Homeopathic Dr. Mushtaq Ahmad
Curing the incurables for the last 18 years
عرق النساء کا ایک شفایاب کیس۔۔۔
یہ صاحب کندیاں میانوالی سے تشریف لائے تھے۔L4,lL5 پہ کمپریشن تھی چلنا پھرنا دوبھر تھا،حتی کہ نماز بھی کرسی پر بیٹھ کر پڑھتے تھے، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے اب یہ مکمل طور پر ٹھیک ہیں، اگر آپ بھی عرق النساء، کمر درد،یا جوڑوں کے درد سے پریشان ہیں اور لگاتار دوائیں کھا کھا کر تنگ آ چکے ہیں تو آج ہی نیچے دیے گئے نمبر پر رابطہ کریں، اگر آپ خود نہیں آسکتے تو آن لائن دوا بھی منگوا سکتے ہیں۔
رابطہ نبر۔03215208017
💛 گال بلیڈر سلج (Gallbladder Sludge) – جانیں خطرات اور احتیاط 💛
گال بلیڈر سلج ایک پتلا یا گاڑھا مائع ہوتا ہے جو گال بلیڈر میں جمع ہو جاتا ہے۔ یہ پتھری کی طرح ٹھوس نہیں ہوتا، لیکن اسے نظر انداز کرنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔
⚠️ نقصانات اور خطرات:
ہلکی یا شدید درد: اکثر دائیں اوپر پیٹ یا پیٹھ میں درد محسوس ہوتا ہے۔
نظام ہضم کی خرابی: کھانے کے بعد متلی، اپھارہ یا قبض ہو سکتا ہے۔
انفیکشن کا خطرہ: اگر وقت پر علاج نہ ہو تو یہ انفیکشن یا پھیپھڑوں کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے۔
پتھری میں تبدیل ہونا: کبھی کبھار سلج گال اسٹون میں بدل سکتا ہے، جو زیادہ دردناک اور خطرناک ہوتا ہے۔
💡 پتے کی پتھری کے مقابلے میں:
گال بلیڈر سلج فوری خطرہ نہیں ہوتا لیکن وقت پر نہ دیکھیں تو یہ پتھری میں بدل سکتا ہے، جو سنگین درد اور پیچیدگی کا سبب بنتی ہے۔
پتھری کے مقابلے میں سلج زیادہ چھپ کر بڑھتی ہے، اور اکثر دیر سے پتہ چلتا ہے، اس لیے ریگولر چیک اپ ضروری ہے۔
✅ احتیاطی تدابیر:
ہلکی اور متوازن خوراک لیں
زیادہ تیل یا بھاری کھانے سے گریز کریں
ڈاکٹر کے مشورے سے ریگولر الٹراساؤنڈ کروائیں
16/03/2026
Iftar party arranged by dr ali muhammad at islamabad club, an optimal lecture was also delivered by dr ali muhammad on spirtualism and homeopathy.
آپ ایک بچہ کو لیں جو ڈراونے خواب دیکھتا ہے اپنے جسم کو عجیب طریقے سے رکھتے ہوئے نیند میں بے آرام ہوتا ہے۔نروس اور ہسٹیریکل حالت میں بھی ہوتا ہے جسے دورے پڑنا کہتے ہیں لیکن جب اس کے جسم کا معائنہ کیا جاتا ہے تو کچھ سامنے نہیں آتا اسی طرح بیماری جو حقیقت میں موجود ہوتی ہے بغیر علاج کے جاری رہتی ہے اور جب وہ 20 یا 30 سال کی عمر میں پہنچتا ہے تو اس کے ٹشوز میں تبدیلیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کے اعضا اثر انداز ہوتے ہیں تو یہ کہا جائے گا اس کا جسم بیمار ہے لیکن اصل میں وہ بندہ تو شروع سے بیمار تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم بیماری سے پیدا شدہ نتائج کو لیں یا جب کیفیات پیدا ہوتی ہیں اسوقت علاج کرتے۔
dr mushtaq ahmad saifi
BHMS(University of Peshawar)
For online Consultation, whttsap 0303 5909100
یہ ہے قیامت کی ٹیکنالوجی !!
سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے
کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟
بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔
جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو
کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔
ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں
یعنی دماغ کے سیلز
سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔
اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو
قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا
"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"
(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)
(القرآن، الاعراف: 179)
ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے
آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے
جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔
یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں
اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔
اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔
اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔
اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟
یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟
انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔
حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔
اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہا ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔
نا جی
غلط! سراسر غلط!
میرے فیورٹ سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہی ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکینکر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا
آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے استھوٹ ٹیکنالوجیکے بارے میں کیا کہا تھا
رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے
"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)
(صحیح بخاری: 1)
ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا
لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔
عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔
نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔
ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔
جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔
اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔
ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔
خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں
قرآن کہتا ہے:
"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)
(القرآن، ق: 50:18)
اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:
"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"
(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Dataبیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)
(القرآن، الجاثیہ: 45:29)
یہ نَستنسِخ کا لفظ بہت اہم ہے۔
اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا؟ قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا
"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"
(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)
(القرآن، الزلزال)
یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔
کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔
آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟
وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔
یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا
اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں
وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔
یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟
وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے
یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتا ہوں
ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟
رٹہ سسٹم
ڈارون کا بندر
انگریز کی تاریخ
ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟
ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟
کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا
صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں
"یا ساریہ الجبل"
(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)
اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔
یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے
میرے مسلمان ساتھیو
آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔
ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔
اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔
اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔
قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔
اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے
آٹھ سال کی عمر میں ’پیڈ‘ سنبھالتی ہوئی آپ کی بیٹی
یہ ترقی ہے یا زوال؟
کل ہی کی بات ہے۔ او پی ڈی میں ایک ماں باپ اپنی آٹھ سالہ بیٹی کو لے کر آئے۔ بچی کے ایک ہاتھ میں اب بھی اس کی پسندیدہ گڑیا تھی اور دوسری طرف ماں کی آنکھوں میں آنسو۔
شکایت کیا تھی؟
“ڈاکٹر صاحب، اسے ماہواری (Periods) شروع ہو گئی ہے۔”
یہ پڑھ کر آپ کا دل دہل گیا نا؟
میرا نہیں دہلا، کیونکہ اب میرے کلینک میں یہ روز کا معاملہ بن چکا ہے۔ جس عمر میں بچیوں کو رسّی کودنی چاہیے، اس عمر میں ان ننھے وجودوں کو سینیٹری پیڈز اور پیٹ کے درد سنبھالنے پڑ رہے ہیں۔
“امی، مجھے خون کیوں آ رہا ہے؟”
۸ سال کی بچی کا یہ سوال سن کر اس ماں کا کلیجہ پھٹ گیا تھا… اور ایک ڈاکٹر کے طور پر میرا دماغ سُن ہو گیا تھا۔
کیا یہ بچپن چھین لینا نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
ایک ماہرِ اطفال (Pediatrician) کے طور پر میں آپ کو ایک نہایت تلخ سچ بتا رہا ہوں، جو ہضم کرنا مشکل ہوگا:
ہم اپنے بچوں کو پال نہیں رہے، ہم انہیں پھلا رہے ہیں۔
جس طرح پولٹری فارم میں انجیکشن دے کر ۴۰ دن میں ’برائلر مرغی‘ تیار کی جاتی ہے، کچھ ویسی ہی حالت آج ہم نے اپنی اولاد کی کر دی ہے۔ یہ نشوونما نہیں، یہ جسم کی سوجن ہے!
اس کا ذمہ دار کون ہے؟
ہماری ’ماڈرن‘ لائف اسٹائل اور والدین کی سہل پسند سوچ!
دیکھیں ہم لاشعوری طور پر ان کی زندگی سے کیسے کھیل رہے ہیں:
۵۰۰ روپے کا پیزا یا زندگی کی ہولی؟
ویک اینڈ پر مال میں ۵۰۰–۸۰۰ روپے کا پیزا/برگر کھاتے ہوئے آپ تصویر کھینچ کر انسٹاگرام پر ڈالتے ہیں… “فیملی ٹائم!”
ارے، یہ فیملی ٹائم نہیں، یہ آپ کے بچوں کی صحت کی ہولی ہے! ربڑ جیسے میدے اور پروسیسڈ چیز کا یہ کھانا ہارمونل عدم توازن کی فیکٹری ہے۔
جسم میں جتنی زیادہ چربی، اتنا ہی زیادہ ایسٹروجن بنتا ہے۔ اور یہی اضافی ہارمون اس ۸ سالہ بچی کے نازک دماغ کو پیغام دیتا ہے:
“بچی، تمہارا بچپن ختم، اب تم عورت ہو!”
گرم کھانے کے لیے پلاسٹک کا ڈبہ؟
اسٹیل کا ڈبہ بھاری لگتا ہے اور پلاسٹک کا فینسی، اس لیے وہی بچوں کو دے رہے ہو؟
جب آپ اس میں بھاپ اڑاتی گرم سبزی رکھتے ہیں تو اس میں موجود زینو-ایسٹروجنز (Xenoestrogens) کھانے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ کیمیکل جسم میں جا کر بہروپئے کی طرح کام کرتے ہیں۔ جسم کو لگتا ہے کہ یہ ایسٹروجن ہے، اور جسم قبل از وقت بالغ ہونے لگتا ہے۔
آپ کی ’فینسی‘ عادت نے قدرتی گھڑی ہی بگاڑ دی ہے!
دودھ-چکن یا ’ہارمونل بم‘؟
“ڈاکٹر، بچی بہت دبلی ہے، نان ویج دیں؟ دودھ کتنا پلائیں؟”
کھلائیں ضرور، مگر بازار کا وہ ۴۰ دن میں پھولا ہوا برائلر چکن اور تھیلی کا ’کیمیائی‘ دودھ دیتے وقت سو بار سوچیں۔
چکن: مرغی کو جلدی بڑا کرنے کے لیے گروتھ ہارمونز کے بھاری ڈوز دیے جاتے ہیں۔ وہی ہارمون بچی کے پیٹ میں جاتے ہیں۔ اسی لیے آج کل چوتھی جماعت کی بچیوں کے ہونٹوں پر بال (Facial Hair) آ رہے ہیں۔ یہ PCOD کی پہلی علامت ہے!
دودھ: گائے-بھینس کو زیادہ دودھ کے لیے دیے گئے آکسیٹوسن کے انجیکشن دودھ کے ذریعے آپ کی بچی کے ننھے سے رحم کو “بڑا ہونے” کے غلط سگنل دیتے ہیں۔
جن چیزوں کو آپ ’پروٹین‘ سمجھ کر کھلا رہے ہیں، وہ دراصل ہارمونل بم ہیں!
💉 سب سے خوفناک حقیقت:
اس عمر میں ماہواری شروع ہو جائے تو ہڈیاں جلدی جُڑ جاتی ہیں اور قد ہمیشہ کے لیے رک جاتا ہے۔ اسے روکنے کے لیے پھر کیا کرنا پڑتا ہے؟
“ہارمون سپریشن تھراپی!”
ذرا تصور کریں…
اس ۸ سالہ نازک پھول کو، اپنی ماہواری روکنے کے لیے اگلے ۳–۴ سال تک ہر مہینے ایک تکلیف دہ، موٹے انجیکشن کی سوئی لگوانی پڑے گی!
آپ کی لاڈلی بیٹی ہر مہینے اس سوئی کے خوف سے کانپے گی، اور آپ بے بس ہو کر یہ سب دیکھیں گے۔
سوچیے والدینو…
۱۰ سال بعد جب وہ آپ سے پوچھے گی:
“امی، ابو، تب کیوں دھیان نہیں دیا؟ کیا وہ پیزا-برگر میری زندگی سے زیادہ اہم تھے؟”
تو آپ کے پاس کیا جواب ہوگا؟
ابھی بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا… سدھر جاؤ!
1۔ کچن سے ’سفید زہر‘ (میدہ، چینی) باہر پھینک دیں۔
2 پلاسٹک کے ڈبوں کو آگ لگا دیں: صرف اسٹیل استعمال کریں۔
3 بچوں کو ’برائلر‘ نہ بنائیں: انہیں مٹی میں کھیلنے دیں، دھوپ میں دوڑنے دیں۔
4 لاڈ پیار کا مطلب زہر کھلانا نہیں، یہ بے حسی اب بند کریں!
اس مضمون کو پڑھ کر بھول مت جانا۔ یہ معلومات ہر فیملی گروپ تک پہنچانا آپ کا اخلاقی فرض ہے۔
اپنی بیٹیوں کا بچپن بچانے کے لیے یہ قدم اٹھانا ہی ہوگا۔
کیا آپ کے آس پاس بھی ایسی صورتحال نظر آتی ہے؟
اپنے تجربات نیچے ضرور شیئر کریں۔
(ڈاکٹر سُجیت بھارت پاٹل)
(ماہرِ اطفال، پونے)
اپنی یاداشتوں میں ایک جگہ ڈاکٹر کوپیکر لکھتے ہیں، 65 سال پہلے 1937 میں جب مدراس میں میں نے کلینک شروع کیا تو میرا کل اثاثہ ایک معمولی سی ہومیوپیتھک ڈسپنسری تھی اور اس کے ساتھ میرا ہومیوپیتھک طریقہ علاج پہ غیر متزلزل یقین تھا، اور وقت کے ساتھ میری پہچان بیماری سے مکمل نجات حاصل کرنے والے مریض تھے جن میں سے کئی میرے دوست بنے اور بعد میں ہومیوپیتھ بن گئے۔
نفس کی سات اقسام ہیں جنکے نام درج ذیل ہیں :
1۔ نفس امارہ
2۔ نفس لوامہ
3۔ نفس ملھمہ
4۔ نفس مطمئنہ
5۔ نفس راضیہ
6۔ نفس مرضیہ
7۔ نفس کاملہ
نفس امارہ پہلا نفس ہے یہ سب سے زیادہ گناہوں کی طرف مائل کرنے والا اور دنیاوی رغبتوں کی جانب کھینچ لے جانے والا ہے۔ ریاضت اور مجاہدہ سے اس کی برائی کے غلبہ کو کم کر کے جب انسان نفس امارہ کے دائرہ سے نکل آتا ہے تو لوامہ کے مقام پر فائز ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر دل میں نور پیدا ہو جاتا ہے۔ جو باطنی طور پر ہدایت کا باعث بنتا ہے جب نفس لوامہ کا حامل انسان کسی گناہ یا زیادتی کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اس کا نفس اسے فوری طور پر سخت ملامت کرنے لگتا ہے اسی وجہ سے اسے لوامہ یعنی سخت ملامت کرنے والا کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس نفس کی قسم کھائی ہے :
وَلَا اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِO
’’اور میں نفس لوامہ کی قسم کھاتا ہوں۔‘‘
القيامة، 75 : 2
تیسرا نفس نفس ملہمہ ہے۔ جب بندہ ملہمہ کے مقام پر فائز ہوتا ہے تو اس کے داخلی نور کے فیض سے دل اور طبعیت میں نیکی اور تقوی کی رغبت پیدا ہو جاتی ہے چوتھا نفس مطمئنہ ہے جو بری خصلتوں سے بالکل پاک اور صاف ہو جاتا ہے اور حالت سکون و اطمینان میں آجاتا ہے۔
یہ نفس بارگاہ الوہیت میں اسقدر محبوب ہے کہ حکم ہوتا ہے :
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُO ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ.
’’اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔‘‘
الفجر، 89 : 27، 28
یہ نفس مطمئنہ اولیاء اللہ کا نفس ہے یہی ولایت صغریٰ کا مقام ہے۔ اس کے بعد نفس راضیہ، مرضیہ اور کاملہ یہ سب ہی نفس مطمئنہ کی اعلیٰ حالتیں اور صفتیں ہیں اس مقام پر بندہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی رہتا ہے اس کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
28 ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةًO
تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آکہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی (گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب)o
29 فَادْخُلِي فِي عِبَادِيO
پس تو میرے (کامل) بندوں میں شامل ہو جاo
30 وَادْخُلِي جَنَّتِيO
اور میری جنتِ (قربت و دیدار) میں داخل ہو جاo
الفجر، 89 : 28
30/11/2025
اک پل کو بھی سکون نہ حاصل ہوا وہاں
شہروں سے اچھا گاؤں کا چھپر لگا مجھے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Islamabad
Opening Hours
| Monday | 11:00 - 17:00 |
| Tuesday | 11:00 - 17:00 |
| Wednesday | 11:00 - 17:00 |
| Thursday | 11:00 - 17:00 |
| Saturday | 11:00 - 17:00 |
