Nasir Janjua
فَبِاَىِّ اٰلَاۤءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِۙ
“So which of the favors of your Lord
15/03/2026
ہر وہ شخص جسے آپ جانتے ہیں، اس کے اندر ایک شخص ہوتا ہے جسے آپ نہیں جانتے۔
اکثر ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ہم لوگوں کو جانتے ہیں ان کی ہنسی ان کی عادتیں ان کی باتیں سب پہچان لیتے ہیں
ہے مگر سچ یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک اور دنیا آباد ہوتی - ایسی دنیا جس تک کسی کی رسائی نہیں ہوتی وہاں کچھ خاموش دکھ ہوتے ہیں، کچھ ادھورے خواب کچھ ان کہی کہانیاں اور کچھ ایسے راز جو کبھی زبان تک نہیں آتے۔
انسان صرف وہ نہیں ہوتا جو وہ لوگوں کو دکھاتا ہے، بلکہ اس کے اندر ایک ایسا وجود بھی ہوتا ہے جو خاموشی میں جیتا ہے
اسی لیے کسی کو مکمل طور پر جان لینے کا دعویٰ شاید ممکن ہی نہیں، کیونکہ ہر شخص کے اندر ایک ایسا انسان بھی چھپا ہوتا ہے جس سے دنیا اب تک ناواقف ہوتی ہے۔
01/03/2026
جنت وہ واحد شاندار جگہ ہے جہاں جانا تو سب چاہتے ہیں مگر جلدی کسی کو نہیں
ہر کوئی ترستا ہے اس گھر کے لیے ہر کوئی روتا ہے اس کی چاہت میں ہر کوئی دعاؤں میں مانگتا ہے اسے مگر جلدی وہاں پہنچنے والا کوئی نہیں۔
دنیا سے دل لگا کر بیٹھے ہیں گناہوں میں کھو کر رہ گئے ہیں جنت کی باتیں تو ہوتی ہیں مگر جنت والے کام کوئی نہیں کرتا۔
، وہ جنت جس کے لیے آنکھیں جاگنی ہیں وہ جنت جس کے لیے خواہشیں مرنی ہیں کس کو ہے اس کی جلدی؟ کیونکہ دنیا میں تو ہر کوئی بس جینے آیا ہے مرنے کی جلدی کسی ؟
مگر بھول جاتے ہیں کہ آخر جانا تو وہیں ہے اور وہاں جلدی جانا بھی ایک تحفہ ہے ان کے لیے جو اس دنیا میں جینے کے نہیں اپنے رب کے لیے جینے والے تھے۔
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقی میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
منزلیں لاکھ کٹھن آئیں گزر جاؤں گا حوصلہ ہار کے بیٹھوں گا تو مر جاؤں گا
چل رہے تھے جو میرے ساتھ کہاں ہیں وہ لوگ جو یہ کہتے تھے کہ رستے میں بکھر جاؤں گا
در بدر ہونے سے پہلے کبھی سوچا بھی نہ تھا گھر مجھے راس نہ آیا تو کدھر جاؤں گا
یاد رکھے مجھے دنیا تری تصویر کے ساتھ رنگ ایسے تری تصویر میں بھر جاؤں گا
لاکھ روکیں یہ اندھیرے مرا رستہ لیکن میں جدھر روشنی جائے گی ادھر جاؤں گا
راس آئی نہ محبت مجھے ورنہ ساقی میں نے سوچا تھا کہ ہر دل میں اتر جاؤں گا
15/11/2025
شہد کا ایک قطره زمین پر گر گیا.
ایک چھوٹی سی چیونٹی آئی اور اُس نے اس شہد کے قطرے سے تھوڑا سا چکھا تو اُسے بڑا مزا آیا۔
اسے کام سے جانا تھا تو جب وہ جانے لگی تو اس شہد کا مزہ اس کے منہ میں مزید پانی لانے کا سبب بنا، اُس کا منہ بھر آیا: کیا زبردست اور مزے دارشہد ہے۔
کتنا میٹھا!
آج تک ایسا شہد نہیں کھایا
وہ لوٹی اور شہد میں سے تھوڑا سا اور چکھ لیا...
اس نے دوبارہ جانے کا عزم کیا مگر اُس نے محسوس کیا کہ یہ تھوڑا سا شہد کھانا کافی نہیں ہے، اُسے اور کھانا چاھئے۔
وہ رکی اور اس مرتبہ کھانے کے بجائے شہد پر گر پڑی تا کہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرلے!
وہ چیونٹی شہد میں غوطہ زن ہو گئی اور لطف اندوز ہونے لگی۔
مگر افسوس کہ وہ شہد سے باہر نہ نکل سکی۔
شہد کی چکنائی کی وجہ سے اس کے پیر زمین سے چپک گئے تھےاور اس میں انہیں ہلانے کی طاقت نہ رہی.
وہ شہد میں رہ گئی یہاں تک کہ وہ اسی میں ہی مر گئی
اس کی لذت اندوزی نے شہد کو ہی اس کی قبر میں تبدیل کر دیا ۔
ایک دانا کا قول ھے:
دنیا شہد کے ایک بہت بڑے قطرے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے!
پس جو بھی اس قطرہ شہد میں سے تھوڑا اور بقدر کفایت کھانے پر اکتفاء کرے وہ کامیاب رہے گا اور جو حد سے تجاوز کرے گا تباہ ہو جائے گا
لالچ بری بلا ہے اللہ کریم ہم سب کو اس بیماری سے بچاے آمین ثم آمین
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Manama
