Syed Tasneem Shah
علم و اخلاق سے متعلق علمی و موٹیویشنل مواد
Motivational and Logical Contents about Education and Morality/Ethics
17/07/2026
ہمارے آج کا کردار ہی ہماری اولاد کو وراثت میں ملے گی
ہم اکثر اپنی اولاد کے اچھے کردار کی امید اور تمنا کرتے ہیں
لیکن ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم ان کے اخلاق و کردار کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں؟
بچے صرف ہماری باتیں نہیں سنتے بلکہ وہ ہماری زندگی پڑھتے ہیں
اگر آج ہمارے گھروں میں سچ کی جگہ جھوٹ، احترام کی جگہ بدزبانی، امانت کی جگہ خیانت، اور ذمہ داری کی جگہ غفلت ہو، تو کل ہماری اولاد انہی چیزوں کو معمول سمجھے گی۔
یاد رکھیں!
اولاد کا مستقبل صرف اسکول، ڈگری یا دولت سے نہیں بنتا بلکہ والدین کے کردار، عادات اور روزمرہ کے اعمال سے بنتا ہے
ہم اپنی اولاد کے لیے جو سب سے بڑی وراثت چھوڑ سکتے ہیں، وہ اچھی جائیداد نہیں، بلکہ اچھا کردار ہے
آج کا ہمارا عمل کل ہماری اولاد کی شخصیت بن جائے گا۔
By
سید تسنیم شاہ
سٹوڈنٹ آف دی سنچری
پیج: علم و اخلاق
Aa Chal 16/07/2026
16/07/2026
حسن ظن رکھنا اور بدگمانی سے بچنا
اعلی کردار کی علامت
خوشگوار ماحول کی ضمانت
دوسرے انسان کے بارے میں اچھا گمان رکھنا ایک مضبوط اور باوقار شخصیت کی پہچان ہے
جو لوگ دوسروں کے لیے اچھا گمان رکھتے ہیں ان کے دل زیادہ پرسکون، تعلقات زیادہ مضبوط اور زندگی زیادہ خوشگوار ہوتی ہے
ہم اکثر دوسروں کے بارے میں فیصلہ اپنی سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں، حقیقت کی بنیاد پر نہیں
کسی نے سلام نہ کیا
ہم نے سمجھ لیا وہ مغرور ہے
کسی نے فون نہ اٹھایا
ہم نے سمجھ لیا وہ ہمیں اہمیت نہیں دیتا
کسی نے اختلاف کیا
ہم نے سمجھ لیا وہ ہمارا مخالف ہے
حالانکہ حقیقت اس سے مختلف بھی ہوسکتی ہے
اس لئے اپنے دل کو حسنِ ظن سے آباد کیجیے اور معاشرے کا ماحول پرسکون و خوشگوار رکھنے کی کوشش کیجئے
ہمارے اچھے گمان محبت، ہمدردی، اخلاق، بہترین معاشرے کی امید اور علمی و اخلاقی تربیت کی راہیں کھول دیتے ہیں
پیج: علم و اخلاق
By
سید تسنیم شاہ
سٹوڈنٹ آف دی سنچری
Chitio ki chehek 15/07/ 2026
15/07/2026
15/07/2026
ہمارے آج کے فیصلے اور اقدامات
ہماری نئی نسل کا کل اور مستقبل
ہم اکثر اپنی اولاد کے مستقبل کی فکر کرتے ہیں
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کا مستقبل کل سے نہیں
بلکہ ہمارے آج سے شروع ہوتا ہے
اگر آج ہم نشے سے بچتے ہیں، تنازعات سے بچتے ہیں اور
ان کو محفوظ اور دانش مند ماں باپ کا تحفہ دیتے ہیں
تو
ہم ان کے لیے پرسکون اور ترقی و کردار والا گھر چھوڑتے کر جاتے ہیں
اگر آج ہم محنت، دیانت اور منصوبہ بندی سے اپنا مستقبل سنوارتے ہیں، اپنا ایک مؤثر اور مفید کیریئر بناتے ہیں
تو
کل ہم ان کی ضروریات زندگی بہتر انداز میں پوری کر سکتے ہیں اور ان کو بہتر صحت اور بہترین مستقبل دینے کے قابل ہوسکیں گے
اگر آج ہم اچھے اخلاق و کردار اختیار کرتے ہیں اور بہترین فیصلے کرتے ہیں تو کل ہماری اولاد ان بہترین تحائف کی وارث بھی بنے گی
اولاد صرف ہماری مال اور وسائل کی وارث نہیں ہوتی بلکہ ہمارے فیصلوں، عادات ، سوچ اور اخلاق و کردار کی بھی وارث ہوتی ہے
اس لیے اگر ہم اپنی اولاد کا کل بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا آج بدلنا ہوگا
ہمارا آج ہی ہماری اولاد کا کل ہے
پیج: علم و اخلاق
By
سید تسنیم شاہ
سٹوڈنٹ آف دی سنچری
Ya Rab iss 14/07/2026
14/07/2026
اتحاد سے پہلے اخلاق نعروں سے زیادہ اہم اخلاقی تربیت
ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے
یہ بات درست ہے
لیکن ایک سوال ہمیں خود سے پوچھنا چاہئیے
اگر ایک جگہ جھوٹ، غرور، بددیانتی، حسد اور بدزبانی جمع ہو جائیں تو کیا صرف اکٹھے ہو جانا مسئلے کا حل کہلائے گا؟
کیا اسے اتحاد کہنا بھی چاہئیے؟
اصل اتحاد تو دلوں کا ہوتا ہے اور دل اخلاق سے جڑتے ہیں صرف اکٹھے ہونے سے نہیں
جس معاشرے میں لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں، سچ بولیں، انصاف کریں، معاف کرنا جانیں اور خیر خواہی کو اپنا شعار بنائیں، خود احتسابی کو اپنا زیور بنائیں وہاں اتحاد خود بخود پیدا ہو جاتا ہے
اس لیے قوموں کو صرف اتحاد کا نعرہ نہیں بلکہ اخلاق اور کردار کی بنیاد چاہیے اور علمی اور اخلاقی تربیت کو عام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے
جہاں اخلاق زندہ ہوں وہاں اتحاد خود بخود وجود میں آتا ہے اور مضبوط ہوتا جاتا ہے
پیج: علم و اخلاق
By
سید تسنیم شاہ
سٹوڈنٹ آف دی سنچری
Click here to claim your Sponsored Listing.
