Islam Talk.

Islam Talk.

Share

Islam Talk.
📖📗🖋 🌸 📚🤲🕌
Follow for Islamic Info and more

07/07/2026

Daroodpak

25/01/2026

19/01/2026

゚viralシviralシfypシ゚viralシalシ

19/01/2026

ALLAH PAK
゚viralシalシ

16/01/2026

جمعہ مبارک

16/01/2026

درود پـاک

31/12/2025

ALLAH PAK

28/12/2025

حضرت نوح علیہ السلام کی کہانی اُس زمانے سے شروع ہوتی ہے جب انسانوں کے دلوں میں اللہ کی یاد تقریباً مٹ چکی تھی۔ لوگ بتوں کے سامنے جھکتے، پتھروں سے امیدیں باندھتے، ہڈیاں اور درختوں کے ٹکڑے پوجتے تھے۔ سرداروں کی محفلیں تکبر، ظلم اور عیش و عشرت سے بھری ہوتیں۔ غریبوں پر ظلم عام تھا، طاقتور کمزوروں کو کچل دیتے، اور کوئی اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا۔ انہی حالات میں اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ہدایت کی روشنی کے ساتھ بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ دکھائیں۔

حضرت نوح علیہ السلام نے ایک نبی کی طرح نہیں بلکہ ایک مہربان باپ کی طرح قوم کو سمجھایا۔ کبھی نرم لہجے میں، کبھی محبت سے، کبھی انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا کر۔ وہ رات کے اندھیرے میں لوگوں کے دروازوں تک جاتے، صبح کے وقت بازاروں میں انہیں پکارتے، اور کھلے میدانوں میں اعلان کرتے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اسی سے مدد مانگو۔ لیکن قوم کے سردار غرور میں اندھے تھے۔ وہ کہتے، "نوح! ہم تمہاری بات کیسے مانیں؟ تمہارے پیچھے تو غریب لوگ چل رہے ہیں، وہ جنہیں ہم اپنے دروازے کے پاس کھڑا بھی نہیں ہونے دیتے!"

کچھ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کو دیکھ کر قہقہے لگاتے، کچھ کہتے کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں، کچھ آپ کو جھوٹا قرار دیتے۔ مگر آپ نے ساڑھے نو سو (950) سال تک صبر کے ساتھ دعوت جاری رکھی۔ اس طویل عرصے میں آپ کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم رہی۔ جو ایمان لاتے وہ دل سے مخلص تھے، مگر قوم کی اکثریت ہمیشہ انکار کرتی رہی۔

آخرکار اللہ نے نوح علیہ السلام کو خبر دی کہ اب اس قوم کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ آپ کو حکم ملا کہ ایک عظیم کشتی بنائیں۔ جب آپ کھلے میدان میں لکڑیاں کاٹتے، تختے جوڑتے اور کیل ٹھونکتے تو قوم کے لوگ دور کھڑے ہنستے اور کہتے، "نوح! تم زمین پر جہاز بنا رہے ہو؟ کیا اب صحرا میں تیرنے کا ارادہ ہے؟" مگر حضرت نوح علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ اللہ کے حکم پر چل رہے ہیں، اس لیے لوگوں کی کسی بات کا اثر نہ لیتے۔

پھر وہ لمحہ آیا جس کا وعدہ تھا۔ آسمان کے بادل گرجنے لگے، ہوا بے قابو ہو کر چلنے لگی، اور زمین کے اندر سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ بارش ایسی برسی جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ پانی دیکھتے ہی دیکھتے گھروں، درختوں اور پہاڑی راستوں کو ڈھانپنے لگا۔ قوم نوح گھبرا کر بھاگی، چیخ و پکار ہر طرف پھیل گئی۔ وہ پہاڑوں پر چڑھتے، اونچی جگہوں پر دوڑتے، مگر پانی ان کا پیچھا کرتا رہا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے ایک اور آزمائش آئی۔ آپ نے اپنے بیٹے کو آواز دی، "بیٹا! کشتی میں سوار ہو جاؤ، یہ اللہ کا حکم ہے، آج کوئی نہیں بچے گا!" مگر اس نے کہا، "میں پہاڑ پر پناہ لے لوں گا، پانی مجھے نہیں پکڑے گا۔" حضرت نوح نے دل کی ٹوٹتی ہوئی ٹھنڈی سانس کے ساتھ کہا، "آج اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچ سکتا۔" پھر ایک بڑی موج آئی اور نوح علیہ السلام کے بیٹے کو بہا لے گئی۔

آخرکار اللہ نے ظالم قوم کو ڈبو دیا اور صرف وہ لوگ بچے جو کشتی میں سوار تھے۔ جب پانی کم ہوا تو کشتی پہاڑِ جودی پر ٹھہر گئی۔ وہاں سے ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ زمین دوبارہ آباد ہونے لگی، انسانوں کی نسل آگے بڑھی، اور نوح علیہ السلام "ثانی آدم" کہلائے کیونکہ ان کے بعد دنیا دوبارہ انہی کے خاندان سے بسائی گئی۔

طوفان نوح کے بعد کے حالات سکون، شکرگزاری اور اللہ کی قدرت کے اظہار سے بھرے ہوئے تھے۔ بچ جانے والے مومن ایک دوسرے کا سہارا بنے، نئی زمین پر نئے منصوبے بنائے، اور اس عہد کے ساتھ زندگی شروع کی کہ کبھی اللہ کو نہ بھولیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں تقویٰ، عدل، بھائی چارے اور اللہ کے خوف کی تعلیم دی۔ یہ نیا دور ظلم و شرک سے پاک تھا، ایک سچی توحید کی بنیاد پر قائم تھا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی راہ مشکل ہو سکتی ہے، لوگ مذاق اڑا سکتے ہیں، لیکن آخر میں کامیابی اسی کی ہوتی ہے جو سچ، صبر اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔

اس پیج کو لائک فالواور شئیر کرے اگر یہ پوسٹ پسند آئے تو آگے شئیر کریں
https://whatsapp.com/channel/0029VavROSh2Jl89TA6UJv35

28/12/2025

حضرت نوح علیہ السلام کی کہانی اُس زمانے سے شروع ہوتی ہے جب انسانوں کے دلوں میں اللہ کی یاد تقریباً مٹ چکی تھی۔ لوگ بتوں کے سامنے جھکتے، پتھروں سے امیدیں باندھتے، ہڈیاں اور درختوں کے ٹکڑے پوجتے تھے۔ سرداروں کی محفلیں تکبر، ظلم اور عیش و عشرت سے بھری ہوتیں۔ غریبوں پر ظلم عام تھا، طاقتور کمزوروں کو کچل دیتے، اور کوئی اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا۔ انہی حالات میں اللہ نے حضرت نوح علیہ السلام کو ہدایت کی روشنی کے ساتھ بھیجا کہ وہ اپنی قوم کو سیدھا راستہ دکھائیں۔

حضرت نوح علیہ السلام نے ایک نبی کی طرح نہیں بلکہ ایک مہربان باپ کی طرح قوم کو سمجھایا۔ کبھی نرم لہجے میں، کبھی محبت سے، کبھی انہیں اللہ کی نعمتیں یاد دلا کر۔ وہ رات کے اندھیرے میں لوگوں کے دروازوں تک جاتے، صبح کے وقت بازاروں میں انہیں پکارتے، اور کھلے میدانوں میں اعلان کرتے کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اسی سے مدد مانگو۔ لیکن قوم کے سردار غرور میں اندھے تھے۔ وہ کہتے، "نوح! ہم تمہاری بات کیسے مانیں؟ تمہارے پیچھے تو غریب لوگ چل رہے ہیں، وہ جنہیں ہم اپنے دروازے کے پاس کھڑا بھی نہیں ہونے دیتے!"

کچھ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کو دیکھ کر قہقہے لگاتے، کچھ کہتے کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں، کچھ آپ کو جھوٹا قرار دیتے۔ مگر آپ نے ساڑھے نو سو (950) سال تک صبر کے ساتھ دعوت جاری رکھی۔ اس طویل عرصے میں آپ کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم رہی۔ جو ایمان لاتے وہ دل سے مخلص تھے، مگر قوم کی اکثریت ہمیشہ انکار کرتی رہی۔

آخرکار اللہ نے نوح علیہ السلام کو خبر دی کہ اب اس قوم کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ آپ کو حکم ملا کہ ایک عظیم کشتی بنائیں۔ جب آپ کھلے میدان میں لکڑیاں کاٹتے، تختے جوڑتے اور کیل ٹھونکتے تو قوم کے لوگ دور کھڑے ہنستے اور کہتے، "نوح! تم زمین پر جہاز بنا رہے ہو؟ کیا اب صحرا میں تیرنے کا ارادہ ہے؟" مگر حضرت نوح علیہ السلام جانتے تھے کہ وہ اللہ کے حکم پر چل رہے ہیں، اس لیے لوگوں کی کسی بات کا اثر نہ لیتے۔

پھر وہ لمحہ آیا جس کا وعدہ تھا۔ آسمان کے بادل گرجنے لگے، ہوا بے قابو ہو کر چلنے لگی، اور زمین کے اندر سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ بارش ایسی برسی جو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی تھی۔ پانی دیکھتے ہی دیکھتے گھروں، درختوں اور پہاڑی راستوں کو ڈھانپنے لگا۔ قوم نوح گھبرا کر بھاگی، چیخ و پکار ہر طرف پھیل گئی۔ وہ پہاڑوں پر چڑھتے، اونچی جگہوں پر دوڑتے، مگر پانی ان کا پیچھا کرتا رہا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے ایک اور آزمائش آئی۔ آپ نے اپنے بیٹے کو آواز دی، "بیٹا! کشتی میں سوار ہو جاؤ، یہ اللہ کا حکم ہے، آج کوئی نہیں بچے گا!" مگر اس نے کہا، "میں پہاڑ پر پناہ لے لوں گا، پانی مجھے نہیں پکڑے گا۔" حضرت نوح نے دل کی ٹوٹتی ہوئی ٹھنڈی سانس کے ساتھ کہا، "آج اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچ سکتا۔" پھر ایک بڑی موج آئی اور نوح علیہ السلام کے بیٹے کو بہا لے گئی۔

آخرکار اللہ نے ظالم قوم کو ڈبو دیا اور صرف وہ لوگ بچے جو کشتی میں سوار تھے۔ جب پانی کم ہوا تو کشتی پہاڑِ جودی پر ٹھہر گئی۔ وہاں سے ایک نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ زمین دوبارہ آباد ہونے لگی، انسانوں کی نسل آگے بڑھی، اور نوح علیہ السلام "ثانی آدم" کہلائے کیونکہ ان کے بعد دنیا دوبارہ انہی کے خاندان سے بسائی گئی۔

طوفان نوح کے بعد کے حالات سکون، شکرگزاری اور اللہ کی قدرت کے اظہار سے بھرے ہوئے تھے۔ بچ جانے والے مومن ایک دوسرے کا سہارا بنے، نئی زمین پر نئے منصوبے بنائے، اور اس عہد کے ساتھ زندگی شروع کی کہ کبھی اللہ کو نہ بھولیں گے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے انہیں تقویٰ، عدل، بھائی چارے اور اللہ کے خوف کی تعلیم دی۔ یہ نیا دور ظلم و شرک سے پاک تھا، ایک سچی توحید کی بنیاد پر قائم تھا۔

حضرت نوح علیہ السلام کی پوری زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی راہ مشکل ہو سکتی ہے، لوگ مذاق اڑا سکتے ہیں، لیکن آخر میں کامیابی اسی کی ہوتی ہے جو سچ، صبر اور اللہ پر بھروسے کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔

اس پیج کو لائک فالواور شئیر کرے اگر یہ پوسٹ پسند آئے تو آگے شئیر کریں
https://whatsapp.com/channel/0029VavROSh2Jl89TA6UJv35

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Sahiwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Sahiwal
57000