Umme Jasim Official
health beauty personal blog
صبح بخیر زندگی
عید میلاد النبی صلی الللہ علیہ وآلہ وسلم بروز اتوار 9 اکتوبر کو ہو گی
تحریک ختم نبوت ندہ باد
26/09/2022
بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم۔۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه۔۔
28 صفر المظفر 1444 ھِجْرِی۔۔
25 ستمبر 2022 عِیسَوی۔۔
بروز اتوار۔۔
جب انسان ناراضگی ختم کرنے میں پہل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ غلط تھا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے انا سے زیادہ رشتے عزیز ہیں۔۔
دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔۔
صبح بخیر زندگی
کیا ہو گیا جو بچے نے ہوم ورک نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹیسٹ میں برے مارکس آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی مضمون میں فیل ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔
بچے کا حوصلہ بڑھائیے۔
اس کے لیے ایک نئی امید بنیے۔
آپ بحیثیت والدین یا بڑے کے بھی تو بہت سے کام نہیں کر پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اکثر اوقات بچے کا موڈ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔دل نہیں کرتا۔۔۔۔۔۔۔ وہ مضمون اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔ ٹیچر پسند نہیں۔۔۔۔۔۔سکول میں بچوں سے لڑائی ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی نے برا بھلا کہا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو سکتا ہے اس دن کسی نے اس کے بیگ سے کوئی چیز نکال لی ہو۔۔۔۔۔۔۔ اس کی پسندیدہ پنسل کھو گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔ لنچ چرا لیا ہو کسی نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا ہو سکتا ہے بلاوجہ کس اور کے قصور کی سزا ملی ہو اسے۔۔۔۔۔۔۔ یا یہ بھی ممکن ہے اس کا پسندیدہ دوست یا سہیلی اس سے ناراض ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سو دوسری وجوہات ہو سکتی ہیں اس ننھے دماغ کے اندر کشمکش چل رہی ہوتی ہے۔
بچوں کا دماغ بڑوں کی طرح سو سو توجیہات دینے سے قاصر ہوتا ہے۔
انھیں وہی پتہ ہوتا ہے جو ان کے سامنے ہوتا ہے۔
جو چیز انھیں مسئلہ کر رہی ہوتی ہے وہ اس جگہ ان حالات سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ نے اپنے بچوں سے پڑھائی میں کارکردگی کے علاوہ کبھی یہ پوچھا کہ سکول میں ان کے ساتھ کیا معاملہ رہا؟؟؟
بچے بڑوں کی نسبت زیادہ ذہنی دباؤ اور تناو کا شکار ہوتے ہیں۔
پڑھائی کو پڑھائی تک رہنے دیجئے۔۔۔۔۔۔۔
اس کو ہوا مت بنائیے۔۔۔۔۔۔
کل ایسی ہی ایک خبر نظر سے گزری جس نے آٹھ آٹھ آنسو رلایا۔
ایک بارہ سال کے بچے کو اس کے اپنے باپ نے ہوم ورک نہ کرنے پر غصے میں آکر تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔...........اور وہ بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
مقصد پڑھانا ہے تو اس قدر سختی، زور زبردستی کرنے کی کیا وجہ۔
پیار، محبت، لاڈ کے ساتھ بھی تو بتا جا سکتا ہے۔ جہاں سختی ضروری ہے ضرور کیجئے مگر جان لے لینا۔ خطرناک سزائیں دینا ظلم ہے۔
Good night
ابوالکلام اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ ملازمت بھی کرتی تھیں اور گھر کا کام کاج بھی وہی کرتی تھیں ۔
ایک رات کھانے کے وقت انہوں نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھی ۔ میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصہ کا اظہار کریں مگر انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور پھر مجھ سے دریافت کیا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا ۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کیا جواب دیا لیکن اسی اثنا میں میری والدہ نے روٹی جل جانے کی معذرت کی ۔ مگر میرے والد نے کہا کہ ان کو یہ روٹی کھا کر لطف آیا ۔ اسی رات اپنے والد کو شب بخیر کہنے میں ان کے کمرے میں گیا تو ان سے سوال کیا کہ کیا واقعی انہیں جلی روٹی کھا کر لطف آیا ؟ انہوں نے پیار سے مجھے اپنے بازؤں میں بھر لیا اور جواب دیا کہ تمہاری والدہ نے ایک پرمشقت دن گزارا اور پھر تھکنے کے باوجود گھر آکر ہمارے لئے کھانا بھی تیار کیا ۔۔۔۔۔ ایک جلی ہوئی روٹی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی مگر تلخ ردعمل اور بد زبانی جذبات کو مجروح کرتی ہے ۔
میرے بچے! زندگی بے شمار ناپسندیدہ اشیا اور شخصیات سے بھری ہوئی ہے۔ میں بھی کوئی بہترین یا مکمل انسان نہیں ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے ارد گرد لوگ اور عزیز واقربا بھی غلطی کر سکتے ہیں ۔ لہذا ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا، رشتوں کو بخوبی نبھانا اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا ہی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے ۔ زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں معذرت اور پچھتاووں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے
*اس تحریر کا دن میں کم از کم ایک بار پڑھنا ھم سب کی معاشرتی زندگی کے لئے بے حد سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔۔*
22/09/2022
صبح بخیر زندگی
آپ سب نے شگفتہ اعجاز کی یہ تصویر دیکھی ہو گی یقینا حیران بھی ہونگے لیکن یہ ہمارے لیے پیغام ہے کہ ہمیشہ خوش رہنا چاہیے چاہے زندگی کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو اور اپنا خیال رکھنا اور خوش رہنا عزت نفس کی ایک شکل ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
432600
