Pak Afghan Ror Bhai.
Pak Afghan Ror Bhai.
28/04/2026
سوات کے اور شانگلہ کے — دونوں پی ٹی آئی کے ایم پی اے۔
پی ٹی آئی اقتدار میں آنے سے پہلے:
فضل حکیم ایک عام قصائی (butcher) تھا۔
شوکت یوسفزئی ٹی وی سے منسلک کچھ کام کرتے تھے۔
آج دونوں ارب پتی بن چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ "کرپشن سے پاک پارٹی" کا نعرہ لگانے والوں کے یہ ایم پی اے اتنی جلدی اربوں روپے کے مالک کیسے بن گئے؟
کیا یہ محنت، ایمانداری اور تبدیلی کا نتیجہ ہے؟ یا پھر وہی پرانی کہانی — اقتدار میں آتے ہی لوٹ مار؟
پی ٹی آئی والو، جواب دو۔
قصائی سے ارب پتی اور ٹی وی والے سے کروڑ پتی بننے کا فارمولا کیا ہے؟
سچ بولنے کا وقت ہے۔
09/02/2026
یہ شخص جنرل مشرف اپنے زمانے کا فرعون تھا
جس کے گرد چاپلوسوں اور سفاکوں کی فوج تھی۔
5 فروری کو ان کی تیسری برسی پر ان کی قبر پر صرف ان کی اہلیہ اور ایک ملازمہ کھڑی نظر آئیں۔
یہ غرور، ظلم اور اقتدار کے نشے کی انتہا ہے۔
سدا بادشاہی صرف میرے رب کی ہے۔☝️
اور یہ آج کے ہر فرعون کے لیے کھلا پیغام ہے۔
اور آج کے وہ ظالم جرنیل، جن کے دلوں میں ذرہ سا رحم نہیں
یاد رکھیں! تخت اور طاقت تمہیں نہیں بچا سکتے
جب رب کی پکڑ آتی ہے تو تاریخ عبرت بن جاتی ہے۔
31/01/2026
With Life With Styles – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
خلافت شریعت بل عوام کو نامنظور
10/01/2026
پاکستان کا بننا اور قائم رہنا کسی معجزے سے کم نہیں
ہم پاکستانی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ تقریباً 75 سال سے پاکستان میں آئے ہوئے ہر حکمران خواہ وہ سول ہو یا فوجی اس نے کسی نہ کسی طرح پاکستان کو نقصان پہنچایا ہے پاکستان کو کمزور کیا ہے لیکن جو دور عمران نیازی اور باجوہ کا رہا ہے اس کی مثال پورے 78 سال میں نہی ملتی آئے روز یہی صدا بلند ہورہی تھی کہ آج پاکستان ڈیفالٹ ہورہا ہے اور کل ڈیفالٹ ہورہا ہے روزانہ امریکی ڈالر دس اور بیس روپے کے چھلانگ سے آگے کی طرف جارہاتھا مہنگائی اسمان سے باتیں کرنے لگی ملک کی دفاع
2021میں ملٹری مورال اور ملکی معیشت کی حالت یہ تھی کہ اس وقت کے آرمی چیف نے سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انڈیا نے حملہ کردیا تو ہمارے پاس دو فوجی گاڑیوں میں ڈالنے کےلئے پٹرول بھی نہیں ہے۔ سیاسی قیادت کی جرات کی یہ حالت تھی کہ انڈین پائیلٹ کو 24گھنٹوں کے لیے بھی اپنے پاس نہ رکھ سکے ۔
فوج کو ایک ایسی جرات مند اور قابل قیادت کی ضرورت تھی، جو ہر چیز کو upsidedown تبدیل کردے۔
بھلا ہو ملک ریاض ، فرح گوگی، وسیم اکرم پلس، زلفی بخآری اور بشریٰ بی بی کا، جنہوں نے پنجاب میں کرپشن اور پیسوں کے بدلے تبادلوں کا بہت بڑا نیٹ ورک قائم کیا، جس کے ثبوت اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر نے وزیراعظم عمران خان کو دیکر شاباش کی توقع کی، لیکن خاتونِ اوّل روحانی طور پر خان صاحب کے دل میں بوساطت فیض حمید بہت بڑا مقام حاصل کر چکی تھیں۔ خان صاحب نے شدید غصے میں آرمی چیف جنرل باجوہ کو گستاخ عاصم منیر کو فوری طور پر نوکری سے برخاست کرنے کا حکم صادر فرما دیا ۔
وہ لمحہ اور وہ دن قدرت کی طرف سے پاکستان کے روشن مستقبل کا نقطئہ آغاز تھا، کرپشن کی اس کہانی ، اس ملاقات اور نوکری سے برخاست کے حکم نے پاکستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کرنا تھا، خدا کی ذات کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا ۔
بھلا ہو جنرل باجوہ کا، جس نے دباؤ برداشت کرتے ہوئے نوکری سے برخاست کے حکم کو صرف ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے تک محدود کردیا ۔
عدم اعتماد کے ذریعے پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد خان صاحب کے اندر کا خوف کھل کر سامنے آ گیا اور انہوں نے سرعام جلسوں اور تقریروں میں عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنے کی مہم شروع کر دی۔ خان صاحب اس حد تک آگے چلے گئے کہ کوئی سپاہی آرمی چیف بنتا ہے تو بن جائے ، عاصم منیر نہ بنے۔
خان صاحب کی چار سالہ بدترین کارکردگی کے باوجود اینٹی امریکہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کو نوجوانوں میں ملنے والی زبردست پذیرائی، پی ڈی ایم جماعتوں کو اپنی سیاسی موت نظر آ رہی تھی۔
انہوں نے عمران خان کی کمزوری اور انکے اندر کا خوف بھانپ لیا تھا اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے 29نومبر سے ایک دن پہلے ریٹائر ہونے والے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نامزد کر دیا ۔
خان صاحب نے سوشل میڈیا کی اس وقت کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اسٹبلشمنٹ اور فوج سے سرعام جنگ لڑنے کا اعلان کردیا۔
خان صاحب یہ حقیقت سمجھنے سے قاصر رہے کہ حکومتیں اور نظام بدلنے کے لیے سڑکوں پر لاکھوں کی تعداد میں عوام کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ سوشل میڈیا اور پولنگ سٹیشن پر ۔
خان صاحب اور ان کا سوشل میڈیا اس جنگ میں اتنا آگے نکل گئے کہ اپنی سیاسی جماعت کی حیثیت ختم کراکے ایک ریاست مخالف شدت پسند گروہ کی شکل اختیار کرلی، جسکو کچلنا ریاست کے لئے فرض ہو گیا،
لیکن انڈیا اسرائیل اور پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے گٹھ جوڑ کے ذریعے بنایا گیا دباؤ برداشت کرنا ریاست پاکستان کے لیے مشکل نظر آرہا تھا ۔
افغانستان اور انڈیا کے تعاون سے کے پی کے اور بلوچستان میں جہنم کے کتے اپنی کاروائیاں اور اثرورسوخ شہری علاقوں تک بڑھا کر ریاست کی رٹ کو سرعام چیلنج کر رہے تھے ۔
ایسے حالات میں ریاست پاکستان کے دوسرے محسن، مودی جی کی انٹری ہوتی ہے، جس نے اگلا الیکشن جیتنے اور پاکستان کی اندرونی کمزوری سے فائد ہ اٹھانے کے لئے پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن لانچ کیا ۔
افواجِ پاکستان نے آپریشن سندور کے جواب میں معرکہ حق اور آپریشن بنیان المرصوص میں اس جرات اور غیر معمولی مہارت سے انڈیا کی دس گنا بڑی فوج کو محض چند گھنٹوں میں اس طرح چاروں شانے چت کیا کہ دنیا آج تک دانتوں میں انگلیاں دبائے بیٹھی ہے کہ پاکستان نے کیا کیا ہے اور پاکستانی افواج کی عسکری مہارت کو پوری دنیا ایک نئی جنگی حکمت عملی اور مہارت کے طور پر سٹڈی کر رہی ہے ۔
یہی وہ رات تھی جب گمراہ ہونے والے
لاکھوں نوجوان ریاست پاکستان اور افواجِ پاکستان کی محبت کی طرف واپس لوٹ آئے ۔
پاکستان کو یہ عظیم فتح اور عالم گیر عزت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مند قیادت کی بدولت میسر آئی،
وہی عاصم منیر جسے نیازی صاحب نے نوکری سے برخاست کرنے کا حکم نامہ دیا تھا ۔
10 مئی کے بعد کوئی ایک ہفتہ ایسا نہیں گزرا جب کسی اسلامی ملک کا حکمران یا کسی فورس کا سربراہ پاکستان میں نہ ہو یا پاکستان کے حکمران یا فوجی جرنیل کسی اسلامی ملک میں نہ ہوں۔
عزت ذلت کا مالک اللّٰہ کی ذات ہے۔
شکریہ ملک ریاض کرپشن گروپ ، شکریہ وزیراعظم عمران خان ، شکریہ بشرا بی بی, نریندر مودی ۔
پاکستان کی یہ موجودہ عزتیں اور اڑانیں سب آپ سب کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Peshawar
25000.
