Abid khan official
I am religious speeker and i am working in real state feild.
05/08/2026
نیکی کو نشانہ نہ بنائیں
05/08/2026
اسان سوال ہے؟
05/08/2026
صرف زہین لوگوں کی زہانت کا امتحان ہے وہ سامنے آ جائیں اور اپنی زہانت ثابت کرہں۔
Abid Mehmood Abid khan official
05/08/2026
انسان موت کی جگہہ خود پہنچ جاتا ھے
Abid khan official Abid Mehmood
Abid khan official Abid Mehmood
05/08/2026
# # # *ام مہدیؑ کے متعلق چند اہم سوالات اور جوابات*
*تحریر: صاحبزادہ عابد عظیم قادری محمودی*
آج کل سوشل میڈیا پر امام مہدیؑ کے بارے میں بہت سے سوالات گردش کر رہے ہیں۔ آئیے انہیں قرآن و سنت اور اہلسنت کے عقیدے کی روشنی میں سمجھتے ہیں:
# # # # *1. قرآن میں امام مہدی کا ذکر کیوں نہیں؟*
قرآن مجید میں قیامت کی بہت سی علامات کا اجمالی ذکر ہے، تفصیل احادیث میں ملتی ہے۔ جیسے دجال، یاجوج ماجوج، حضرت عیسیٰؑ کا نزول۔ اسی طرح امام مہدیؑ کا ذکر بھی احادیثِ متواترہ میں موجود ہے۔
# # # # *2. کیا امام مہدی کا تصور صرف شیعہ عقیدہ ہے؟*
نہیں۔ امام مہدیؑ پر ایمان لانا اہلسنت کا بھی عقیدہ ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اہلسنت کے نزدیک وہ ابھی پیدا نہیں ہوئے، بلکہ آخرِ زمانہ میں ظاہر ہوں گے۔ جبکہ کچھ فرقوں کا عقیدہ مختلف ہے۔
# # # # *3. بخاری و مسلم میں امام مہدی کا نام کیوں نہیں؟*
صحیح بخاری و مسلم میں امام مہدی کے نام سے روایت موجود نہیں، لیکن سنن ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ اور مسند احمد میں متعدد صحیح و حسن احادیث موجود ہیں جن میں نبی ﷺ نے فرمایا:
*"مہدی میری اولاد میں سے، میرا نام ہی اس کا نام ہوگا"*
# # # # *4. مہدی نبی نہیں ہوں گے تو کردار اتنا بڑا کیوں؟*
کیونکہ وہ "مجدد" اور "خلیفہ راشد" ہوں گے۔ وہ پوری دنیا میں عدل قائم کریں گے، ظلم مٹائیں گے اور شریعت کو نافذ کریں گے۔ ان کے دور میں حضرت عیسیٰؑ بھی نازل ہوں گے۔
# # # # *5. حضرت عیسیٰؑ مہدی کے پیچھے نماز کیوں پڑھیں گے؟*
یہ ان کے مقام و مرتبے کی دلیل ہے۔ تاکہ امت کو پتہ چلے کہ شریعتِ محمدی ﷺ ہی قیامت تک باقی رہے گی۔ حضرت عیسیٰؑ بھی اسی شریعت پر عمل کریں گے۔
# # # # *6. کیا امام مہدی کا انتظار کرنا حکم ہے؟*
علماء فرماتے ہیں "انتظار" کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا نہیں، بلکہ اپنی اصلاح کرنا، دین پر عمل کرنا اور ظہور کے لیے دعا کرنا ہے۔
# # # # *7. کیا امام مہدی کے منکر کا ایمان مشکوک ہے؟*
جو احادیث متواترہ کا انکار کرے اس کا معاملہ الگ ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ ہم اختلاف کو ادب کے دائرے میں رہ کر سمجھیں اور فتنے نہ پھیلائیں۔
# # # *خلاصہ:*
امام مہدیؑ کا عقیدہ حق ہے۔ وہ اللہ کے ایک صالح بندے ہوں گے جو امت کو متحد کریں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم افواہوں اور جھوٹے دعوے داروں سے بچیں، اور اپنا تعلق اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مضبوط کریں۔
*اللہم عجل لولیك الفرج*
یا اللہ! ہمیں حق پر قائم رکھ اور فتنوں سے محفوظ فرما۔ آمین 🤲
Abid Mehmood Abid khan official
*نوٹ*: یہ پوسٹ اختلاف کو ہوا دینے کے لیے نہیں بلکہ اصلاح اور علم کے لیے ہے۔ کسی بھی معاملے میں حتمی فیصلہ قرآن، صحیح احادیث اور معتبر علماء کی رائے سے ہی لیا جائے۔
05/08/2026
سبحان اللہ! 👁️❤
# # # *اللہ کی قدرت کو پہچانیں! 👁️*
*تحریر: صاحبزادہ عابد عظیم قادری محمودی*
ذرا اس آنکھ کے نظام پر غور کریں...
صرف 2 انچ کا یہ گولہ، مگر اس کے اندر اللہ نے کتنا پیچیدہ کارخانہ رکھ دیا ہے!
*آنکھ کے 8 اہم حصے:*
1. *صلبہ* - بیرونی سخت حفاظتی تہہ
2. *خونی پردہ* - خون کی نالیاں جو آنکھ کو غذا دیتی ہیں
3. *چشم* - روشنی کو مرکوز کرتا ہے
4. *زجاجی رطوبت* - جیلی جیسا مادہ جو آنکھ کی شکل برقرار رکھتا ہے
5. *مرکزی جسم* - فوکس کرنے والا مسل
6. *عدسہ* - کیمرے کا لینز، خودکار فوکس
7. *پتلی* - روشنی کو کنٹرول کرنے والا دروازہ
8. *قرنیہ* - شفاف کھڑکی + عصبی رگ → دماغ تک سگنل
*سوچیں!*
پلک جھپکنے سے پہلے کروڑوں سگنل دماغ تک جاتے ہیں۔
ہم بغیر کسی بٹن کے دیکھتے ہیں۔ رنگ، روشنی، فاصلہ، حرکت... سب ایک لمحے میں!
*_جب ایک آنکھ کا نظام اتنا حیران کن ہے،
تو خالق کی قدرت کتنی عظیم ہوگی جس نے اسے بنایا ---_*
فجر کا نور، قرآن کے الفاظ، ماں کا چہرہ، کعبے کا نظارہ...
یہ سب اسی نعمت کی بدولت ہے۔ 🤲
*آج رک کر شکر ادا کریں:*
یا اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے ہمیں دیکھنے کی نعمت عطا فرمائی۔
الحمدللہ علیٰ کل نعمت
*فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ*
"پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے"
#شکر #آنکھ Abid Mehmood Abid khan official
05/08/2026
حدیث پاک ضرور پڑھیں۔
Abid Mehmood Abid khan official
31/07/2026
یاجوج ماجوج کی دیوار اور گوگل ارتھ: جدید سیٹلائٹ میپنگ اور ملحدین کے سوالات
تحقیق و ترتیب:
طارق اقبال سوہدروی
آج کے دور میں جب ہم 'گوگل ارتھ' (Google Earth) کی مدد سے دنیا کے کسی بھی کونے کی گلی اور مکان دیکھ سکتے ہیں، تو سائنسی الحاد اور مستشرقین کی جانب سے ایک بہت مشہور اعتراض سامنے آتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کو روکنے کے لیے لوہے اور تانبے کی اتنی بڑی دیوار بنائی تھی، تو آج کے جدید سیٹلائٹس اسے کیوں نہیں ڈھونڈ پاتے؟ کیا گوگل میپس پر اتنے بڑے اسٹرکچر کا نظر نہ آنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہ محض ایک دیومالائی قصہ ہے؟
یہ سوال بظاہر بہت منطقی لگتا ہے، لیکن جب ہم جدید ارضیات (Geology)، سیٹلائٹ میپنگ کی حدود اور قرآنی الفاظ کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں، تو اس اعتراض کی سائنسی اور لسانی کمزوری کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔
قرآنی اسلوب: دیوار (Wall) یا بھرا ہوا خلا (Radm)؟
سب سے پہلی غلط فہمی اس تعمیر کی نوعیت کے بارے میں ہے۔ ہم عام طور پر اسے 'دیوارِ چین' جیسی کوئی کھڑی ہوئی دیوار تصور کرتے ہیں، لیکن قرآن مجید نے اس کے لیے "سد" (رکاوٹ) اور پھر "رَدْم" (Radm) کا لفظ استعمال کیا ہے۔
عربی لغت میں "ردم" کا مطلب کسی کھائی یا گڑھے کو مختلف تہوں (Layers) سے بھر کر برابر کر دینا ہے۔ قرآن مجید اس تعمیر کا طریقہ یوں بیان کرتا ہے:
آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا سَاوَىٰ بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انفُخُوا ۖ حَتَّىٰ إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (سورۃ الکہف: 96)
"مجھے لوہے کے ٹکڑے (چادریں) لا کر دو، یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو برابر کر دیا، تو کہا: دھونکو (آگ جلاؤ)، یہاں تک کہ جب اسے آگ کر دیا تو کہا: لاؤ میں اس پر پگھلا ہوا تانبا ڈال دوں۔"
قرآن کے مطابق ذوالقرنین نے دو پہاڑوں کے درمیانی درّے کو لوہے اور تانبے سے بھر کر پہاڑوں کے برابر (سَاوَىٰ) کر دیا تھا۔ یعنی وہ کوئی الگ سے نظر آنے والی دیوار نہیں، بلکہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک 'میٹل کور' (Metal Core) والی چٹان بن گئی تھی۔
ارضیاتی تبدیلیاں اور گوگل ارتھ کی حدود
اب اسے جدید سائنسی زاویے سے دیکھیں۔ گوگل ارتھ عام طور پر آپٹیکل سیٹلائٹ امیجری (Optical Satellite Imagery) استعمال کرتا ہے، جو صرف زمین کی اوپری سطح دکھاتا ہے۔ وہ پہاڑوں یا زمین کے اندر ایکسرے (X-ray) کر کے نہیں دیکھ سکتا۔
جدید ارضیات (Geology) کے مطابق، ہزاروں سال کے عرصے میں زمین پر زلزلے آتے ہیں، پہاڑ سرکتے ہیں (Tectonic shifts)، لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے اور دھول مٹی کی تہیں (Sedimentation) جمتی رہتی ہیں۔ ہزاروں سال پہلے دو پہاڑوں کے درمیان بنائی گئی کوئی بھی رکاوٹ آج مٹی، چٹانوں اور برف کے نیچے مکمل طور پر دفن ہو چکی ہوگی۔ ایک عام سیٹلائٹ کیمرے کو وہ صرف ایک عام پہاڑ ہی نظر آئے گا۔
جدید آرکیالوجی اور دفن شدہ شہر
ناقدین کا یہ دعویٰ کہ "جو چیز گوگل پر نظر نہیں آتی، وہ وجود نہیں رکھتی"، جدید آرکیالوجی کے بھی خلاف ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے 'لائیڈار ٹیکنالوجی' (LiDAR - Light Detection and Ranging) کا استعمال کرتے ہوئے گوئٹے مالا (Guatemala) کے گھنے جنگلات اور مٹی کے نیچے دبے ہوئے مایا تہذیب کے 60 ہزار سے زائد قدیم اسٹرکچرز دریافت کیے ہیں، جو عام سیٹلائٹس اور گوگل ارتھ کو بالکل نظر نہیں آتے تھے۔
جب چند سو سال پرانے شہر مٹی اور جنگلات کے نیچے ایسے غائب ہو سکتے ہیں کہ جدید سیٹلائٹس انہیں نہ دیکھ سکیں، تو ہزاروں سال پرانی ایک دھاتی رکاوٹ جو پہلے ہی پہاڑوں کے درمیان بھری گئی ہو، اس کا ارضیاتی ملبے (Geological Debris) تلے چھپ جانا سائنس کے بالکل عین مطابق ہے۔
مابعد الطبیعاتی پردہ اور الٰہی وعدہ
طبعی اور ارضیاتی وجوہات کے ساتھ ساتھ، بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ بھی ہے کہ بعض چیزوں پر اللہ تعالیٰ کا مابعد الطبیعاتی (Metaphysical) پردہ پڑا ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے واضح کر دیا ہے کہ یہ رکاوٹ قیامت کے قریب ٹوٹے گی:
قَالَ هَٰذَا رَحْمَةٌ مِّن رَّبِّي ۖ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ ۖ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا (سورۃ الکہف: 98)
"اس (ذوالقرنین) نے کہا، یہ میرے رب کی رحمت ہے، پھر جب میرے رب کا وعدہ آئے گا تو وہ اسے ریزہ ریزہ کر کے زمین کے برابر کر دے گا، اور میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔"
کائنات کا ہر طبعی قانون اللہ کے حکم کا پابند ہے۔ جس طرح برمودا ٹرائینگل یا سمندروں کی گہرائیوں کے کئی راز آج بھی سائنس کی نظروں سے اوجھل ہیں، اسی طرح یہ مقام بھی اللہ کی حکمت کے تحت انسان کی عام رسائی سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔
حاصلِ کلام
"جو چیز گوگل ارتھ پر نظر نہ آئے وہ موجود نہیں"، یہ ایک غیر سائنسی اور سطحی دلیل ہے۔ قرآن مجید ذوالقرنین کی دیوار کا جو نقشہ کھینچتا ہے، جدید ارضیات (Geology) اور آرکیالوجی اس بات کی مکمل تائید کرتی ہیں کہ ہزاروں سال پرانے اسٹرکچرز قدرتی عمل کے تحت زمین یا پہاڑوں میں دفن ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا سیٹلائٹ کے ذریعے اس کا نظر نہ آنا قرآن کے غلط ہونے کی نہیں، بلکہ ہمارے سائنسی آلات اور مشاہدے کی حدود کی دلیل ہے۔
حوالہ جات:
National Geographic (Space Archaeology & LiDAR discoveries)
Principles of Sedimentology and Stratigraphy (Geological Burial)
تفسیر ابن کثیر (زیرِ آیات سورۃ الکہف: 96-98)
لسان العرب (لفظ 'ردم' اور 'سد' کا فرق)
#سائنس #تحقیق Abid khan official Abid Mehmood
31/07/2026
ددود شریف پڑھ لیں ۔
Abid khan official Abid Mehmood
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Karachi
74900
