانہ ایک عدد مسلسل دھو کر پلایا جائے۔

ان شاء اللہ عزوجل، اس عمل کے دوران بچوں کی طبیعت، عادات اور رویّوں میں مثبت تبدیلی ظاہر ہوگی، تعلیم کی طرف رغبت پیدا ہوگی، نافرمانی اور بے راہ روی میں کمی آئے گی، اور مذکورہ مقاصد کے حصول میں کامیابی نصیب ہوگی۔


یہ نقش دل کی کمزوریوں اور بچوں کی اصلاح و تربیت کے لئے اہلِ تجربہ کے نزدیک نہایت مفید اور آزمودہ عمل ہے۔ تاہم یاد رکھنا چاہئے کہ روحانی اعمال کے ساتھ حسنِ تربیت، محبت، نگرانی، دعا اور مناسب تعلیمی ماحول بھی ضروری ہیں۔ جب روحانی اور ظاہری اسباب کو یکجا اختیار کیا جائے تو باذنِ اللہ تعالیٰ بہتر اور دیرپا نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ ربّ العزت اس عمل کو قبول فرمائے، اولاد کو نیک، فرمانبردار اور کامیاب بنائے، اور ہر گھر کو سکون، خیر و برکت سے مالامال فرمائے۔
اللّٰہ ربّ العزت اپنے فضل و کرم سے اس عمل کو نافع، مؤثر اور ذریعۂ خیر و برکت بنائے۔ آمین۔

اگر آپ بھی ان مجرب نقوش گھر بیٹھے حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا اپنے روحانی و جسمانی مسائل کا مستند علاج کروانا چاہتے ہیں، یا روحانی و طبی علوم باقاعدہ سیکھ کر خود کے یا دوسروں کے لئے فائدہ مند بننا چاہتے ہیں، تو آج ہی **روحانی کیئر سینٹر** سے رابطہ فرمائیں۔

الحمدللہ! روحانی کیئر سینٹر میں قرآن و سنت کی روشنی میں روحانی رہنمائی، علاجِ معالجہ، مجرب نقوش و تعویذات، اور روحانی و طبی علوم کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اپنے مسائل کے حل، درست رہنمائی اور مستند روحانی علم کے حصول کے لئے ابھی رابطہ کیجئے۔

06/05/2026

آج کے دور میں لوگ اپنے مستقبل، قسمت اور غیبی امور جاننے کے لئے نجومیوں، جوتشیوں اور ستارہ شناسوں کی طرف بڑی تیزی سے مائل ہو رہے ہیں۔
کوئی ہاتھ دکھاتا ہے، کوئی زائچہ بنواتا ہے، اور کوئی ستاروں کے ذریعے اپنی زندگی کے فیصلے کرنے لگتا ہے۔

لیکن ذرا رک کر سوچئے…!
کیا واقعی کوئی انسان آپ کی قسمت اور غیب کو جان سکتا ہے؟

📖 اسلام اس بارے میں کیا تعلیم دیتا ہے؟

یاد رکھیں!
غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس اور اللّہ تعالیٰ کے فضل سے رسول اللہﷺ کے پاس ہے۔
کوئی نجومی، جوتشی یا عامل اس کا دعویٰ کرے تو وہ حقیقت میں ایک خطرناک گمراہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

⚠️ نجومیوں سے پوچھنے کی تین صورتیں
① اگر کوئی اس نیت سے نجومی کے پاس جائے کہ جو وہ بتائے گا وہی سچ ہے،
👉 تو یہ صریح کفر ہے۔

② اگر یقین تو نہ ہو، مگر دل میں رغبت اور شوق ہو اور اس سے پوچھے،
👉 تو یہ حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

③ اگر نہ یقین ہو اور نہ رغبت، بلکہ مذاق یا استہزاء کے طور پر ہو،
👉 تو یہ بھی ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے۔

⚖️ ایک اہم استثناء (Exception)

ہاں! اگر کسی مضبوط ایمان والے کا مقصد صرف نجومی کو عاجز کرنا ہو،
تو اس کی گنجائش ہے…
لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا ایمان اور عقیدہ انتہائی مضبوط ہو۔

ورنہ خطرہ یہ ہے کہ اگر نجومی کی کوئی بات بظاہر درست نکل آئے،
تو انسان اپنے ایمان کو نقصان پہنچا بیٹھتا ہے۔

📜 حدیثِ مبارکہ میں سخت تنبیہ
نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر نجومیوں کے پاس جانے سے منع فرمایا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
”جو کسی نجومی کے پاس جائے اور اس کی بات کو سچ مانے…
تو وہ اس چیز کا منکر ہو گیا جو محمدﷺ پر نازل کی گئی۔“
(سنن ابی داؤد)

🕌 اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی وضاحت
سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
✔ اگر نجومی کی بات کو حق سمجھا جائے
👉 تو یہ کفرِ صریح ہے

✔ اگر یقین نہ ہو مگر رغبت سے پوچھا جائے
👉 تو یہ گناہِ کبیرہ ہے اور
📌 چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی

✔ اگر مذاق کے طور پر کیا جائے
👉 تو یہ مکروہ اور حماقت ہے

🚫 اصل نقصان کیا ہے؟
نجومیوں کے پاس جانے سے:

❌ ایمان کمزور ہوتا ہے
❌ انسان اللہ پر بھروسہ چھوڑ دیتا ہے
❌ اور دھیرے دھیرے گمراہی میں داخل ہو جاتا ہے

🌟 صحیح راستہ کیا ہے؟
✔ اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ
✔ نماز، دعا اور استخارہ
✔ قرآن و سنت کی رہنمائی

یاد رکھیں!
جو کچھ ہونا ہے، وہ اللہ کے حکم سے ہی ہونا ہے
اور حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنے رب پر یقین رکھیں۔

ذرا سوچئے…!
جس رب نے آپ کو پیدا کیا، آپ کی تقدیر لکھی، آپ کے حال کو بھی جانتا ہے اور مستقبل کو بھی…
کیا اس کے ہوتے ہوئے کسی نجومی کے در پر جانا درست ہے؟
نجومی چند الفاظ بول سکتا ہے…
وہ آپ کو وقتی تسلی دے سکتا ہے…
لیکن نہ وہ تقدیر بدل سکتا ہے، نہ نقصان کو روک سکتا ہے، نہ نفع دے سکتا ہے۔
📌 حقیقت یہ ہے:
جو ہونا ہے وہ اللہ کے حکم سے ہی ہوگا…
اور جو نہیں ہونا، دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں کر سکتی۔
نجومی کے پاس جانا دراصل:
❌ اپنے رب پر اعتماد کم کرنا ہے
❌ اپنے ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے
❌ اور اپنے دل کو غیر اللہ سے وابستہ کرنا ہے
یاد رکھیں…
شیطان ہمیشہ آسان راستہ دکھاتا ہے،
اور نجومیوں کا راستہ بھی بظاہر آسان لگتا ہے…
مگر اس کے انجام میں اندھیرا، پریشانی اور نقصان ہوتا ہے۔
✔ اصل سکون اللہ کے ذکر میں ہے
✔ اصل رہنمائی قرآن میں ہے
✔ اور اصل کامیابی اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے میں ہے
اگر آپ کو کوئی پریشانی ہے…
تو نجومی کے پاس نہ جائیں
بلکہ اللہ کے در پر جھک جائیں
🤲 نوافل پڑھیں
📿 دعا کریں
📖 قرآن سے رہنمائی لیں
کیونکہ…
✨ اللہ کبھی اپنے بندے کو خالی نہیں لوٹاتا
💎 فیصلہ آج کریں
یا تو وقتی دھوکے کے پیچھے چلیں…
یا ہمیشہ کے سکون اور کامیابی کا راستہ اختیار کریں
👉 اپنے ایمان کی حفاظت کریں
👉 اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں

05/05/2026

اللہ پاک نےقراٰنِ کریم ہمارے لئے شِفا اور رحمت بنا کر اُتارا ہے، اِس بنا پر قراٰن کریم ہمارے جسم اور دل و روح سب کیلئے شفا ہے، اب چاہے بیماری ظاہری ہو یا باطنی، حسی ہو یا معنوی، اس کے خاتمے کیلئے قراٰنِ کریم بہترین دوا ہے۔

قراٰنِ کریم کے نزول کے زمانے کا جائزہ لیجئے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ اُس وقت جہالت و گمراہی کی وجہ سے کُفر و شرک اور دیگر کئی معاشرتی بُرائیوں نے وبا کی صورت اختیار کی تو ایسے موقع پر آیاتِ قراٰن رحمت و شِفا بَن کر اُتریں، جس جس نے درس گاہِ نبوت میں بیٹھ کر رحمتِ قراٰن سے فائدہ اُٹھایا اُس کا شمار ”انعام یافتہ بندوں“ میں ہوا اور اُسے ہدایت و راہنمائی کے لئے مینارۂ نور قرار دیا گیا۔

عہدِ رسالت ہی سے دکھوں اور ظاہری بیماریوں کے لئے قراٰنِ حکیم کو بہترین دَوا کے طور پر متعارف (Introduce) بھی کروایا گیا اور اِس سے علاج کرنے کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا، عہد رسالت کے پانچ واقعات ملاحظہ کیجئے:

① فرمانِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہے: سورۂ فاتحہ ہر مرض کی دوا ہے۔ اس سورہ کا ایک نام ”شافیہ“ اور ایک نام ”سورۃُ الشفاء“ہے، اس لئے کہ یہ ہر مرض کے لئے شفاء ہے۔

صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کا ایک قافلہ عرب کے کسی قبیلے میں گیا تو اِسی دوران قبیلے کے سردار کو بچھو نے ڈنک مار دیا، ایک صحابی نے درد والی جگہ پر اپنا لُعاب لگایا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر دَم کیا تو دَرد فوراً ختم ہوگیا۔

② ایک شخص نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حَلْق یعنی گلے میں درد کی شکایت کی تو آپ نے اِرشاد فرمایا: قراٰن پڑھنا اختیار کرو۔

③ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کو تم دنیاوی پریشانی یا مصیبت کے وقت پڑھو تو وہ پریشانی دور ہوجائے؟ عرض کی گئی جی ہاں یارسولَ اللہ ضرور بتائیے! تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: وہ حضرت یونس کی دعا ”لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْن“ ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ یہ آیۂ کریمہ: ”لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنْتَ سُبْحَانَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْن“اسمِ اعظم ہے اس کے ساتھ جو بھی دعا کی جاتی ہے وہ قبول ہوتی ہے۔ یہ قراٰنی دُعا آیتِ کریمہ کہلاتی ہے اور بلاؤں کے خاتمے کے لئے بہت مفیدہے۔

④ حضرت عبد الله بن مسعود رضی اللہُ عنہ کے دَم کرنے سے ایک بیمار کوآرام آگیا۔ رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے آپ سےفرمایا: اُس کے کان میں کیا پڑھا؟ تو آپ نے سورۂ مُؤمِنون کی آیت 115 تا اختتام تک سنادی۔ ارشاد فرمایا: یقین رکھنے والاشخص اِسے پڑھ کر پہاڑ پر دم کردے تو وہ بھی ریزہ ریزہ ہوجائے۔

⑤ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہُ عنہا فرماتی ہیں: جس مرض میں رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی روح قبض کر لی گئی تھی، اس مرض میں آپ سورۂ فَلَق اور سورۂ نَاس پڑھ کر اپنے اوپر دَم فرماتے تھے اور جب طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو میں وہ سورتیں پڑھ کر آپ پر دَم کیا کرتی اور خود آپ کے ہاتھ کو پھیرتی کیونکہ وہ (میرے ہاتھ سے زیادہ) بابرکت ہے۔

قراٰنِ کریم سے علاج کی چند شرائط: اَوراد و وظائف پڑھنے کی شرائط میں سے سات شرطیں نہایت ہی اہم اور ضروری ہیں، ان کے بغیر قراٰنی اعمال سے فوائد حاصل ہونےمیں کمی آسکتی ہے۔ وہ شرائط یہ ہیں:

① حلال لقمہ کھانا اور حرام غذاؤں سے بچنا۔

② سچ بولنا اور جھوٹ سے ہمیشہ بچتے رہنا۔

③ نیت کو درست اور پاکیزہ رکھنا کہ ہر نیکی اللہ کریم ہی کے لیے کرنا۔

④ شریعت کے احکام کی پوری پوری پابندی کرنا۔

⑤ اللہ کریم کے دِین کے سُتونوں مثلاً قرآن، کعبہ، نبی، نماز وغیرہ کی تعظیم اور بزرگانِ دِین کا ہمیشہ ادب و احترام کرنا۔

⑥ جو وظیفہ بھی پڑھیں دل کی حضوری (یعنی مکمل توجہ) کے ساتھ پڑھنا۔

⑦ جو عمل اور وظیفہ پڑھیں اس کی تاثیر پر پورا پورا یقین اور پختہ عقیدہ رکھنا۔ اگر شک و شبہ ہوا تو وظیفہ یا عمل میں اثر نہ رہے گا۔

اللہ کریم، قرآن پاک کی برکات سے ہمیں فیضیاب فرمائے، اور ہر قسم کی روحانی و جسمانی بیماریوں سے محفوظ رکھے آمین بجاہ النبی الامین صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

موجودہ دور میں علم حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکا ہے، لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ مہنگی فیسوں نے علم کو عام انسان کی پہنچ سے دور کر دیا ہے۔

خاص طور پر روحانی علاج معالجہ کے میدان میں یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔
یہاں علم کم اور تجارت زیادہ نظر آتی ہے، یہاں تک کہ ایک ایک وظیفہ کی اجازت کے لئے ہزاروں روپے وصول کئے جاتے ہیں۔

سوچئے…!
ایک عام آدمی کہاں سے یہ فیس ادا کرے؟

نتیجہ یہ کہ:
❌ مساجد کے ائمہ
❌ مدارس کے علماء
❌ اور عام متوسط طبقہ
اپنی محدود آمدنی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے اس قیمتی علم سے محروم رہ جاتے ہیں۔

حالانکہ یہی وہ علم ہے جس کے ذریعے:
✔ دکھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے
✔ پریشان حال لوگوں کی مشکلات دور کی جا سکتی ہیں
✔ اور دین کی حقیقی خدمت کی جا سکتی ہے

اگر آپ واقعی لوگوں کے کام آنا چاہتے ہیں…
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس ایسا علم ہو جو آپ کی اور دوسروں کی زندگی بدل دے…

تو اب مزید انتظار نہ کریں۔
اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ”روحانی کیئر سینٹر“ کی جانب سے ایک عظیم اور بابرکت قدم اٹھایا گیا ہے۔

جہاں آپ کو روحانی علاج معالجہ کا مکمل علم
قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کی مستند تعلیمات کی روشنی میں
نہایت آسان، جامع اور عملی انداز میں سکھایا جائے گا۔

📚 کورس میں شامل اہم موضوعات:
① علم الجفر
② علم الاعداد
③ علم النجوم
④ علم النقوش
⑤ علم الساعات
⑥ علم الصدقات
⑦ علم التکسیر
⑧ علم زکوٰۃ و ریاضت
⑨ علم الامراض
⑩ علم التشخیص
⑪ علم العلاج
⑫ علم الحصار
⑬ بخور بنانے کے طریقے
⑭ روحانی اور جسمانی بیماریوں کی بنیادی باتیں
⑮ روحانی علاج کرنے کا قرآن و حدیث سے ثبوت
⑯ روحانی اور جسمانی بیماریوں کے تشخیص کا طریقہ
⑰ استخارہ کے آسان اور مجرب طریقے
⑱ نظرِ بد کے نقصانات، تشخیص اور علاج
⑲ جادو کی حقیقت، نقصانات، تشخیص اور علاج
⑳ جن، جنات، آسیب، شیطان اور بدارواح کی حقیقت، تشخیص اور علاج
㉑ رزق، کاروبار، ترقی میں بندش اور اس کا علاج
㉒ دکان و مکان کے مسائل اور ان کا حل
㉓ شادی، رشتہ، اولاد، تعلیم اور نوکری کی بندشوں کا علاج
㉔ جسم پر ہونے والی بندش اور بیماریوں کا روحانی علاج
㉕ محبت کے مجرب اعمال
㉖ تسخیر کے مجرب اعمال
㉗ ناجائز تعلقات ختم کرنے کے مجرب اعمال
㉘ خیر و برکت اور ترقی کے مجرب اعمال
㉙ صدقات کے ذریعے علاج کا مکمل طریقہ
㉚ حصار کیا ہے اور کیسے کیا جاتا ہے
㉛ مراقبہ کے فوائد اور طریقہ
㉜ اسم اعظم نکالنے اور پڑھنے کے فوائد
㉝ بچوں کے نام رکھنے کا صحیح طریقہ
㉞ جڑی بوٹیوں سے روحانی و جسمانی علاج

📿 ریاضات:
㉟ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم کی ریاضت
㊱ سورۂ فاتحہ کی ریاضت
㊲ آیت الکرسی کی ریاضت
㊳ آیت قطب جنوبی کی ریاضت
㊴ آیت قطب شمالی کی ریاضت
㊵ سورۂ مزمل کی ریاضت
㊶ سورۂ فلق و ناس کی ریاضت
㊷ دعائے حزب البحر کی ریاضت
㊸ دعائے رد السحر کی ریاضت
㊹ حصار قطبی کی ریاضت
㊺ ناد علی کی ریاضت
㊻ سورۂ فلق کی ریاضت
㊼ سورۂ ناس کی ریاضت

📐 نقوش:
㊽ نقش مثلث کی زکوٰۃ بطریق عناصر اربعہ
㊾ نقش مربع کی زکوٰۃ بطریق عناصر اربعہ
㊿ نقش سیفی کی زکوٰۃ

جلدی کیجئے آج ہی داخلہ لے کر اپنے علم اور خدمت کے سفر کا آغاز کریں

02/05/2026

کیا آپ روحانی علاج اور عملیات کا صحیح، مستند اور محفوظ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

آج کے دور میں بہت سے لوگ بغیر رہنمائی کے اس میدان میں قدم رکھتے ہیں، مگر حقیقی کامیابی صرف اسی کو ملتی ہے جو
📖 قرآن و حدیث اور بزرگانِ دین کی تعلیمات کی روشنی میں
✔ درست طریقہ
✔ مکمل رہنمائی
✔ اور عملی تربیت حاصل کرے

🎓 روحانی و طبی ماسٹر کورس
✨ نہایت آسان، جامع اور عملی انداز میں
✨ Step by Step مکمل رہنمائی کے ساتھ

🚀 یہ کورس آپ کے لئے کیوں ضروری ہے؟
✔ صحیح تشخیص اور علاج سیکھیں
✔ روحانی مسائل کا حقیقی حل جانیں
✔ خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کے کام آئیں
✔ ایک بااعتماد روحانی معالج بنیں۔

⏳ کلاسز کا آغاز

📅 Monday – 4th May 2026

🚨 نشستیں محدود ہیں
👉 جلدی کیجئے، دیر نہ ہو جائے

📞 داخلہ کے لئے رابطہ کریں

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Pune?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address

Daund
Pune

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm
Sunday 9am - 5pm