Light۔Of۔Ahlulbayt۔Official

Light۔Of۔Ahlulbayt۔Official

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Light۔Of۔Ahlulbayt۔Official, Health/Beauty, najaf ashraff, Najaf.

“Sharing the teachings of Ahlulbayt and Islamic guidance.”
نَشْرُ تَعَالِيمِ أَهْلِ الْبَيْت وَالإِرْشَاد الإِسْلَامِيّ لِلآخَرِين وَتَهْذِيبُ حَيَات النَّاس فِي ضَوْءنَهْج أَهْل الْبَيْت عَلَيْهِم السَّلَام
اہلِ بیت کی تعلیمات پھیلانا اور زندگی سنوارنا۔

13/04/2026

Follow the (Light.Of.Ahlulbayt.Official) channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o.
🌾 گندم کی زکاة — منہاج الصالحین کے مطابق 🌾

چونکہ گندم کی کٹائی کا وقت آ چکا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس شرعی حکم کی طرف توجہ دیں۔

📌 گندم پر زکاة کب واجب ہوتی ہے؟
مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی (دام ظلہ) کے مطابق:
جب گندم نصاب تک پہنچ جائے اور اس کی کٹائی ہو جائے، تو اس پر زکاة واجب ہو جاتی ہے۔

📚 حوالہ:
منہاج الصالحین، ج 1، کتاب الزکاة، مسئلہ (تقریباً 1079 تا 1081)

⚠️ اہم تنبیہ:
اگر زکاة ادا نہ کی جائے تو یہ مال میں برکت کے ختم ہونے، فقر و تنگدستی اور آخرت میں سخت حساب و عذاب کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ زکاة دراصل مستحقین کا حق ہے جو ہمارے مال میں رکھا گیا ہے۔

🤲 اللہ ہمیں اپنے مال کو پاک کرنے اور صحیح طریقے سے زکاة ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

✨ Light of ahlulbayt official 📖

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel 04/04/2026

https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o

✨ کرامتِ امام مہدیؑ ✨
ایک نوجوان جس کا نام سرور تھا، بچپن سے گونگا تھا—نہ بول سکتا تھا، نہ اپنی بات بیان کر سکتا تھا۔ جب وہ تقریباً ۱۳ یا ۱۴ سال کا ہوا تو اس کے والد اسے حسین بن روح نوبختی کے پاس لے گئے، اور درخواست کی کہ امام مہدی سے دعا کروائیں کہ اللہ اس کی زبان کو گویا کر دے۔
جواب آیا:
“حائر (کربلا) کی طرف جاؤ”
چنانچہ وہ اسے کربلائے مقدسہ لے گئے، اور امام حسین کے روضہ مبارک کی زیارت کے بعد اسے پکارا:
“اے سرور!”
اچانک…
وہی گونگا لڑکا، جس نے کبھی ایک لفظ نہ بولا تھا،
فصیح زبان میں بولا:
“لبیک!”
والد اور چچا حیران رہ گئے!
پوچھا: کیا تم بولنے لگے ہو؟!
اس نے کہا:
“ہاں!”
🌹 یہ ہے اہلِ بیتؑ کی بارگاہ کی برکت،
جہاں ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے،
اور بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔
📚 حوالہ: الإمام المهدي من المهد إلى الظهور
Light of Ahlulbayt Official

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel Follow (Light.Of.Ahlulbayt.Official)'s WhatsApp Channel. ‎Authentic Shia Islamic Guidance
Quran & Hadith
Fiqh according to Maraji'
Daily Masail & Islamic reminders۔
مستند شیعہ اسلامی رہنمائی
قرآن و حدیث
مراجعِ عظام کے مطابق فقہ
روزانہ مسائل اور اسلامی نصیحتیں.‎ Join 47 followers for the latest updates.

Light۔Of۔Ahlulbayt۔Official 01/04/2026

Light of ahlulbayt official📖
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o.
🌿 حدیثِ اہلِ بیتؑ — ایمان اور اسلام کا فرق

📜 قال الإمام الصادق (عليه السلام):
«إِنَّ الإِيمَانَ يُشَارِكُ الإِسْلَامَ، وَلَا يُشَارِكُهُ الإِسْلَامُ، إِنَّ الإِيمَانَ مَا وَقَرَ فِي القُلُوبِ، وَالإِسْلَامُ مَا عَلَيْهِ التَّنَاكُحُ وَالْمَوَارِيثُ وَحَقْنُ الدِّمَاءِ»

🌸 ترجمہ:
بے شک ایمان اسلام کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے، لیکن اسلام ایمان کے ساتھ لازمی نہیں ہوتا۔
ایمان وہ ہے جو دل میں جا کر راسخ ہو جائے، جبکہ اسلام وہ ہے جس پر نکاح، وراثت اور جان و مال کی حفاظت جیسے ظاہری احکام جاری ہوتے ہیں۔

💡 وضاحت:
اس حدیث میں امامؑ یہ فرق بیان فرما رہے ہیں کہ:

- اسلام ظاہری اقرار (کلمہ پڑھنے) سے حاصل ہو جاتا ہے۔
- جبکہ ایمان دل کی سچی تصدیق اور یقین کا نام ہے۔

یعنی ہر مومن مسلمان ہوتا ہے، لیکن ہر مسلمان ضروری نہیں کہ حقیقی مومن بھی ہو۔

✨ سبق:
اپنے ایمان کو صرف ظاہر تک محدود نہ رکھیں، بلکہ دل میں یقین، اخلاص اور عملِ صالح کے ذریعے اسے مضبوط بنائیں۔
📚 Source: Bidayat al-Ma‘rifah

https://www.facebook.com/share/1BfESSSeVU/

Light۔Of۔Ahlulbayt۔Official “Sharing the teachings of Ahlulbayt and Islamic guidance.”
نَشْرُ تَعَالِيمِ أَهْلِ الْبَيْت وَالإِرْشَاد الإِسْلَامِيّ لِلآخَرِين وَتَهْذِيبُ حَيَات النَّاس فِي ضَوْءنَهْج أَهْل الْبَيْت عَلَيْهِم السَّلَام
اہلِ بیت کی تعلیمات پھیلانا اور زندگی سنوارنا۔

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel 20/03/2026

الوداع الوداع یا شھر رمضان ،
الوداع الوداع یا شھر مغفرۃ ،
اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْہُ اٰخِرَ الْعَھْدِ
من صِیَامِیْ لِشَھْرِ رَمَضَانَ۔۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o۔۔

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel Follow (Light.Of.Ahlulbayt.Official)'s WhatsApp Channel. ‎Authentic Shia Islamic Guidance
Quran & Hadith
Fiqh according to Maraji'
Daily Masail & Islamic reminders۔
مستند شیعہ اسلامی رہنمائی
قرآن و حدیث
مراجعِ عظام کے مطابق فقہ
روزانہ مسائل اور اسلامی نصیحتیں.‎ Join 47 followers for the latest updates.

18/03/2026

"شہادت اس بات کی مہر ہے کہ دشمن آپ کے لفظوں سے بھی ڈرتا تھا۔ علی لاریجانی کی آخری ٹویٹ نے ثابت کر دیا کہ 'موت سعادت ہے'۔

اسرائیل اور امریکہ کی بزدلی کی انتہا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں مقابلہ کرنے کے بجائے بزدلانہ حملوں کا سہارا لیتے ہیں۔ تم نے ایک انسان کو خاموش کیا ہے، اس نظریے کو نہیں جو اب لاکھوں کروڑوں دلوں میں گونجے گا۔ ذلت تمہارا مقدر ہے اور سعادت حق والوں کا!"
Watsapp. https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o.
Facebook. https://www.facebook.com/share/1AytuFJCTz/

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel 13/03/2026

عنوان: کن لوگوں کو رمضان میں روزہ افطار کرنے کی اجازت ہے؟
سوال:
کن لوگوں کو ماہِ رمضان میں روزہ نہ رکھنے (افطار کرنے) کی اجازت ہے؟ اور ان پر کیا حکم ہے؟
جواب:
ماہِ رمضان میں چند افراد کو روزہ نہ رکھنے کی رخصت دی گئی ہے:
1.بوڑھا مرد (شیخ) اور بوڑھی عورت (شیخہ) اور شدید پیاس کی بیماری والے شخص (ذوالعطاش) کو اگر روزہ رکھنا ممکن نہ ہو، یا روزہ رکھنے میں ان کے لیے شدید تنگی اور مشقت ہو تو انہیں روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ لیکن ایسی صورت میں ان پر لازم ہے کہ ہر دن کے بدلے ایک مدّ (تقریباً 750 گرام) کھانا بطور فدیہ دیں۔
بہتر یہ ہے کہ یہ کھانا گندم ہو، بلکہ دو مدّ دینا زیادہ بہتر ہے، اور یہ احتیاطِ مستحب بھی ہے۔
بعد میں اگر وہ روزہ رکھنے پر قادر بھی ہو جائیں تو ان پر قضا واجب نہیں ہے، اگرچہ قضا کرنا احتیاطِ مستحب ہے۔
2. وہ حاملہ عورت جس کا وقتِ ولادت قریب ہو (حاملہ مقرب) اگر روزہ رکھنے سے اسے یا اس کے بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو، اور اسی طرح وہ دودھ پلانے والی عورت جس کا دودھ کم ہو اور روزہ رکھنے سے اسے یا بچے کو ضرر پہنچتا ہو، تو انہیں بھی روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔
لیکن ان دونوں پر لازم ہے کہ بعد میں ان روزوں کی قضا کریں، اور ساتھ ہی ہر دن کے بدلے فدیہ بھی دیں۔
3. فدیہ میں مدّ کے برابر کھانا صدقہ کرنا ضروری ہے، صرف کسی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دینا کافی نہیں ہے، اور یہ حکم فدیہ کی تمام صورتوں میں یکساں ہے۔
حوالہ:
منهاج الصالحين، فصل: موارد ترخیص الإفطار۔
Watsapp:https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o.
Facebook:https://www.facebook.com/share/1DHgRGTAkG/

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel Follow (Light.Of.Ahlulbayt.Official)'s WhatsApp Channel. ‎Authentic Shia Islamic Guidance
Quran & Hadith
Fiqh according to Maraji'
Daily Masail & Islamic reminders۔
مستند شیعہ اسلامی رہنمائی
قرآن و حدیث
مراجعِ عظام کے مطابق فقہ
روزانہ مسائل اور اسلامی نصیحتیں.‎ Join 47 followers for the latest updates.

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel 11/03/2026

مسئلہ: اعتکاف میں مسجد میں رہنے کی شرط اور باہر جانے کا حکم
اصل عبارت:
السادس: استدامة اللّبث فی المسجد الذی شرع به فیه، فإذا خرج لغیر الأسباب المسوّغة للخروج بطل.
ترجمہ:
چھٹی شرط یہ ہے کہ معتکف اسی مسجد میں مسلسل قیام کرے جس مسجد میں اس نے اعتکاف شروع کیا ہے۔
لہٰذا اگر وہ ایسی وجہ کے بغیر مسجد سے باہر نکل جائے جس کی شرعاً اجازت ہو تو اس کا اعتکاف باطل ہو جاتا ہے۔
📚 حوالہ:
یہ مسئلہ فقہ جعفری کی کتاب منهاج الصالحين میں احکام الاعتکاف کے ضمن میں ذکر ہوا ہے۔
اس مسئلہ کی مزید وضاحت
اعتکاف کا اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کی عبادت کے لئے مسجد میں ٹھہرے۔
اسی وجہ سے فقہاء فرماتے ہیں کہ معتکف کو بلا ضرورت مسجد سے باہر نہیں جانا چاہئے۔
اگر وہ بغیر شرعی عذر کے مسجد سے نکل جائے تو اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
شرعی عذر کی مثالیں
ان کاموں کے لئے مسجد سے نکلنا جائز ہے:
بیت الخلاء جانا
وضو یا غسل کرنا
ایسی ضرورت جو مسجد میں پوری نہ ہو سکے
ضروری کھانا لانا (اگر کوئی لانے والا نہ ہو)
کسی ضروری دینی یا شرعی کام کے لئے جانا
اہم نکتہ
اسی مسئلہ کے ذیل میں یہ بھی بیان ہوا ہے:
النص:
أنّ الأحوط لزوماً مراعاة أقرب الطرق عند الخروج
ترجمہ:
احتیاطِ لازم یہ ہے کہ جب معتکف کسی ضرورت سے مسجد سے باہر جائے تو سب سے قریب راستہ اختیار کرے۔
اس کی وضاحت مثال کے ساتھ
فرض کریں ایک شخص مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا ہے اور اسے بیت الخلاء جانا ہے۔
مسجد کے پاس دو راستے ہیں:
1️⃣ ایک راستہ قریب ہے (مثلاً 50 میٹر)
2️⃣ دوسرا راستہ دور ہے (مثلاً 150 میٹر)
ایسی صورت میں احتیاطِ لازم کے مطابق اسے قریب والا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔
2.. یا مزید آسان مثال دوں کہ بندہ طہارت کرنے گیا تو لائن میں کئیں واشرومیں ہیں ان میں پہلی واشروم کھلی ہو تو دوسری میں نہیں جا سکتا اگر دوسری میں جاے گا تو اعتکاف باطل ہے ۔
کیونکہ اعتکاف میں اصل حکم مسجد میں رہنا ہے اور باہر صرف ضرورت کے مطابق کم سے کم وقت کے لئے جانا جائز ہے۔
اگر کوئی شخص بلا ضرورت لمبا راستہ اختیار کرے یا بازار میں گھومتا رہے تو یہ اعتکاف کے مقصد کے خلاف ہے اور اعتکاف باطل ہو جاتا ہے
✅ خلاصہ:
معتکف کو اسی مسجد میں رہنا ضروری ہے جہاں اعتکاف شروع کیا ہے۔
بغیر شرعی عذر مسجد سے نکلنا اعتکاف کو باطل کر دیتا ہے۔
اگر ضرورت سے باہر جائے تو قریب ترین راستہ اختیار کرنا احتیاطِ لازم ہے اور غیر ضروری تاخیر سے بچنا چاہئے۔

منھاج الصالحین سید علی السیستانی دام برکاتہ

Watsapp:https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o.
Facebook:https://www.facebook.com/share/18UewHa6a6/

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel Follow (Light.Of.Ahlulbayt.Official)'s WhatsApp Channel. ‎Authentic Shia Islamic Guidance
Quran & Hadith
Fiqh according to Maraji'
Daily Masail & Islamic reminders۔
مستند شیعہ اسلامی رہنمائی
قرآن و حدیث
مراجعِ عظام کے مطابق فقہ
روزانہ مسائل اور اسلامی نصیحتیں.‎ Join 47 followers for the latest updates.

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel 09/03/2026

عنوان: کفّارۂ افطار کے چند مسائل
سوال 1: اگر کوئی شخص جان بوجھ کر روزہ توڑ دے اور پھر زوال سے پہلے سفر کر لے تو کیا کفّارہ ساقط ہو جاتا ہے؟
عبارت:
مسألة ۱۰۲۱: إذا أفطر متعمّداً ثُمَّ سافر قبل الزوال لم تسقط عنه الکفّارة.
ترجمہ:
اگر کسی نے جان بوجھ کر روزہ توڑ دیا اور پھر زوال (دوپہر) سے پہلے سفر کر لیا تو اس سے کفّارہ ساقط نہیں ہوتا۔
📚 حوالہ: منھاج الصالحین، السید Ali al-Sistani، مسئلہ 1021
سوال 2: اگر کسی نے جان بوجھ کر روزہ توڑا اور پھر حیض، نفاس، بیماری یا کوئی مجبوری پیش آ گئی تو کیا کفّارہ واجب ہے؟
عبارت:
وأمّا إذا أفطر متعمّداً ثُمَّ عرض له عارض قهری من حیض أو نفاس أو مرض أو نحو ذلک من الأعذار لم تجب علیه الکفّارة وإن کان الأحوط استحباباً أداؤها.
ترجمہ:
لیکن اگر کسی نے جان بوجھ کر روزہ توڑا اور اس کے بعد کوئی مجبوری پیش آ گئی جیسے حیض، نفاس، بیماری یا اس جیسا کوئی عذر، تو اس پر کفّارہ واجب نہیں ہوگا، البتہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ کفّارہ ادا کرے۔
📚 حوالہ: منھاج الصالحین، السید Ali al-Sistani، مسئلہ 1021
سوال 3: اگر یہ مجبوری انسان کے اپنے سبب سے ہو اور خاص طور پر کفّارہ ساقط کرنے کی نیت سے ہو تو کیا حکم ہے؟
عبارت:
ولا سیّما إذا کان العارض القهریّ بتسبیب منه خصوصاً إذا کان بقصد سقوط الکفّارة.
ترجمہ:
اور خصوصاً اس صورت میں احتیاط مستحب زیادہ مؤکّد ہے جب وہ مجبوری خود انسان کے سبب سے پیدا ہوئی ہو، خاص طور پر جب اس کا مقصد کفّارہ ساقط کرنا ہو۔
📚 حوالہ: منھاج الصالحین، السید Ali al-Sistani، مسئلہ 1021
سوال 4: اگر شوہر کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھے ہو اور وہ اپنی روزہ دار بیوی کو ج**ع پر مجبور کرے تو کیا وہ اس کی طرف سے کفّارہ ادا کرے گا؟
عبارت:
مسألة ۱۰۲۲: إذا کان الزوج مفطراً لعذر فأکره زوجته الصائمة علی الج**ع لم یتحمّل عنها الکفّارة وإن کان آثماً بذلک.
ترجمہ:
اگر شوہر کسی عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھے ہوئے ہو اور وہ اپنی روزہ دار بیوی کو ج**ع پر مجبور کرے تو وہ اس کی طرف سے کفّارہ کا ذمہ دار نہیں ہوگا، اگرچہ اس کام کی وجہ سے گناہگار ہوگا۔
📚 حوالہ: منھاج الصالحین، السید Ali al-Sistani، مسئلہ 1022
سوال 5: کیا اس صورت میں بیوی پر کفّارہ واجب ہوگا؟
عبارت:
کما لا تجب الکفّارة علیها أیضاً.
ترجمہ:
اور اس حالت میں بیوی پر بھی کفّارہ واجب نہیں ہوگا۔
📚 حوالہ: منھاج الصالحین، السید Ali al-Sistani، مسئلہ 1022

WhatsApp:https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o۔
Facebook:https://www.facebook.com/share/18WH3iQfN6/

(Light.Of.Ahlulbayt.Official) - WhatsApp channel Follow (Light.Of.Ahlulbayt.Official)'s WhatsApp Channel. ‎Authentic Shia Islamic Guidance
Quran & Hadith
Fiqh according to Maraji'
Daily Masail & Islamic reminders۔
مستند شیعہ اسلامی رہنمائی
قرآن و حدیث
مراجعِ عظام کے مطابق فقہ
روزانہ مسائل اور اسلامی نصیحتیں.‎ Join 47 followers for the latest updates.

08/03/2026

فزت ورب الكعبة،
روایت میں ہے کہ مولا امیر کائنات علیہ السلام نے فرمایا ،
الله الله في الأيتام، فلا تغبّوا أفواههم ولا يضيعوا بحضرتكم
ترجمہ:
"اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو یتیموں کے بارے میں؛ ایسا نہ ہو کہ کبھی انہیں کھانا ملے اور کبھی نہ ملے اور وہ تمہارے سامنے ضائع ہو جائیں۔"
وضاحت:
یہ وصیت شبِ ضربت کے بعد بسترِ شہادت پر امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب نے اپنے بیٹوں خصوصاً حسن بن علی اور حسین بن علی اور اہلِ بیت کو فرمائی۔
2️⃣ يا بني عبد المطلب، لا ألفينكم تخوضون دماء المسلمين تقولون قُتل أمير المؤمنين
ترجمہ:
"اے بنی عبدالمطلب! ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم مسلمانوں کے خون میں ہاتھ ڈبو دو اور کہو کہ امیرالمؤمنین قتل کر دیے گئے ہیں۔"
وضاحت:
یہ وصیت بھی شبِ ضربت کے بعد آخری ایام میں امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب نے اپنے قبیلے بنی عبدالمطلب کو فرمائی تاکہ وہ ان کے قتل کے بعد انتقام میں بے گناہ مسلمانوں کا خون نہ بہائیں۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o

08/03/2026

اعمال شب قدر، https://whatsapp.com/channel/0029Vb7W3DW0VycAS60yqs3o

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Najaf?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Najaf Ashraff
Najaf
54001