Qari Muhammad Saleem Jatoi official

Qari Muhammad Saleem Jatoi official

Share

tiktok.com/@islamicrepublic10

27/05/2026

تمام اہلِ اسلام، بالخصوص میرے پیارے اہل اسلام کےبھائیوں اور بہنوں کو عیدالاضحیٰ کی دلی مبارکباد۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کی قربانیاں، عبادات اور حج سعید کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
یہ بابرکت دن ہمارے لیے امن، محبت، اخوت اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے۔
اللہ پاک پاکستان کو ترقی، استحکام اور سلامتی عطا فرمائے۔
عیدالاضحیٰ مبارک! 🌙❤️🧡🥀 #

26/05/2026

26/05/2026

بغیر فریز کے گوشت کو محفوظ رکھنے کا طریقہ ۔۔۔خود بھی محفوظ کریں اور دوسروں کو بھی یہ بہترین طریقہ بتائیں

25/05/2026

🕋 حج صرف ایک سفر نہیں، یہ روح کی پاکیزگی کا نام ہے۔
مکہ سے منیٰ، منیٰ سے عرفات، پھر مزدلفہ اور جمرات تک…
ہر قدم انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے، ہر دعا دل کو سکون دیتی ہے۔ 🤍

✨ عرفات وہ مقام ہے جہاں آنکھوں سے آنسو اور دل سے گناہ بہتے ہیں۔
✨ مزدلفہ صبر، سکون اور اللہ پر بھروسے کا درس دیتا ہے۔
✨ جمرات ہمیں سکھاتا ہے کہ شیطان کے ہر وار کو ایمان سے شکست دینی ہے۔

🌙 حج ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ
دنیا کی اصل کامیابی دولت یا شہرت نہیں،
بلکہ اللہ کی رضا اور اس کی قربت ہے۔

🤲 اے اللہ!
جو تیرے گھر کی حاضری کی تمنا رکھتے ہیں،
ان سب کو اپنے دربار میں بلانے کا شرف عطا فرما۔
اور ہمیں بھی بار بار خانہ کعبہ کی زیارت نصیب فرما۔ آمین ❤️

🕋🕋🕋

.

25/05/2026

بعض اوقات انسان اپنی زبان سے وہ زخم دے دیتا ہے جو معافی مانگ لینے کے بعد بھی دلوں سے نہیں جاتے سخت لہجہ، طنز اور بے احتیاط الفاظ رشتوں کی خوبصورتی ختم کر دیتے ہیں اور پھر انسان دیر سے سمجھتا ہے کہ زبان کا نقصان ہاتھ کے نقصان سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔🍂🕊️

عقل مند وہ نہیں جو ہر بات کا جواب دے بلکہ سمجھدار وہ ہے جو غصے کے وقت خاموش رہنا جانتا ہو کیونکہ کئی جھگڑے صرف چند الفاظ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور کئی تعلقات صرف اچھے اخلاق کی وجہ سے ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔❤️💯

25/05/2026

اک دوست نے 5 لاکھ روپے کا آئی فون خریدا تو سب نے کہا "واؤ" یار پارٹی کب دوگے.؟

دوسرے دوست نے 50 لاکھ کی گاڑی خریدی، دوستوں نے خوب مبارک باد دی اور پارٹی کے لیے مجبور کرنے لگے۔۔.

ایک اور دوست نے 5 کروڑ میں ایک کنال کا گھر تعمیر کیا اور دوستوں کی دعوت کی خوب دوستوں نے انجوائے کیا اور اللہ تعالیٰ نصیب کرے کی دعائیں دی ۔۔۔

لیکن جب کسی دوست 80 ہزار روپے کا قربانی کا بکرا خریدا تو کئی چیخ اٹھے، تمہارے ہمسائے کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں،
کھانے کو کھانا نہیں،
بچوں کے سکول کی فیس نہیں،
اور تم اپنے پیسے قربانی پر لگا رہے ہو،
تمہیں چاہیے کہ غرباء میں نقدی تقسیم کر دو۔۔۔

کوئی اس لبرل قوم سے پوچھے موبائل، گاڑی، کروڑوں روپے کے گھر کے وقت تمہاری خدمت خلق کہاں جاتی ہے؟؟؟

اور ان کو کون بتائے قربانی میں اللہ تعالیٰ کے حکم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کے ساتھ ساتھ کتنے غرباء گوشت سے مستفیض بھی ہو جاتے ہیں، جن کو سال بھر گوشت میسر نہیں ہوتا.!!!

24/05/2026

کوئٹہ چمن پھاٹک پر دھماکہ میں درجنوں مسافر اور فوجی جوان شہید ہو گئے اللہ کریم ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے زخمیوں کو رب تعالی شفا صحت دے آمین
PSP

24/05/2026

ہر مہتمم ایک جیسا نہیں ہوتا . مولانامنیر احمد تونسوی سابق استاذاللحدیث جامعہ حسینیہ علیپور
""""'''"""""'''''''"""""''''""""""""""""""""
آج کل مدارس کے اساتذہ کی جانب سے مہتممین کے ظلم، سخت رویّوں اور بے اعتنائی کا تذکرہ بہت سننے کو مل رہا ہے۔ بہت سے مدرسین شکوہ کرتے ہیں کہ بعض مہتمم حضرات اساتذہ کے ساتھ انتہائی متکبرانہ انداز میں پیش آتے ہیں، اور مالی معاملات میں اس قدر بخل سے کام لیتے ہیں کہ اپنی ذات، اپنے بچوں کی ضروریات، سہولیات بلکہ بعض اوقات عیش و عشرت پر تو بے دریغ خرچ کرتے ہیں، مگر مدرس اور اس کے بچوں کی بنیادی ضروریات بھی ان کی نگاہ میں اہمیت نہیں رکھتیں۔ پھر اگر کوئی استاد اپنی مشکلات کا ذکر کردے تو وہی استاد انہیں زہر آلود سانپ محسوس ہونے لگتا ہے، اور اسے جلد از جلد مدرسے سے فارغ کرنے کی تدبیریں شروع ہوجاتی ہیں۔
لیکن انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی بیان کیا جائے۔ میرے اپنے تجربات میں ایسے مہتممین اور منتظمین بھی گزرے ہیں جنہوں نے شفقت، اخلاق، سخاوت اور انسان دوستی کی روشن مثالیں قائم کیں۔
میں نے 2005 میں تدریس کا آغاز کیا۔ سب سے پہلے جامعہ خیرالمدارس ملتان کے مایہ ناز استاد مولانا شمشاد صاحب کی وساطت سے جامعہ حسینہ علی پور میں پڑھانے کا موقع ملا۔ جامعہ حسینہ وسیع رقبے پر مشتمل اور طلبہ کی مناسب تعداد رکھنے والا مدرسہ تھا، اگرچہ اس وقت مالی اعتبار سے بہت مضبوط نہیں تھا۔ اس کے مہتمم مولانا اجود حقانی صاحب تھے۔ انتہائی خوش اخلاق، ملنسار اور محبت کرنے والے انسان۔ وہ اساتذہ کے ساتھ محض رسمی تعلق نہیں رکھتے تھے بلکہ بھائیوں کی طرح گھل مل جایا کرتے تھے۔ گپ شپ، مجلس اور خوش مزاجی ان کی طبیعت کا حصہ تھی۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے نام کی طرح طبیعت میں بھی “اجود” تھے۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے گاؤں سے مہمان آئے تو حضرت نے میری تنخواہ سے بھی زیادہ رقم عطا فرمائی تاکہ میں مہمانوں کی اچھی خاطر تواضع کرسکوں۔ پھر 2008 میں میری شادی ہوئی تو میں نے رہائش کے لیے مکان کی درخواست کی۔ حضرت نے بغیر کسی توقف کے مکان بنوا دیا۔ آج بھی جب کبھی ملاقات ہوتی ہے تو وہی محبت، شفقت اور اکرام دیکھنے کو ملتا ہے۔
البتہ ایک بات ضرور ہے کہ میں خود اپنے تدریسی کام میں منہمک رہتا تھا۔ انتظامی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا تھا، کیونکہ کسی کے کام کو جانچنا یا اس پر نگرانی رکھنا میری ذمہ داری نہیں تھی۔
سات سال تدریس کے بعد بعض مجبوریوں کی بنا پر وہاں سے رخصت لی، اور پھر خیرالمدارس کے سابق استاد مولانا کفایت اللہ صاحب کی وساطت سے جامعہ محمدیہ اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ میں پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ یہ مدرسہ مالی اعتبار سے مستحکم تھا۔ علاقے کے لوگ مدرسے کے ساتھ بے حد تعاون کرتے تھے، اور اساتذہ و طلبہ کی ضروریات پوری کرنا سعادت سمجھتے تھے۔ بکرے کثرت سے آتے، تازہ گوشت اساتذہ اور طلبہ کو میسر رہتا۔ اس علاقے کے لوگ واقعی شاباش کے مستحق ہیں۔
اس مدرسے کے مہتمم مولانا قاسم صاحب تھے۔ نہایت عاجز، صوفی مزاج اور فقیر منش انسان۔ اساتذہ کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آتے اور معقول تنخواہیں مقرر کرتے تھے۔ البتہ ان کی طبیعت میں ایک خاص وقار اور رعب تھا، اس لیے وہ زیادہ گھلتے ملتے نہیں تھے اور الگ تھلگ رہنا پسند کرتے تھے۔
دو سال بعد وہاں سے بھی رخصت لی اور اپنے علاقے کی جامع مسجد العابد میں امامت و خطابت کا سلسلہ شروع کیا۔ اس مسجد کے متولی حاجی عابد صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ انتظامی طور پر اگرچہ سخت تھے، لیکن دل کے نہایت اچھے، غریب پرور اور خیر خواہ انسان تھے۔ امام کی ضروریات پوری کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد محلے کی کمیٹی نے انتظام سنبھالا، مگر الحمدللہ انہوں نے بھی کبھی کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچائی۔ بلکہ پورے محلے والوں نے ہمیشہ تعاون اور محبت کا مظاہرہ کیا۔
آج جب بیماری کے ایام سے گزر رہا ہوں تو اہلِ محلہ نے جس محبت، خیر خواہی اور تعاون کا ثبوت دیا ہے، اس نے دل کو بہت متاثر کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام سے جو محبت، اخلاص اور اپنائیت ملی، وہ بعض اہلِ مدارس اور مولویوں سے ملنے والی محبت سے کہیں زیادہ محسوس ہوئی۔
اللہ تعالیٰ ان تمام محسنین، مہتممین، منتظمین اور اہلِ محلہ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور مدارس و مساجد کے ماحول کو اخلاص، عدل، شفقت اور احترام سے بھر دے۔

23/05/2026

*واللہ تمہاری موت کـے بعد لـوگ تمہیں بہت جلد بُھول جائیں گے اور آپ دنیا میـں اپنی قریبی برادری سـے اپنی دوری دیکھتے ہیــں، چند ایک کـے علاوہ کوئی آپ کـے بارے میـں نہیـــــں پوچھتا، حالانکہ آپ ان میـں زندہ ہیــں ! پھر آپ کـی وفــــات کـے بعد کیسے؟ تـو بہتر اعمال کـرو، پھر اپنے رب کـے ہاں بہتر ہـو جاؤ، اور عقلمند بنو، اور ہـر اس نیک عمل میں سبقت لے جانے کی کوشش کرو جو تمہاری موت کـے بعد تمہیں فائـــدہ پہنچائے جو اندھیری قبر میں روشنی کا باعث بنے۔۔ سوچو اس وقت کو جب مٹی کا بستر ہوگا اور آپ اکیلے ہونگے کوئی مدد کو نہیں آئے گا اپنے اعمال کا حساب خود اکیلے دینا ہوگا یہ تمام دنیا کام نہیں آئے گی دنیا کے پیچھے بھاگنا چھوڑ دو اپنے رب کی رضا کی فکر کرو* ‼️

`💞✦رب سے جڑنے کا سفر✦💞`

23/05/2026

*قربانی کے دنوں میں سوشل میڈیا پر مسئلے مسائل بہت عام ہو جاتے ہیں، مگر ہر سنی سنائی بات پر فوراً عمل نہ کریں۔ ہر شخص مفتی نہیں ہوتا، اس لیے دینی معاملات میں اپنے مستند عالمِ دین یا مفتی صاحب سے ضرور رہنمائی لیں۔*

*اسی طرح اپنے قربانی کے جانور کی تصاویر بار بار لگا کر دکھاوا کرنے سے بھی بچیں۔ عبادت میں اخلاص سب سے زیادہ ضروری ہے۔ جو کام اللہ کی رضا کے لیے ہو، اسے نمائش کا ذریعہ نہ بنائیں۔❤️*

23/05/2026

#مک پاکستان کی عظیم الشان دینی درسگاہ جامعہ حسینیہ علی پور کلاس مولانا قاری محمد سلیم رحیمی صاحب #صبح اسلمبی ٹائم ゚viralシfypシ゚viralシ

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Alipur?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Alipur