Zia Health Info

Zia Health Info

Share

We Provide a lot of health related information on daily basis. So being with us

Medical Information – WhatsApp channel 08/08/2026

🔥 شوگر کو قدرتی طریقے سے کنٹرول کرنے کے 7 بے رحم اصول

صرف گولی کھا کر وہی پرانی پلیٹ، وہی سستی اور وہی رات گئے کھانا جاری رکھنا علاج نہیں—اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔

شوگر کنٹرول کرنے کے لیے دوا اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل جنگ آپ کی پلیٹ، پٹھوں، نیند، ذہنی سکون اور پورشن سائز میں لڑی جاتی ہے۔

1️⃣ ہر کھانے میں پروٹین لازمی شامل کریں 🥚🍗

انڈے، چکن، مچھلی، دالیں، لوبیا، مناسب مقدار میں کیمہ، دہی، بادام، اخروٹ اور بھنے ہوئے چنوں سے دوستی کریں۔

🔬 سائنسی وجہ:

پروٹین نسبتاً آہستہ ہضم ہوتا ہے، پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے اور صرف کاربوہائیڈریٹ والا کھانا کھانے کے مقابلے میں شوگر کے اچانک اضافے کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ پروٹین پٹھوں کو بھی محفوظ رکھتا ہے، اور مضبوط پٹھے خون میں موجود گلوکوز کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہیں۔

اپنی پلیٹ کا تقریباً آدھا حصہ بغیر نشاستے والی سبزیوں، ایک چوتھائی پروٹین اور ایک چوتھائی معیاری کاربوہائیڈریٹ کے لیے رکھیں۔

🔥 صرف روٹی کے ساتھ اچار کھا کر شوگر کنٹرول ہونے کی امید رکھنا، خود کو بے وقوف بنانے کے برابر ہے۔

---

2️⃣ روٹی بند نہیں، روٹی اور اس کی مقدار تبدیل کریں 🌾

روٹی ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ اسے مکمل طور پر چھوڑ کر چند دن خود کو ہیرو سمجھنے کی ضرورت نہیں۔

سفید یا انتہائی باریک آٹے کے بجائے فائبر والا آٹا استعمال کریں۔ اس میں مناسب مقدار میں:

- جو
- جئی
- باجرا
- بیسن
- السی
- یا کوئنوا

شامل کیا جا سکتا ہے۔

روٹی چھوٹی رکھیں، تعداد قابو میں رکھیں اور اسے سبزی، دال یا پروٹین کے ساتھ کھائیں۔

🔬 سائنسی وجہ:

کاربوہائیڈریٹس جسم میں گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں، مگر فائبر ان کے ہضم اور جذب کی رفتار کم کر سکتا ہے۔ مکمل اناج اور دالیں پیٹ زیادہ دیر بھرا رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ شوگر کے مریضوں کے لیے کاربوہائیڈریٹس کو مکمل ختم کرنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں؛ اصل چیز ان کی قسم، مقدار اور پورے کھانے کا توازن ہے۔

🔥 روٹی بے قصور ہے، اصل مجرم چار بڑی روٹیاں، صفر ورزش اور کھانے کے بعد سیدھا بستر ہے۔

---

3️⃣ نیند پوری کریں، ورنہ شوگر آپ کو سونے نہیں دے گی 😴

روزانہ تقریباً سات سے نو گھنٹے معیاری نیند لینے کی کوشش کریں۔ سونے اور جاگنے کا وقت مقرر رکھیں، رات کو موبائل کم استعمال کریں اور شام کے بعد کیفین سے پرہیز کریں۔

🔬 سائنسی وجہ:

نیند کی کمی جسم کے سرکیڈین نظام، بھوک کے ہارمونز، کورٹیسول اور انسولین کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ مسلسل ناقص نیند کے باعث بھوک، وزن اور انسولین ریزسٹنس بڑھ سکتی ہے، جس سے شوگر سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔

🔥 رات دو بجے تک موبائل چلائیں گے اور صبح شوگر مشین کو گالیاں دیں گے—یہ طریقہ نہیں چلے گا۔

---

4️⃣ پٹھے بنائیں، کیونکہ پٹھے شوگر کے گودام ہیں 🏋️‍♂️

گھر میں ڈمبل رکھیں اور ہفتے میں کم از کم دو سے تین دن سٹرینتھ ٹریننگ کریں۔

آپ یہ آسان ورزشیں کر سکتے ہیں:

- ڈمبل اسکواٹس
- شولڈر پریس
- بائی سیپ کرلز
- چیئر اسکواٹس
- وال پش اپس
- ہلکی ریزسٹنس بینڈ ورزش

خاتون ہوں یا مرد، عمر 20 سال ہو یا 60 سال، مناسب طبی رہنمائی کے ساتھ پٹھوں کی ورزش سب کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔

🔬 سائنسی وجہ:

ورزش کے دوران پٹھے گلوکوز کو توانائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ باقاعدہ ورزش انسولین کی حساسیت بہتر کر سکتی ہے، یعنی جسم کم انسولین کے ساتھ بھی گلوکوز کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے لگتا ہے۔ جسمانی سرگرمی کا شوگر پر اثر ورزش کے کئی گھنٹے بعد تک رہ سکتا ہے۔

🔥 پٹھے کمزور ہوں اور پلیٹ پہاڑ جتنی ہو تو شوگر تالیاں نہیں بجائے گی—اوپر ہی جائے گی۔

---

5️⃣ اسٹریس کو سر پر سوار نہ کریں 🧠🤲

جو چیز آپ کے اختیار میں ہے، اس کے لیے کوشش کریں۔ جو اختیار میں نہیں، اسے اللہ کے سپرد کریں۔

روزانہ چند منٹ:

- گہری سانسیں لیں
- عبادت اور دعا کریں
- تازہ ہوا میں چہل قدمی کریں
- مثبت لوگوں سے گفتگو کریں
- بیماری کے متعلق مسلسل ویڈیوز اور رپورٹس دیکھنا بند کریں

🔬 سائنسی وجہ:

ذہنی دباؤ کے دوران جسم کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمون خارج کرتا ہے۔ یہ ہارمون جگر کو خون میں زیادہ گلوکوز چھوڑنے کا اشارہ دے سکتے ہیں، جس سے شوگر بڑھ سکتی ہے۔ مسلسل اسٹریس نیند، غذا، ورزش اور دوائیوں کی پابندی کو بھی خراب کرتا ہے۔

🔥 ہر وقت بیماری کو گھورتے رہیں گے تو زندگی صحت مند نہیں ہوگی، صرف خوف موٹا ہوگا۔

زندگی مختصر ہے۔ احتیاط کریں، علاج کریں، مگر ہر لمحہ بیماری کے نام مت کریں۔

---

6️⃣ پورشن سائز کم کریں—پیٹ ڈسٹ بن نہیں ہے 🍽️

صحت مند چیز بھی حد سے زیادہ کھائی جائے تو کیلوریز اور شوگر دونوں بڑھ سکتی ہیں۔

کھانے سے پہلے آپ یہ چیزیں لے سکتے ہیں:

- ایک چھوٹا پیالہ سادہ دہی
- سبزیوں کا سلاد
- پانی میں بھگوئے ہوئے چیا سیڈز
- ڈاکٹر کے مشورے سے اسبغول کا چھلکا

پھر چھوٹی پلیٹ میں کھانا نکالیں اور دوسری مرتبہ پلیٹ بھرنے سے پہلے دس منٹ انتظار کریں۔

🔬 سائنسی وجہ:

فائبر پانی جذب کرکے معدے میں حجم بڑھاتا ہے، جس سے پیٹ بھرنے کا احساس جلد پیدا ہو سکتا ہے۔ پروٹین اور فائبر والی غذا بھوک کو نسبتاً دیر تک قابو میں رکھتی ہے۔ چھوٹا پورشن مجموعی کیلوریز، کاربوہائیڈریٹس اور کھانے کے بعد بڑھنے والی شوگر کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

🔥 آپ کا معدہ گودام نہیں کہ جو سامنے آئے اندر پھینکتے جائیں۔

⚠️ اسبغول دواؤں کے جذب کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے اسے اپنی ادویات سے مناسب وقفے کے ساتھ اور ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔

---

7️⃣ رات کا کھانا ہلکا، جلدی اور سمجھداری سے کھائیں 🌙

رات کے کھانے کو دن کی سب سے بڑی دعوت نہ بنائیں۔ کوشش کریں کہ سونے سے دو سے تین گھنٹے پہلے کھانا مکمل ہو جائے۔

رات کے کھانے کی چند بہتر مثالیں:

🥚 ایک یا دو انڈے اور سبزیوں کا سلاد
🥣 بغیر کریم کے سبزی یا چکن کا سوپ
🍗 گرلڈ چکن کے ساتھ پکی ہوئی سبزیاں
🫘 تھوڑی مقدار میں لوبیا یا دال اور سلاد
🥩 مناسب مقدار میں کم چکنائی والا کیمہ اور سبزی
🥛 سادہ دہی کے ساتھ بھنے ہوئے چنے
🌰 چند بادام یا اخروٹ بطور چھوٹا سنیک، پوری مٹھیوں پر مٹھیاں نہیں

روٹی لینی ہو تو ایک چھوٹی فائبر والی روٹی لیں۔ چاول لیں تو مقدار مختصر رکھیں اور انہیں پروٹین اور سبزیوں کے ساتھ کھائیں۔

کھانے کے بعد تقریباً دس سے پندرہ منٹ ہلکی واک کریں۔

🔬 سائنسی وجہ:

بھاری کھانے میں عموماً کاربوہائیڈریٹس اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں، جس سے کھانے کے بعد شوگر زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ پروٹین اور سبزیوں پر مشتمل متوازن کھانا نسبتاً آہستہ ہضم ہوتا ہے۔ کھانے کے بعد چلنے سے پٹھے گلوکوز استعمال کرتے ہیں، جس سے کھانے کے بعد شوگر کو قابو میں رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

🔥 رات کو بریانی کی دیگ کھا کر صبح فاسٹنگ شوگر سے وفاداری کی توقع نہ رکھیں۔

---

⚠️ آخری بات یاد رکھیں

🔥 شوگر صرف میٹھی چیزوں سے نہیں، بے حساب کھانے، کمزور پٹھوں، خراب نیند اور مستقل سستی سے بھی بگڑتی ہے۔

🔥 پلیٹ نہیں بدلے گی تو رپورٹ بھی ضد پر قائم رہے گی۔

🔥 دوا چھوڑنے کا نام قدرتی علاج نہیں؛ دوا کے ساتھ اپنی غلط عادتیں چھوڑنے کا نام سمجھداری ہے۔

انسولین یا شوگر کی دوائیں خود سے کم یا بند نہ کریں۔ غذا اور ورزش بہتر ہونے سے شوگر کم ہو سکتی ہے، اس لیے خصوصاً انسولین یا ہائپوگلیسیمیا پیدا کرنے والی دوائیں استعمال کرنے والے مریض اپنی ریڈنگ مانیٹر کریں اور علاج میں تبدیلی اپنے ڈاکٹر سے کروائیں۔

📲 مزید مستند، عملی اور آسان صحت کی معلومات کے کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں۔
https://whatsapp.com/channel/0029Va89ke0DDmFNpu4ZN43f

Medical Information – WhatsApp channel Follow Medical Information's WhatsApp channel. ‎You will See medical updates here. Share , like and follow.
واٹس ایپ چینل کے اس نیو فیچر میں یہ معلومات اور یہ ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ یہ ڈیلیٹ نہیں ہوتا۔ اور اس معلومات اور انفارمیشن کو اپ سارا سال دیکھ اور ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپ کا نمبر کسی کو بھی شو نہیں ہوگا۔ تو جلدی کریں اس چینل کو ابھی فالو کریں۔ اور اس نئے فیچر سے فائدہ اٹھائیں۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va89ke0DDmFNpu4ZN43f.‎ Join 66 followers for the latest updates.

02/08/2026
27/06/2026

حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "پچھلی نبوت کی باتیں لوگوں تک پہنچی ہیں ان میں یہ بھی ہے: جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔" (صحیح بخاری، حدیث نمبر 3484)

10/01/2026

Use of Less salt Myth or Reality......

14/11/2025

*مونگ پھلی کھلائیں، بچوں کو الرجی سے محفوظ رکھیں*

آج کے بچے انتہائی حساس پیدا ہورہے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ماں کے حاملہ ہونے کے روز اول سے ہی ماں کی خوراک کے ذریعے اکثر جو غذا بچے تک پہنچنا شروع ہوتی ہے، اسے بالکل بھی صحت مند قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مرغن غذائیں، فرائیڈ فوڈز، پراسیسڈ کھانے، کاربوہائیڈریٹڈ ڈرنکس وغیرہ وغیرہ۔

اس کے بعد جب بچہ اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو آج کے زیادہ تر بچوں کا انحصار ماں کے دودھ کے بجائے ’فارمولا مِلک‘ پر ہوتا ہے۔ ان ہی اور ان جیسی دیگر وجوہات کے باعث آج کے بچےجلد ہی اور ہر آئے دن مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں، جن میں ایک مسئلہ ’الرجی‘ کابھی ہے۔

بچوں میں الرجی کے مسئلے پر میڈیکل سائنس میں کئی برسوں سےتحقیق کا عمل جاری ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں ’مونگ پھلی‘ کو اس (الرجی) کا حل قرار دیا گیا ہے۔ جی ہاں، ہم میں سے اکثر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مونگ پھلی خود الرجی کا باعث بنتی ہے، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ڈاکٹرز خود الرجی سے متاثرہ افراد کو مونگ پھلی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔

اگر 10سال پیچھے چلے جائیں تو ایسی ریسرچ موجود ہیں، جن میں الرجی سے نمٹنے کے لیے مونگ پھلی کا استعمال سختی سے منع کیا جاتا تھا۔ تاہم اب نئی ہونے والی متعدد تحقیق میں اِس نظریے کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں مونگ پھلی اور بچوں میں الرجی کے تعلق پر جب نئی تحقیق کی گئی تو نتائج دیکھ کر ماہرین خود بھی حیران رہ گئے۔

تحقیق کے مطابق، بچپن میں مونگ پھلی سے تیار کردہ مصنوعات کے استعمال سے الرجی کا شکار ہونے کے خطرے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ میں ڈاکٹرز بڑے پیمانے پر تجربات کررہے ہیں اور ان تجربات کے نتائج کافی حوصلہ افزاء بتائے جاتے ہیں۔

حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ، ابتدائی عمر میں مونگ پھلی سے تیار کردہ مصنوعات کے استعمال سے الرجی کا شکار ہونے کے خطرے میں کمی کی توثیق ایک سے زائد تحقیق نے کی ہے۔

اگر ہم چند سال پیچھے چلیں اور سن 2015کی بات کریں تو اس سال، اسی سلسلے میں ایک سروے کیا گیا تھا اور اس سروے میں پہلی بار یہ بات کی گئی تھی کہ بچوں کو چھوٹی عمر میں مونگ پھلیاں کھلانے سے اس سے ہونے والی الرجی سے 80فی صد تک بچنے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔

اب نئی تحقیق میں مزید پیش رفت سامنے آئی ہے اور محققین کہتے ہیں کہ الرجی سے ’مستقل‘ بچاؤ ممکن ہوسکتا ہے۔

انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی نئی تحقیق میں 550ایسے بچوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں مونگ پھلی سے الرجی پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ تحقیق نے بھی سنہ 2015 میں ہونے والی تحقیق پر اپنے نتائج قائم کیے ہیں۔

2015 میں سامنے آنے والی تحقیق، کنگز کالج لندن کی جانب سے کی گئی تھی، جس میں پہلی بار سائنسدانوں کی توجہ اس جانب دلائی گئی تھی کہ بچوں کو مونگ پھلی کے اسنیکس یا دیگر تیار کردہ اشیاء محدود مقدار میں دینے سے ان میں الرجی پیدا ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

نئی تحقیق کے مطابق، اگر ایک بچہ اپنی پیدائش سے 11 ماہ کی عمر تک مونگ پھلی سے تیارکردہ اسنیکس کھاتا ہے اور پانچ سال کی عمر میں وہ یہ غذا ایک سال کے لیے چھوڑ دیتا ہے، تو اس میں الرجی پیدا نہیں ہوگی۔

اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر گیڈیون تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’(تحقیق) سے واضح ہوتا ہے کہ بیشتر شیرخوار بچے محفوظ رہتے ہیں اور یہ تحفظ مستقل ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ ’غذا سے خوف کے ماحول‘ میں رہتے ہیں۔ یہ بات سچ بھی ہے۔

ہم میں سے اکثر والدین اپنے بچوں کو مختلف غذا دینے کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا رہتے ہیں۔ نتیجتاً، بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو اس وقت تک ان کی طبیعت ایسی ہوجاتی ہے کہ وہ کچھ چیزوں کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاتے۔

پروفیسر گیڈیون اس بات کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں،’میرے خیال میں غذا سے الرجی کا خوف خودساختہ طور پیدا کردہ ہے، چونکہ غذا کو خوراک سے نکال دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بچہ برداشت پیدا نہیں کر سکتا‘۔ پرفیسر نے اس پیچیدہ مسئلے کو انتہائی آسان الفاظ میں سمجھا دیا ہے، جسے شاید مزید بیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

محققین نے سنہ 2015 کی تحقیق میں شامل بچوں کو ہی استعمال کیا۔ اس میں سے نصف کو مونگ پھلی کے اسنیکس دیے گئے اور دیگر کی غذا صرف ماں کا دودھ تھی۔ محققین کا کہنا ہے کہ ’تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ چھ سال کی عمر میں، 12 مہینے کے تعطل کے بعد بھی عددی اعتبار سے الرجی میں اضافہ نہیں ہوا ہے، ان بچوں میں جنھوں نے (2015کے) تجربے میں مونگ پھلیاں کھائی تھیں‘۔

تحقیق میں ان بچوں کو شامل کیا گیا تھا جنھیں مونگ پھلی کی الرجی کا خطرہ تھا اور ان کی جلد پر خارش جیسی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوچکی تھیں۔تحقیق میں شریک پروفیسر لیک سمجھتے ہیں کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیا ایسا 12 ماہ سے زائد عرصے تک بھی رہ سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج الرجی کی دیگر اقسام پر بھی لاگو کیے جا سکتے ہیں لیکن انہوں نے والدین کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے گھر میں یہ تجربہ نہ کریں۔ ماہرین کو توقع ہے کہ آنے والے عرصے میں اس طرح کی تحقیق سے نتائج زیادہ واضح ہوں گے، جن کی روشنی میں بچوں میں الرجی کے خلاف قابلِ عمل اقدامات لینا ممکن ہوگا۔

14/11/2025

جگر کا نقصان خاموشی سے شروع ہوتا ہے چربی جمع ہونے سے، اور اگر علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا بن جاتا ہے۔

یہ ہیں جگر کے نقصان کے مراحل 👇

جگر کا نقصان ایک دن میں نہیں ہوتا، یہ ایک خاموش اور بتدریج بڑھنے والی بیماری ہے جو اکثر اُس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی جب تک کہ صورتحال خطرناک نہ ہو جائے۔

🔸 پہلا مرحلہ:
چربی والا جگر (Fatty Liver) — جب غلط خوراک، الکحل یا میٹابولک مسائل جیسے موٹاپا یا ذیابطیس کے باعث جگر کے خلیوں میں چربی جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

🔸 دوسرا مرحلہ:
سوزش (Inflammation) — اگر وجوہات برقرار رہیں تو جگر میں سوزش پیدا ہوتی ہے، جو Fibrosis یعنی نشانات بننے کا باعث بنتی ہے۔ اس دوران جگر کی کارکردگی متاثر ہونے لگتی ہے۔

🔸 تیسرا مرحلہ:
جب زخموں کے نشانات بڑھتے ہیں تو Cirrhosis پیدا ہوتی ہے — جگر مستقل طور پر خراب ہو جاتا ہے اور اس کی کارکردگی خطرناک حد تک کم ہو جاتی ہے۔

🔸 آخری مرحلہ:
اگر علاج نہ کیا جائے تو یہ جگر فیل ہونے یا جگر کے کینسر میں تبدیل ہو سکتا ہے، کیونکہ خلیوں میں مستقل تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔

02/11/2025

۔ڈیٹاکس واٹر کیا ہے؟
ڈیٹاکس واٹر ایسا پانی ہوتا ہے جس میں قدرتی اجزاء جیسے لیموں، کھیرے، پودینہ، سیب، ادرک وغیرہ شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ پانی جسم سے فاضل مادوں (ٹاکسنز) کو خارج کرنے، ہاضمہ بہتر بنانے، وزن کم کرنے اور جلد کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
Follow the Medical Information channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va89ke0DDmFNpu4ZN43f
مشہور ڈیٹاکس واٹر ریسیپیز:
1. لیموں اور پودینہ واٹر
اجزاء: 1 لیموں کے سلائس، چند پودینہ کے پتے، 1 لیٹر پانی
فائدے: قوتِ مدافعت میں اضافہ، ہاضمہ بہتر، منہ کی بدبو کا خاتمہ

2. کھیرا اور لیموں واٹر
اجزاء: آدھا کھیرا (سلائس)، 1 لیموں، 1 لیٹر پانی
فائدے: جسم میں پانی کی کمی پوری، پیٹ کی سوجن کم، جلد صاف

3. سیب اور دار چینی واٹر
اجزاء: 1 سیب (سلائس)، 1 دار چینی کی لکڑی، 1 لیٹر پانی
فائدے: بلڈ شوگر کنٹرول، میٹابولزم میں اضافہ

4. ادرک اور لیموں واٹر
اجزاء: ایک چھوٹا ٹکڑا ادرک، 1 لیموں، 1 لیٹر پانی
فائدے: ہاضمہ بہتر، سوزش کم، متلی میں آرام

طریقہ استعمال:

1. تمام اجزاء پانی میں شامل کریں۔

2. فریج میں 2 سے 4 گھنٹے (یا رات بھر) کے لیے رکھ دیں۔

3. دن بھر تھوڑا تھوڑا پیئیں.❤️😊

whatsapp.com

Category

Telephone

Address

Mardan
23200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zia Health Info posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Mardan.