Tariq Short Video
Join WhatsApp channel
https://whatsapp.com/channel/0029VbBzCxj35fLqBM9qAJ2i
14/06/2026
سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے المھد میں اہم تاریخی و قدیم آثار دریافت ہوئے ہیں، جن میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے نقوش بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس علاقے سے مجموعی طور پر 1774 قدیم آثار دریافت ہوئے ہیں، جن میں 461 نقوش اسلامی دور سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ تقریباً 2500 سال قبل قومِ ثمود کے زمانے سے تعلق رکھنے والے 34 آثار بھی اس مقام سے برآمد ہوئے ہیں۔ یہ علاقہ مدینہ منورہ سے تقریباً 150 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔
تاریخی ماہرین کے مطابق المھد کا علاقہ قدیم دور میں شمال اور جنوب کے درمیان قافلوں کا اہم تجارتی راستہ تھا، جہاں ثمودی، نبطی اور اسلامی ادوار میں قافلے پڑاؤ کرتے رہے۔
ان تمام دریافتوں میں سب سے زیادہ توجہ جس نقش نے حاصل کی، وہ ایک مختصر مگر نہایت بامعنی عبارت پر مشتمل ہے
"الله ولي عمر بن الخطاب في الدنيا والآخرة، لا إله إلا الله"
یعنی: "اللہ عمر بن خطاب کا دنیا اور آخرت میں کارساز ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔"
ماہرین کے مطابق یہ نقش ابتدائی اسلامی دور کے معروف حجازی رسم الخط میں لکھا گیا ہے، جسے بعد میں کوفی خط نے ترقی دے کر مزید منظم شکل دی۔ حجازی خط پہلی صدی ہجری کے دوران رائج رہا اور دوسری صدی ہجری میں بتدریج کم ہوتا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نقش کی تاریخی اہمیت غیر معمولی سمجھی جا رہی ہے۔
متعدد محققین کا خیال ہے کہ یہ نقش یا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تحریر کیا گیا اور قوی امکان ہے کہ اسے خود فاروقِ اعظمؓ نے اپنے دستِ مبارک سے لکھا ہو۔ تاریخی مصادر سے معلوم ہے کہ سیدنا عمرؓ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، جو اس دور میں ایک خاص امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ اگر مستقبل کی تحقیقات اس نسبت کو مزید مضبوط کر دیتی ہیں تو یہ اسلامی تاریخ کی اہم ترین مادی شہادتوں میں شمار ہوگی۔
مدینہ کے پہاڑوں میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی دریافت نہیں۔ گزشتہ برسوں میں بھی سعودی عرب میں کئی ایسے نقوش دریافت ہو چکے ہیں جن کا تعلق براہِ راست عہدِ صحابہ سے ہے۔ ان میں سب سے مشہور نقش صحابیِ رسول اور کاتبِ وحی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہے، جس میں درج ہے:
"اللهم اغفر لزيد بن ثابت ولمن قرأ هذا الكتاب ثم قال آمين آمين رب العالمين رب موسى وهارون"
یعنی: "اے اللہ! زید بن ثابت کو بخش دے اور اس شخص کو بھی جو اس تحریر کو پڑھے، پھر آمین کہے۔ اے تمام جہانوں کے رب! اے موسیٰ و ہارون کے رب!"
اس کے علاوہ بھی حجاز کے مختلف علاقوں میں ابتدائی اسلامی دور کے کئی نقوش دریافت ہوئے ہیں جن میں صحابہ کرام، تابعین اور ابتدائی مسلم نسلوں کے نام، دعائیں، قرآنی عبارات اور توحید کے کلمات محفوظ ہیں۔ ان نقوش کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ یہ ہمیں اس دور کے نفوس قدسیہ کی براہِ راست آواز سناتے ہیں۔ یہ روایات کی کتابوں میں نقل شدہ معلومات نہیں بلکہ خود ان لوگوں کے ہاتھوں سے لکھی گئی تحریریں ہیں جو اسلام کے اولین ادوار کے چشم دید گواہ تھے۔
جدید دور میں بعض مستشرقین اور نام نہاد "تنقیحی" (Revisionist) نظریات کے حامل مصنفین نے اسلام کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں عجیب و غریب شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بعض نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ ابتدائی اسلامی شخصیات کے وجود کے لیے کافی مادی شواہد موجود نہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں بعض افراد نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ جیسی عظیم شخصیات کے تاریخی وجود تک پر سوالات اٹھائے اور بعض عقل کے اندھے تو ان کی خلافت کا علی الاعلان انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ علمی دنیا میں تاریخ صرف آثارِ قدیمہ پر قائم نہیں ہوتی بلکہ روایات، تحریری مصادر، جغرافیائی شواہد، سکہ جات، کتبے اور دیگر متعدد قرائن مل کر تاریخی حقیقت کو ثابت کرتے ہیں۔
اس کے باوجود جب کسی صحابی کا نام پتھر پر کندہ حالت میں سامنے آتا ہے تو یہ تاریخ کے ایک نئے باب کا اضافہ بن جاتا ہے۔ ایسے نقوش ان لوگوں کے لیے بھی ایک مضبوط جواب ہیں جو ہر تاریخی حقیقت کو صرف آثارِ قدیمہ کے ترازو میں تولنا چاہتے ہیں۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی شخصیت اسلامی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ وہ وہی شخصیت ہیں جن کے اسلام قبول کرنے سے مسلمانوں کو قوت ملی، جن کے عدل کی مثالیں آج بھی دنیا کے قانونی اور سیاسی ادب میں بیان کی جاتی ہیں، جنہوں نے بیت المقدس فتح کیا، جن کے دور میں عراق، شام، مصر اور فارس کے وسیع علاقے اسلامی ریاست میں شامل ہوئے، جنہوں نے انتظامی ڈھانچے، بیت المال، عدالتی نظام اور عوامی فلاح کے ایسے اصول قائم کیے جن سے بعد کی مسلم ریاستوں نے رہنمائی حاصل کی۔
اس دریافت کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اس تحریر میں سیدنا عمرؓ نے نہ تو اپنی خلافت کا ذکر کیا ہے، نہ فتوحات کا، نہ اقتدار کا اور نہ کسی دنیاوی عظمت کا۔
بقیہ تحریر کمنٹس اس پوسٹ کے کمنٹ میں پڑھیں
Like this reels
11/06/2026
Like this image
11/06/2026
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11/06/2026
ایمانداری کا صلہ
10/06/2026
Like this image
09/06/2026
صحابہ کرام کے اجسام کی حفاظت کا معجزہ عراق میں جب دو صحابہ اکرام رضوان الله اجمعین کی 1932 قبور مبارک میں پانی داخل ہوا اور ان کے مزارات کو انہی کے حکم سے منتقل کیا گیا تھا ۔ عراق کا بادشاہ ملک فیصل (اول) گہری نیند میں تھا اس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی اس سے کہہ رہا تھا۔ ہم رسول الله صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کے دو صحابی دریائے دجلہ کے کنارے دفن ہیں دریا کا رخ تبدیل ہو رہا ہے پانی ہماری طرف بڑھ رہا ہے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک میں پانی آچکا ہے جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر بھی نم ہونے لگی ہے ہمیں یہاں سے نکال کر دریا کے کنارے سے کچھ فاصلے پر دفن کیا جائے۔ عراق کے بادشاہ نے یہ الفاظ خواب میں سنے لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہ دی دوسری رات پھر یہی الفاظ سنائی دیئے لیکن اس نے اب بھی توجہ نہ دی۔ تیسری رات یہ خواب عراق کے مفتی اعظم نوری السعید پاشا کو دکھائی دیا انہوں نے اسی وقت وزیر اعظم کو ساتھ لیا اور بادشاہ کی خدمت میں پہنچ گئے جب انہوں نے بادشاہ سے اپنا خواب بیان کیا تو بادشاہ چونکا اور بولا یہ خواب تو میں بھی دو بار دیکھ چکا ہوں " اب
انہوں نے مشورہ کیا آخر بادشاہ نے مفتی اعظم سے کہا پہلے آپ قبروں کو کھولنے کا فتویٰ دیں تب میں اس خواب کے مطابق عمل کروں گا۔ مفتی اعظم نے اسی وقت قبروں کو کھولنے اور اس میں سے مقدس اجسام کو نکال کر
دوسری جگہ دفن کرنے کا فتویٰ جاری کر دیا اب یہ فتویٰ اور شاہی فرمان اخبارات میں شائع کر دئیے گئے اور اعلان کیا گیا کہ عید قربان کے دن دونوں اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی قبریں کھولی جائیں گی۔ اخبارات میں جوں ہی یہ خبر شائع ہوئی تو دنیائے اسلام میں بجلی کی طرح پھیل گئی اخبارات کی دنیا اس خبر کو لے ازی اور مزے کی بات یہ کہ یہ حج کے دن تھے تمام دنیا سے مسلمان حج کیلئے مکہ اور مدینہ میں پہنچے ہوئے تھے انہوں نے درخواست کی کہ قبریں حج کے چند روز بعد کھولی جائیں تاکہ وہ سب بھی اس پروگرام میں شرکت کرسکیں۔ اسی طرح حجاز مصر، شام ، لبنان، فلسطین ترکی ایران بلغاریہ روس ہندوستان وغیرہ ملکوں سے شاہ عراق کے نام سے بے شمار تار پہنچے کہ ہم بھی اس موقع پر شرکت کرنا چاہتے ہیں مہربانی فرما کر مقرره تاریخ چند روز آگے بڑھا دی جائے۔ چنانچہ دنیا بھر کے مسلمانوں کی خواہش پر دوسرا فرمان یہ جاری کیا گیا کہ اب یہ کام حج کے دس دن بعد کیا جائے گا۔ آخر کار وہ دن بھی آگیا جب قبروں کو کھولنا تھا دنیا بھر سے مسلمان وہاں جمع ہوچکے تھے پیر کے دن دوپہر بارہ بجے لاکھوں انسانوں کی موجودگی میں قبروں کو کھولا گیا۔ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں کچھ پانی آچکا تھا جبکہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر میں نمی پیدا ہوچکی تھی اگرچہ دریائے دجلہ وہاں سے دو فرلانگ دور تھا۔ تمام ممالک کے سفیروں عراقی حکومت کے تمام ارکان اور شاہ فیصل کی موجودگی میں پہلے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جسم مبارک کو کرین کے ذریعے زمین سے اس طرح اوپر اٹھایا گیا کہ ان
کی نعش کرین پر رکھے گئے سٹریچر پر خود بخود آگئی
اب کرین سے سٹریچر کو الگ کرکے شاہ فیصل مفتی اعظم وزیر جمہوریہ ترکی اور شہزادہ فاروق ولی عهد مصر نے سٹریچر کو اپنے کندھوں پر اٹھایا اور نہایت احترام کے ساتھ ایک شیشے کے تابوت میں رکھ دیا۔ پھر اسی طرححضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جسم مبارک کو نکالا گیا۔ دونوں اجسام کے کفن بالکل محفوظ تھے یہاں تک کہ ڈاڑھی مبارک کے بال بھی صحیح سلامت تھے۔ اجسام کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ تیرہ سو سال پہلے کی ہیں بلکہ یوں گماں گزرتا تھا انہیں وفات پائے ابھی مشکل سے دو تین گھنٹے ہوئے ہیں۔
سب سے عجیب بات یہ ہے کہ دونوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں ان میں اس قدر تیز چمک تھی کہ دیکھنے والے ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ نہ سکے بڑے بڑے ڈاکٹر یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ ان مقدس اجسام کو مزار سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس منتقل کر دیا گیا ۔ سچ ہے کہ محمد ﷺ کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا
بہتر سب اللہ تعالی جانتا ہے اگر کچھ غلطی ہوئی ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ کے صدقے . ہمیں معاف فرمائے آمین
آپ کا ایک فالو اور ایک شئیر آپ کے لیے صدقہ جاریہ بن سکتا ہے شکریہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Makkah
24211
