News 700
Allah is the Sustainer of the whole world
اللّٰہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے 🤲🤲
06/10/2026
خیبر پختونخوا کے حساس ضلع میں دفعہ 144 اہم سڑکیں دو دن کیلئے بند کر دی گئیں
06/10/2026
میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش مریم نواز کو وزیر اعظم بنتے دیکھنا ہے، اللہ میری یہ خواہش پوری کرے (ر) کیپٹن صفدر
30/09/2026
ابابیل ایک بہت خاص پرندہ ہے، جس کا ذکر قرآن پاک میں بھی آیا ہے۔
1. قرآنی ذکر:
سورہ الفیل میں ہے جب ابرہہ ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کو گرانے آیا تو اللہ نے *"طَيْرًا أَبَابِيلَ"* یعنی جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے۔ انہوں نے چونچ اور پنجوں میں کنکریاں (سجیل) اٹھا رکھی تھیں اور ابرہہ کے لشکر کو تباہ کر دیا۔
عربی میں *ابابیل کا مطلب "گروہ در گروہ، جھنڈ کے جھنڈ"* ہے، یہ کسی ایک پرندے کا نام نہیں، بلکہ جھنڈ کی شکل میں آنے والے پرندوں کو ابابیل کہا گیا۔
2. عام زبان میں ابابیل کون سا پرندہ ہے؟
ہمارے ہاں عام طور پر جس پرندے کو ابابیل کہتے ہیں، وہ *Swallow / Swift* ہے۔
- *سائز:* چھوٹا، کالا، چمکدار
- *پہچان:* اس کی دم دو حصوں میں چری ہوئی (V شکل کی) ہوتی ہے، اور یہ بہت تیز اڑتی ہے
- *گھونسلہ:* یہ مٹی سے اپنا گھونسلہ چھتوں، مسجدوں اور گھروں میں بناتی ہے
- *خاص بات:* یہ زمین پر بہت کم اترتی ہے، اڑتے اڑتے ہی کیڑے کھا لیتی ہے اور پانی پی لیتی ہے۔ ایک دن میں 500 کلومیٹر تک اڑ سکتی ہے
سائنس میں اسے *Hirundinidae* خاندان کہا جاتا ہے۔
3. خصوصیات:
*فائدہ مند:* یہ انسان دوست ہے، فصلوں کے نقصان دہ کیڑے، مچھر، مکھیاں ہزاروں کی تعداد میں کھا جاتی ہے۔
*نقصان نہیں دیتی:* یہ بالکل بے ضرر ہے، نہ کاٹتی ہے نہ گھر گندا کرتی ہے۔ ہمارے بڑے کہتے ہیں جس گھر میں ابابیل گھونسلہ بنائے، وہاں برکت ہوتی ہے۔
*ہجرت:* سردیوں میں یہ پاکستان سے گرم علاقوں کی طرف چلی جاتی ہے اور گرمیوں میں واپس آ جاتی ہے۔
اسی لیے لوگ آج بھی جب ابابیلوں کا جھنڈ دیکھتے ہیں تو ابرہہ والا واقعہ یاد کرتے ہیں۔
30/09/2026
سانپ کے بارے میں لوگ بہت ڈرتے ہیں، لیکن قدرت میں اس کا اپنا بہت اہم کردار ہے۔
*سانپ کے بارے میں بنیادی معلومات:*
سانپ رینگنے والا جانور ہے، اس کے پاؤں نہیں ہوتے، یہ اپنی پسلیوں سے چلتا ہے۔ دنیا میں تقریباً 3900 قسمیں ہیں، جن میں سے صرف 600 زہریلی ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 70 اقسام ہیں، جن میں سے صرف 14 زیادہ خطرناک ہیں، جیسے کوبرا، سنگچور (Krait)، وائپر۔
سانپ اپنے شکار کو چبا کر نہیں کھاتا، پورا نگل لیتا ہے۔ یہ سال میں ایک دو بار اپنی کھال (کینچلی) بدلتا ہے۔
انسانی زندگی میں سانپ کے فائدے:
*1. کسان کا سب سے بڑا دوست:*
ایک سانپ سال میں 200 سے 300 چوہے کھا جاتا ہے۔ چوہے فصلیں تباہ کرتے ہیں اور طاعون جیسی بیماریاں پھیلاتے ہیں۔ اگر سانپ نہ ہوتے تو کھیت چوہوں سے بھر جاتے۔
*2. دوائیوں میں استعمال:*
سانپ کے زہر سے بہت سی قیمتی دوائیاں بنتی ہیں:
- دل کے دورے اور بلڈ پریشر کی دوا
- کینسر اور شوگر کی تحقیق میں استعمال
- سانپ کے کاٹنے کا اینٹی وینم (تریاق) بھی اسی کے زہر سے بنتا ہے
*3. ماحول کا توازن:*
سانپ مینڈک، چوہے، کیڑے مکوڑوں کی تعداد کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ اگر سانپ ختم ہو جائیں تو ماحول کا سارا نظام بگڑ جائے گا۔
*4. معاشی فائدہ:*
اس کی کھال سے بیلٹ، جوتے بنتے ہیں (اگرچہ اب اس پر پابندی ہے) اور کچھ ممالک میں اسے خوراک کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
سانپ کے نقصانات:
*1. جان کا خطرہ:*
زہریلے سانپ کے کاٹنے سے ہر سال دنیا میں 80 ہزار سے 1 لاکھ لوگ مر جاتے ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر تھر، جنوبی پنجاب اور سندھ میں سنگچور (Krait) رات کو چارپائی پر چڑھ کر کاٹ لیتا ہے۔
*2. خوف اور نفسیاتی اثر:*
سانپ کا ڈر انسان کی فطرت میں ہے۔ بہت سے لوگ سانپ دیکھ کر دل کا دورہ پڑنے سے بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔
*3. مویشیوں کو نقصان:*
بعض بڑے سانپ مرغیوں، بکریوں کے بچوں کو کھا جاتے ہیں۔
*احتیاط:*
سانپ کبھی خود حملہ نہیں کرتا، وہ صرف ڈر کر کاٹتا ہے۔ اس لیے کھیت میں ننگے پاؤں نہ جائیں، رات کو زمین پر نہ سوئیں، اور گھر کے آس پاس صفائی رکھیں۔ اگر سانپ کاٹ لے تو فوراً سرکاری ہسپتال جائیں، دم یا ٹونے میں وقت ضائع نہ کریں۔
30/09/2026
بائی سائیکل ایک دن میں ایجاد نہیں ہوئی، یہ آہستہ آہستہ کئی لوگوں نے مل کر بنائی:
*1817 - پہلی شکل:*
جرمنی کے ایک سائنسدان *کارل وان ڈرائس (Karl von Drais)* نے سب سے پہلی سائیکل بنائی۔ اس میں پیڈل نہیں تھے، آپ کو زمین پر پاؤں مار کر اسے چلانا پڑتا تھا۔ اسے *ڈرائسین (Draisine)* کہتے تھے۔
*1839 - پیڈل لگے:*
اسکاٹ لینڈ کے *کرک پیٹرک میکملن (Kirkpatrick Macmillan)* نے پہلی بار اس میں پیڈل لگائے۔
*1860 - جدید شکل:*
فرانس کے *پیئر میشو (Pierre Michaux)* نے لوہے کی سائیکل بنائی جسے *ویلوسیپیڈ* کہا گیا۔ اس کے آگے والا پہیہ بہت بڑا ہوتا تھا۔
*1885 - آج والی سائیکل:*
انگلینڈ کے *جان کیمپ اسٹارلے (John Kemp Starley)* نے آج جیسی سائیکل بنائی جس میں دونوں پہیے برابر، چین اور ٹائر تھے۔ اسے *سیفٹی بائی سائیکل* کہا گیا اور یہی آج تک چل رہی ہے۔
تو اگر تاریخ لکھنی ہو تو *1817 کو بائی سائیکل کی ایجاد کا سال* مانا جاتا ہے۔
30/09/2026
کپڑوں پر لگانے والے بٹن کئی چیزوں سے بنتے ہیں، کپڑے اور فیشن کے حساب سے ان کا میٹیریل بدلتا ہے:
*1. پلاسٹک - سب سے عام (90% بٹن اسی سے بنتے ہیں):*
- *پالئیےسٹر / رال (Resin):* آج کل کی شرٹس، پینٹ کے زیادہ تر بٹن اسی سے بنتے ہیں۔ سستے، مضبوط اور ہر رنگ میں بن جاتے ہیں۔
- *یوریا (Urea):* یہ بھی پلاسٹک کی ایک قسم ہے، تھوڑا مہنگا لیکن چمکدار ہوتا ہے۔
*2. دھات (Metal):*
- جینز کی پینٹ، جیکٹ، اور وردیوں والے بٹن۔ یہ لوہے، تانبے یا ایلومینیم سے بنتے ہیں، اس لیے زنگ نہیں لگتا اور مضبوط ہوتے ہیں۔
*3. قدرتی چیزیں:*
- *سیپ (Shell / Mother of Pearl):* قمیضوں کے مہنگے اور چمکدار سفید بٹن سمندری سیپ سے بنتے ہیں۔
- *لکڑی (Wood):* کرتا، جیکٹ اور فینسی کپڑوں میں لکڑی کے بٹن استعمال ہوتے ہیں۔
- *ناریل (Coconut Shell):* ناریل کے خ*ل سے بھورے رنگ کے بٹن بنتے ہیں۔
- *سینگ / ہڈی (Horn/Bone):* پہلے زمانے میں جانوروں کے سینگ سے بنتے تھے، اب کوٹ کے مہنگے بٹنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
*4. کپڑا / چمڑا:*
- کبھی کبھی بٹن کو اسی کپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا ہے جس کا سوٹ ہو، اسے Covered Button کہتے ہیں۔
آج کل عام بازار میں جو آپ کو 10-20 روپے کے بٹن ملتے ہیں وہ سب پلاسٹک کے ہوتے ہیں، جبکہ برانڈڈ کپڑوں میں سیپ یا دھات کے بٹن لگے ہوتے ہیں۔
30/09/2026
بسنت کا تہوار بہت پرانا ہے، اس کو کسی ایک شخص نے ایجاد نہیں کیا، یہ موسموں سے جڑا ہوا تہوار ہے۔
*اصل شروعات:*
1. *مذہبی بنیاد:* یہ ہندو مذہب کا تہوار *وسنت پنچمی* ہے۔ ہندو روایات کے مطابق یہ ہزاروں سال سے منایا جا رہا ہے، جب موسم بہار آتا ہے، سرسوں کے پھول کھلتے ہیں تو دیوی سرسوتی کی پوجا کی جاتی ہے۔ یہ مہینہ ہندی کیلنڈر کے *ماگھ* مہینے میں، جنوری-فروری کے آخر میں آتا ہے۔
2. *لاہور میں مشہور کس نے کیا؟*
لاہور میں اس کو تہوار کی شکل میں مشہور کرنے والے دو نام لیے جاتے ہیں:
- *حضرت امیر خسرو (1253-1325):* کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کو خوش کرنے کے لیے پہلی بار زرد کپڑے پہنے اور سرسوں کے پھول پیش کیے، تب سے بہار کا جشن منایا جانے لگا۔
- *مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780-1839):* مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں لاہور میں بسنت کو سرکاری تہوار بنا دیا گیا۔ وہ خود قلعہ لاہور سے پتنگ بازی کا مقابلہ دیکھتے تھے اور سارا شہر پیلے کپڑے پہنتا تھا۔ تب سے لاہور کی بسنت دنیا بھر میں مشہور ہو گئی۔
تو مختصر یہ کہ *تہوار کے طور پر شروعات قدیم ہندوستان سے ہوئی، صوفیاء نے اسے محبت کے رنگ میں اپنایا، اور لاہور میں اسے بطور پتنگوں کے تہوار کے مہاراجہ رنجیت سنگھ نے عروج دیا۔
پنجاب میں اب بھی یہ بہار کے آنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔
30/09/2026
دنیا میں دھاگے کی ایجاد تقریباً 30,000 سے 36,000 سال پہلے ہوئی تھی، جبکہ باقاعدہ بُن کر پہننے والے کپڑے بنانے کی شروعات 6,000 قبل مسیح (یعنی اب سے تقریباً 8,000 سال پہلے) ہوئی تھی۔
انسان نے ابتدا میں درختوں کے پتوں اور جانوروں کی کھال سے خود کو ڈھانپا۔ اس کے بعد کپڑوں اور دھاگے کا سفر دو بڑے مراحل میں طے ہوا:
1. دھاگے (سوت) کی ایجاد
آثار قدیمہ کے ماہرین کو جارجیا کی ایک غار سے سن (Flax) کے پودے کے ریشوں سے بنے دھاگے ملے ہیں، جو تقریباً 30,000 سے 36,000 سال پرانے ہیں۔ شروع میں انسان ان دھاگوں کو کپڑا بنانے کے لیے نہیں، بلکہ چیزیں باندھنے، ٹوکریاں اور مچھلی پکڑنے کے جال بنانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔
2. پہننے کے لیے کپڑے کی تیاری
باقاعدہ ریشوں کو کات کر اور دھاگے کو لوم (کھڈی) پر بُن کر کپڑا بنانے کا آغاز نیو لیتھک (Stone Age) کے آخری دور میں ہوا:
ریشم (Silk): چین میں ریشم کے کپڑے بُننے کے اثرات تقریباً 8,500 سال پہلے (6500 قبل مسیح) کے ملتے ہیں۔
روئی (Cotton) اور کپڑا: وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب کے علاقے مہر گڑھ (بلوچستان، پاکستان) سے 6000 قبل مسیح (تقریباً 8,000 سال پرانے) روئی کے ریشے ملے ہیں جو تانبے کے موتیوں کے اندر محفوظ رہ گئے تھے۔ اس کے علاوہ پیرو اور جنوبی ترکی سے بھی 6,000 سال پرانے بُنے ہوئے کپڑے دریافت ہوئے ہیں۔
سوئی کی ایجاد: جب انسان نے کپڑا بُننا سیکھ لیا، تو بعد میں سلائی والی سوئی ایجاد ہوئی، جس کے بعد کپڑوں کو باقاعدہ ناپ کے مطابق سی کر پہننے کا رواج شروع ہوا۔ اس سے پہلے لوگ کپڑے کو صرف جسم پر لپیٹتے تھے (جیسے دھوتی یا ساڑھی)۔
Category
Address
Sahiwal
54000
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when News 700 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
