Tech Chunx

Tech Chunx

Teilen

Tech Chunx shares easy tips on data, AI, and digital skills to help you grow smarter every day

You can find effective home remedies for your health and ultimate beauty. Further more you can get advice from authentic medical doctor regarding your health.

29/07/2026

یہ 1979ء کی بات ہے…
بابر اُس وقت صرف چار یا پانچ سال کا معصوم بچہ تھا۔ والد کا نام اصغر اور والدہ کا نام سید بی بی تھا۔ خاندان ایک کچے مکان میں رہائش پذیر تھا۔
بابر اپنے ماں باپ کا لاڈلا اور اپنے دو بھائیوں کا سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ گھر بھر کی آنکھوں کا تارا… وہ خود کہتا ہے:
"مجھے گھر میں بہت زیادہ پیار کیا جاتا تھا۔ میں اپنی مستیوں میں گم، اپنی چھوٹی سی دنیا کا بادشاہ تھا۔"
پھر ایک دن اُس کی معصوم دنیا ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔
بابر کے ماموں نے کہا:
"چلو، پتاسے کھانے چلتے ہیں۔"
ننھے بابر نے خوشی خوشی ماموں کی انگلی پکڑی اور اچھلتا کودتا اُن کے ساتھ چل پڑا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ یہ سفر ماں کی گود، باپ کے سائے اور اپنے گھر سے نصف صدی کی جدائی کا آغاز ہے۔
ماموں اسے ٹرک کی فرنٹ سیٹ پر (ماموں ٹرک چلاتا تھا) بٹھا کر صبح سے سفر کرتے ہوئے سہ پہر کے وقت لاہور کے ایک علاقے میں لے آئے۔ وہاں ماموں نے بابر سے کہا:
"تم یہاں رکو، میں ابھی آتا ہوں۔"
ماموں تو واپس نہ آئے…
اور وہ دن اور آج کا دن، بابر اپنے ماں باپ سے بچھڑ گیا۔
ایک ننھے بچے سے اس کا بچپن چھن گیا۔۔ایک گھر اجڑ گیا۔
ایک ماں اپنے بیٹے کے انتظار میں رہ گئی۔ایک باپ اپنے لاڈلے کو ترستا رہا۔
بابر کو ایک یتیم خانے نے اپنے پاس رکھ لیا۔ وہاں اس کی اچھی پرورش ہوئی۔ ادارے کی میڈم نے اسے اپنے بچوں کی طرح محبت دی۔ بابر کی فائل آج بھی اسی ادارے میں موجود ہے۔
بچپن کی تصویر بھی ادارے کے ریکارڈ سے ملی ہے۔
ادارے کے منتظمین کے مطابق جب بابر وہاں آیا تھا تو وہ فارسی زبان میں کوئی نغمہ گنگنایا کرتا تھا، جس کے آخر میں شاید "لولولولو" کے الفاظ آتے تھے۔ ممکن ہے وہ اپنی ماں کی سنائی ہوئی کوئی لوری گاتا ہو… شاید ماں کی وہ لوری ہی تھی جو اس معصوم بچے کو اتنی بڑی جدائی کے باوجود یاد رہ گئی۔
آج تقریباً 47 سال گزر چکے ہیں۔
بابر خود بچوں کا باپ بن چکا ہے، مگر اس کے دل میں آج بھی اپنے ماں باپ کی محبت ویسی ہی زندہ ہے۔ وہ آج بھی اپنے والد اصغر اور والدہ سید بی بی کو یاد کرتا ہے اور اُن کی محبت کے لیے ایسے تڑپتا ہے جیسے مچھلی پانی کے لیے تڑپتی ہے۔
اسے اپنے والدین کے نام کے علاوہ خاندان کے کسی فرد کا نام یاد نہیں۔
لیکن امید ابھی زندہ ہے…!
ہو سکتا ہے بابر کے والدین دنیا میں نہ ہوں، لیکن شاید اس کے بھائی، رشتہ دار یا کوئی ایسا شخص آج بھی موجود ہو جو اصغر اور سید بی بی کے اس بچھڑے ہوئے بیٹے بابر کو پہچان سکے۔
اللہ کا نام لے کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
کیا معلوم یہ پوسٹ کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو بابر کے خاندان کو جانتا ہو۔
اللہ بچھڑوں کو ملانے والا ہے۔ ان شاء اللہ، بابر کا خاندان بھی مل سکتا ہے۔
کسی بھی قسم کی اطلاع ہو تو نیچے درج نمبر پر واٹس ایپ کریں:
+92 316 2529829

29 جولائی 2026

21/07/2026

اس نوجوان کو اپنا نام ساجد یاد ہے۔
ساجد کا کہنا ہے کہ میں چار یا پانچ سال کا تھا جب اپنے گھر کے باہر سے اغ*واء ہوا تھا۔
ساجد کا کہنا ہے ہم فلیٹ میں رہتے تھے۔میں ماں باپ کا اکلوتا تھا،
امی نے مجھے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹا نیچے مت جانا کوئی اٹھاکر لےجائےگا۔میں چیز لینے کے لئے لفٹ کے ذریعے نیچے اترا کسی نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اسکے بعد مجھے ہوش نا رہا۔ جب ہوش میں آیا تو ٹرین میں تھا۔
وہ شخص مجھے لاہور لایا۔لاہور میں ایک جگہ رکھا تھا وہ ن*شہ کرتا تھا مجھے بہت مارتا تھا،مقامی لوگوں نے میری حالت دیکھ کر مجھے اس شخص سے چھین لیا۔
کسی فیملی نے اپنا بیٹا بنا لیا۔ پھر ان کے بعد مزید دو فیملیز نے رکھا۔ ابھی میں 23/24 سال کا ہوں۔میری شادی ہوچکی ہے۔ایک فیکٹری میں کام کرتا ہوں۔ امی ابو کی یاد نے مجھے کھوکھلا کردیا ہے۔ خدا کے لئے مجھے میرے گھر سے ملوائیں۔
ساجد کا کہنا ہے کہ مجھے لوگوں نے بتایا کہ تم جب شروع شروع میں آئے تھے بہت صاف شفاف اردو بولتے تھے۔ شاید میں کراچی سے ہوں۔
صاف اردو اور فلیٹ میں رہائش ممکن ہے کراچی سے ساجد اغو*اء ہوا ہو۔
لیکن یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کراچی کا ہی ہو۔ جسکی وجہ سے ہمیں صرف کراچی نہیں پاکستان بھر میں اس پوسٹ کو پھیلانا ہے تاکہ ملک کے جس کونے میں ساجد کے خاندان والے پوسٹ دیکھیں تو رابطہ کریں۔
بچپن کی جو تصویر ہے یہ لاہور آنے کے ایک سال بعد کی ہے امید ہے گھر والے پہچان لیں گے۔
شئیر کریں اور ڈھیروں نیکیاں کمائیں۔

کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

21 july 2026

29/06/2026
22/06/2026

What is the national dish of Pakistan?

14/06/2026

اگر آپ کو پوری دنیا کو صرف ایک جملے کا پیغام دینا ہو، تو آپ کیا کہیں گے

14/06/2026

وہ کون سی چیز ہے جو جنرل نالج، سوشل ایشوز اور اسلام تینوں میں اہم ہے: سچائی، ذمہ داری یا انصاف

14/06/2026

کیا معاشرے میں مسائل زیادہ ہیں یا ان کے حل پر کام کرنے والے لوگ کم ہیں

13/06/2026

اسلام میں علم کے ساتھ عمل کو کیوں ضروری قرار دیا گیا ہے

13/06/2026

کیا سوشل میڈیا پر کسی کی تذلیل کرنا غیبت سے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے

13/06/2026

اسلام میں پڑوسی کے حقوق کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے

Wollen Sie Ihr Service zum Top-Schönheitssalon in Offenbach am Main machen?
Klicken Sie hier, um Ihren Gesponserten Eintrag zu erhalten.

Webseite

Adresse


Offenbach Am Main