Umlina Hair Secrets

Umlina Hair Secrets

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Umlina Hair Secrets, Pakistan, Karachi.

Welcome to Umlina Herbal 🌿✨
Your trusted place for healthy, beautiful, and naturally strong hair 💚
Here we share:
🌸 Herbal Shampoo Reviews
🌸 Hair Care Tips
🌸 Long & Silky Hair Secrets
🌸 Beauty & Self Care Routine
🌸 Healthy Hair Growth Ideas

29/09/2026

"ویسے تو بہو بہت اچھی ہے، پر کام کرکے کمرے میں چلی جاتی ہے۔"

یہ وہ جملہ ہے جو اکثر عورتوں کو شادی کے بعد سننے کو ملتا ہے۔اگر آپ اپنا کام ختم کرکے کچھ دیر کے لیے اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی جائیں تو گھر کا ہر دوسرا فرد ساس بن کر آپ کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتا ہے کہ شاید آپ نے کوئی بہت بڑا جرم کر دیا ہے۔🤦‍♀️

میں الگ گھر میں رہتی ہوں۔ پورا گھر میرا ہے، اپنی مرضی سے کام کرتی ہوں، لیکن کام سے فارغ ہونے کے بعد میں بھی اپنے بیڈروم میں ہی لیٹتی ہوں۔کیونکہ گھر میں ایک ایسی جگہ ہونی چاہیےجہاں آپ سکون سے بیٹھ سکیں، لیٹ سکیں، موبائل دیکھ سکیں، کتاب پڑھ سکیں یا بس خاموشی سے کچھ دیر اپنے ساتھ رہ سکیں۔🫡

اپنے کام سے فارغ ہو کر آرام کرنا سستی نہیں، تھکن اتارنا ہے۔
اور اپنے ہی گھر میں اپنے کمرے میں سکون کے چند لمحے گزارنے کے لیے کسی کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

آپکی کیارائے ہے؟

ازقلم
درخشاں ضیاء

29/09/2026

اگرآپ بھی سسرال جانے والی ہیں تو اس تحریر کو ضرور پڑھیں

ہر ماں باپ کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو کسی اچھی فیملی کسی اچھے لڑکے کے ساتھ منسوب کریںاور جب ایسا ہو جاتا ہے تو ان کا دل دوسرے وسو سوںمیںگھر نے لگتا ہے ۔لخت جگر کی شادی ایک بہت بڑا امتحاں ہے جس میں غم اور خوشی دونوں عنصر موجود ہوتے ہیں ۔والدین بہن بھائی او رسہیلیاں سب اسے آنسووں کی برسات میں رخصت کرتی ہیں ۔اس وقت ان کی زبان پر ایک ہی دعا ہوتی ہے اے اللہ اسے تمام خوشیاں دینا کہ سدا سہاگن رہے اپنے گھر میںخوشحال زندگی بسر کرے ۔سسرال والوں کی آنکھ کا تارا بنی رہے ۔
دعاوں کی سوغات کے ساتھ سسرال جانے والی لڑکی کی ذمے داری بھی بڑھ جاتی ہے ۔اسے خد کو مکمل طور پر بدلنا پڑتا ہے ایک لڑکی اپنے میکے میں اگرخوب شوخ طبیعت کی مالک ہے تو سسرال میں اسے اپنے مزاج کی اس شوخی پر قابو پانا ہوتا ہے ۔ایک خوشحال زندگی کے لے ضروری ہے کہ وہ وقت سے پہلے اندازہ لگالے کہ سسرال والے کسیے ہیں۔
اس گھر کا ماحول کیسا ہے ۔
رہن سہن کیا ہے ۔
کتنے افراد ہیںاور کون کس مزاج کا ہے ۔
شوہر کا مزاج کیسا ہے ۔
اگر سسرال والوں کا مزاج اچھا ہے ۔سب ملنسار ہیں خوب ہنستے ہنساتے ہیں خوش مزاج ہیں تو ہر لڑکی ایسے ماحول میںگزارہ کر سکتی ہے لیکن اگر وہ سب ہر کام ایک حد میں رہ کر کرنے کے عادی ہیںتو لڑکی کو بھی اپنا مزاج تھوڑا تبدیل کر لینا پڑے گا ۔سسرال والے اگر کم گو ہیں تو لڑکی کو بھی اپنی زبان اورمزاج پر قابو رکھنا ہو گا
شوہر کے مزاج میں غصہ ہے تواس وقت نہ تو شو خیاں کر نا چاہیے اور نہ ہی خود اپنا غصہ ظاہر کر نا چاہیے ۔خاموش رہنا ہی ضروری ہے ۔بعد میں جب موڈ خوشگوار ہو جائے تو نہایت نرمی اور پیار سے غصے کی وجہ معلوم کرنا چاہیے ۔
بیوی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سب سے زیادہ اپنے شوہر پر توجہ دے اوراس کا کہنا مانے فرمانبرادار رہے شوہر جب اول روز سے ہی بیوی کو فرما نبردار پائے گا تو وہ خود بھی وفا دار رہے گا یاد رہے کہ آپ کو صرف شوہر کے ساتھ ہی نہیں رہنا بلکہ اس کے پورے گھر کے ساتھ رہنا ہے ۔ آپ کو نہ صرف شوہر کی پرواہ کریں گی تو باقی گھر والوں سے آپ کے تعلقات متاثر ہوسکتے ہیں۔
آپ کو نہ صرف شوہر سے بلکہ اس کے تمام گھر والوں سے بنا کر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
شادی کے بعد بہت کچھ دیکھنا پڑتا ہے ۔ماں باپ کے گھر لڑکی بہت آزاد ہوتی ہے ۔اسے فیصلوں میں اسے خود مختاری حاصل ہوتی ہے ۔اپنی مرضی سے کھانا پینا سونا جاگنا ہوتا ہے جب کہ شادی کے بعد ایسا نہیںہوتا اور ہونا بھی نہیںچاہیں ۔جب آپ ایک نئے ماحول میں آئی ہیں توخود کو اس ماحول کا عادی بنانے کے لے بھر پور کوشش کریں ۔بہت سی لڑکیاں شادی کے بعد ہر بات میں سسرال کے لیے یہاں کا لفظ استعمال کرتی ہیں۔مثلا ہمارے یہاںتو یہ نہیں ہوتا یا ہماری امی کے گھر تو سالن دوسرے طریقے سے بنتا ہے ۔میںتویہاں یہی سب دیکھ رہی ہوں ۔سان الفاظ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کا سسرال والوںسے غیریت برت رہی ہیں ۔اپنی سسرال کی طرف سے ہر اس تقریب میں شرکت کریںجس میں سسرال والے آ پ کی شمولیت چاہتے ہیں ۔ہر شخص سے خلوص سے ملیں سب کے نام اور رشتے یاد درکھنے کی کوشش کریں سب سے گھل مل جائیں اگر کوئی آپ کی ساس یا نند سے ملنے آتا ہے تو آپ اس کو برا بر کی عزت دیں ۔ساس کی رشتہ دار خوتین سے احترام سے ملیں۔
نندوں کی سہیلیوںسے اپنی سہیلیوں کی طرح ملیں ۔آپ سلام دعااچھے طریقے سے کر کے ان کی خاطر تواضح کا بندوبست کریں۔اس سے آنے والے پر بہت اچھا اثر ہو گا ۔اگر آپ کی سسرال کی طرف سے کوئی تحفہ آپ کو ملتا ہے وہ خوشی خوشی قبول کر یں آپ کو پسند نہ بھی آئے توبھی دینے والے کا شکریہ ادا کریں ۔آپ کو کوئی جوڑا ملا ہے تو اسے استعمال کریںکوئی سجاوٹ کی چیز ہے تواسے اپنے کمرے میں سجائیں ۔اگر کوئی شے آپ کو واقعی پسند آجائے تودل سے تعریف کریں ۔کچھ لڑکیاں ہر معاملے میں اپنی ناپسند گی کا اظہار کرتی ہیں اس طرح ا ن کو صرف برا کہنے والا ہی سمجھ لیا جاتاہے اوراگر واقعی کسی معاملے میں ناپسند گی کا اظہار کریں تو کوئی انہیں اہمیت نہیں دیتا کہ یہ تو ہر وقت یہی بولتی ہے جس پر ان کو برا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری توکوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔
اپنے آپ کو سسرال کے ماحول میںڈھال لینا ہی اچھی لڑکی کا کام ہے ۔عموما خواتین اپنے میکے کی تقرریبات میں تو دل کھول کر خرچ کر نا پسند کرتی ہیں جب کہ سسرال کی تقریب میںواجبی سی دلچسپی کا مظاہرہ کرتی ہیں جس کی وجہ سے شوہر کی نظر میں ان کا مقام بلند نہیںہوپاتا ۔دونوں طرف کے رشتوں میںتوازن کرنا سکھائیں۔
قسمت سے آپ کو اچھی سسرال مل گئی ہے تو اس کی قدر کریں ۔اگر خدا نخواستہ سسرال والے اچھے نہیں توصبر سے کا م لیں۔ہر آئے گے سے ان کی برائی مت سننے والے مزے سے سن کر بات آگ بیاں کر دیتے ہیں سمجھ دار لوگ توکبھی بھی ایسی لڑکیوں کو پسند نہیں کر تے ۔وہ ایسی لڑکیوں کی صحبت سے ا پنی بیٹیوں کو دور رکھتے ہیں ۔
عورت اورمرد دونوں کا ہی یہ فرض ہے کہ مل جل کر نئی زندگی کی ابتدا کریں ۔بیوی شوہر اور سسرال کے دوسرے لوگوں کو موقع ہی نہ دے کہ اس پر کوئی بات آئے کیوں کہ سمجھانے والے کم اور تماشہ دیکھنے والے بہت ہوتے ہیں ۔عزت ہر ایک کی ہوتی ہے اوردونوں کو اس کا خیال رکھنا چاہیے ۔
دونوںمیں سے جو بھی غلطی کو ماننے کی ہمت بھی رکھے ۔یہاں سسرال والوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایک لڑکی کی جو پانا سب کچھ چھوڑ کر آپ کے پاس آتی ہے اسے اکیلا نہ کریں اسے اپنے ماحول میںرچنے بسنے کا موقع دیں غلطی کرے تو بیٹی سمجھ کر اس کی مد د رکریں ۔
یاد رہیایک چپ سو رک ہراتی ہے کچھ پانے کے لے کچھ کھونا ہی پڑتا ہے۔اتنے ڈھیر سارے لوگوں کا پیار پانے کے لے آپ کو اپنے جذبات و احساسات کو تھوڑا سا تھپکنا ہو گا ۔کوئی شک نہیں ہے کہ ایک دن آپ کامیاب ہو جائیں گی

28/09/2026

میں 27 سال کی ڈاکٹر ہوں — اور آج طلاق یافتہ ہوں۔

شادی سے پہلے میری ایک سرجری ہوئی تھی۔ ڈاکٹروں نے تسلی دی تھی کہ سب ٹھیک ہے، ماں بننے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ میں نے شادی کے بعد اپنے شوہر کو بتایا اور اس نے کہا کوئی بات نہیں۔

لیکن ڈیڑھ سال بعد پتہ چلا کہ سرجری کے بعد کچھ پیچیدگیاں آ گئی ہیں اور ماں بننے کے لیے IVF کرانی ہوگی۔

یہ خبر سنتے ہی اس کے منہ سے پہلا جملہ نکلا — مجھے دوسری شادی کی اجازت دو۔

میں نے کہا میں خود IVF کا خرچ اٹھاؤں گی۔ اس نے پھر وہی بات دہرائی۔ میں نے کہا ہم مل کر اس مشکل کا سامنا کریں گے۔ اس نے پھر وہی جواب دیا۔

اس نے میری بیماری کی تمام تفصیل اپنے گھر والوں کو بتا دی اور ساتھ یہ جھوٹ بھی کہ میں کبھی ماں نہیں بن سکتی۔ میرے گھر والوں نے بات کرنے کی کوشش کی، وہ نہیں مانا۔ مجھے میرے گھر چھوڑ دیا گیا۔

چھ مہینے تک کوئی رابطہ نہیں۔

پھر ایک دن فون آیا — چار سال انتظار کر سکتا ہوں لیکن تمہارے ماں باپ سے بات نہیں کروں گا اور لینے بھی نہیں آؤں گا، خود آنا ہو تو آؤ۔

میں نے کہا پہلے مجھے مالی تحفظ دو۔ اس نے پھر دوسری شادی کی اجازت مانگی۔

چار مہینے اور گزر گئے۔ کوئی کوشش نہیں، کوئی قدم نہیں۔

اور پھر گیارہ مہینے بعد طلاق نامہ آ گیا۔

شادی کے پہلے دن سے بچے کا دباؤ تھا۔ کبھی ایک نرم لفظ نہیں ملا، کبھی حوصلہ نہیں ملا۔ اتنی بڑی خبر کے بعد بھی کوئی ہاتھ تھامنے والا نہیں تھا۔

اور آخر میں اس نے کہا — تم خودغرض ہو، تم نے میرا حق نہیں مانا۔

آج بھی میں یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ میرے ساتھ کیا ہوا۔ کیا میں واقعی غلط تھی؟ کیا یہ محبت تھی یا صرف ایک سودا جس میں میں ناکام ثابت ہوئی؟

28/09/2026

بتائیں ۔۔۔۔

28/09/2026

ابوبکر: جی، فرمائیے؟

زامل: آپ دین میں میرے بھائی ہیں۔ جس زامل سے آپ کچھ عرصہ پہلے ملے تھے، وہ ایک مختلف انسان تھا۔ اور جس زامل سے آپ آج مل رہے ہیں، وہ بالکل مختلف ہے۔ میں دین کے حوالے سے بہت کچھ جان چکا ہوں۔ بہت سی چیزوں سے توبہ کر چکا ہوں اور اب ایک بہتر انسان کی حیثیت سے زندگی گزار رہا ہوں، اور—

ابوبکر: سیدھی بات کیجیے۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ پہلے کیا تھے، اب کیا ہیں یا مستقبل میں کیا ہوں گے۔ میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ یہاں کیوں آئے ہیں۔

زامل: ٹھیک ہے، پھر سیدھی بات کرتے ہیں۔ آپ نے وہ تصویریں دیکھ لی ہوں گی۔

ابوبکر: وہ تصویریں، جنہیں مجھے بھیجنے پر میں آپ کے خلاف ایف آئی آر درج کروا سکتا ہوں؟

زامل: ایک مسلمان ہونے کے ناتے میرا فرض ہے کہ میں آپ کو ایسی لڑکی کے ساتھ رشتہ قائم کرنے سے روکوں، جس کا ماضی—

ابوبکر: وہ لڑکی آپ کی کیا لگتی ہے؟

زامل: وہ… میری گرل فرینڈ تھی۔

ابوبکر: تھی یا ہے؟

زامل: تھی۔

ابوبکر: یعنی اس وقت آپ دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے؟

زامل: جی، نہیں۔

ابوبکر: تو پھر؟ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ کس حق کے تحت آپ اپنی سابقہ گرل فرینڈ کے بارے میں مجھے بتانے آئے ہیں؟

زامل: ایک مسلمان ہونے کے ناتے—

ابوبکر: بس! دوبارہ اپنے آپ کو مسلمان ہونے کا حوالہ دے کر مجھے مت سمجھائیے۔ مجھے نہیں معلوم آپ دین کی تربیت کس سے لے رہے ہیں، لیکن جس سے بھی لے رہے ہیں، شاید اسے بھی اصلاح کی ضرورت ہے… اور آپ کو تو خیر بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے۔

تھوڑی سی غیرت، تھوڑی سی شرم، تھوڑی سی حیا… اور فہرست اتنی لمبی ہے کہ میں اسے دہرانا بھی نہیں چاہتا۔

زامل: تو آپ کو کوئی اعتراض نہیں کہ آپ ایسی لڑکی سے شادی کریں جو ماضی میں کسی کے ساتھ جسمانی تعلق میں رہی ہو؟ ایسی نوعیت کا تعلق، جس کا اندازہ آپ ان تصویروں سے لگا سکتے ہیں؟

ابوبکر: نہیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

زامل: پھر تو آپ بے غیرت ہوئے نا؟

ابوبکر: تمہاری اور میری بے غیرتی کی تعریف بہت مختلف ہے، زامل۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک اچھے مسلمان کی تعریف بھی ہم دونوں کے نزدیک مختلف ہے۔

جس لڑکی کے ساتھ میں رشتہ قائم کرنا چاہتا ہوں، اگر اس کے ماضی میں کوئی گناہ ہے تو مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اور نہ ہی میں اس گناہ کے بارے میں کسی تیسرے، چوتھے یا پانچویں شخص سے سننا پسند کروں گا۔

اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ تم اس شخص کے ساتھ بیٹھے ہو جو خود اس گناہ میں شریک رہا، مگر اب چونکہ وہ خود کو ایک بہتر مسلمان سمجھتا ہے، اس لیے اسے دوسروں کے گناہ اور عیب اچھالنے کا حق بھی مل گیا ہے؟

زامل: اچھا! اب مجھے سمجھ آیا۔ مجھے آپ کے پاس آنے سے پہلے آپ کی کلاس کے بارے میں معلوم کر لینا چاہیے تھا۔ زریاب کے خاندان سے جڑ کر آپ کوئی حیثیت حاصل کر لیں گے… ایک عام آدمی سے خاص آدمی بن جائیں گے۔ اسی لیے ایک امیر لڑکی کا ماضی آپ کو پریشان نہیں کرتا۔ میں سمجھ گیا۔

ابوبکر: تم بیٹھ کر جو نتیجہ نکالنا چاہتے ہو، نکالو۔ جو سوچنا ہے سوچو، جو کہنا ہے کہو۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ میں یہ برداشت نہیں کروں گا کہ تم زریاب یا ہم سے وابستہ کسی بھی شخص کو اپنے اور زریاب کے ماضی کی بنیاد پر ہراساں کرو یا بلیک میل کرو۔

یہ میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔

زامل: میں آج بھی صرف ایک منٹ کوشش کروں تو زریاب میرے پیچھے واپس آ سکتی ہے۔ تم ہوتے کون ہو؟

ابوبکر: تو پھر کوشش کرو۔

میرے پاس آنے کے بجائے اس کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ مجھ سے شادی نہ کرے، تم سے کرے۔

ایک ناکام انسان کی طرح میرے پاس آنے سے پہلے تمہیں ڈوب مرنا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے لیے شرم کا ہونا ضروری ہے۔

اب فوراً میرے کمرے سے نکل جاؤ۔ مجھے تمہاری کوئی اور بات نہیں سننی۔

زامل: زریاب تمہیں پاگل کر دے گی۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں، تم نہیں جانتے وہ کتنی پاگل ہے۔

ابوبکر: مشورے کا شکریہ۔ اب یہاں سے چلے جاؤ۔

آپ کیا کہتے اس بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔

27/09/2026

اپنی بیوی کو کسی اور کا محتاج نہ بنائیں

اپنی بیوی کو کبھی دوسروں کا محتاج نہ ہونے دیں
ہر ماہ اس کے لیے کچھ ذاتی جیب خرچ ضرور مقرر کریں چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ہمارے معاشرے میں اکثر ایسا ہوتا ہےکہ اگر بیوی شوہر سے چند پیسے مانگ لے تو فوراً جواب ملتا ہے تم پیسوں کا کیا کرو گی؟
سب کچھ تو تمہیں مل جاتا ہے جو چاہیے بتا دیا کرو میں لا دوں گا فضول پیسے نہیں ہیں میرے پاس پھر لمبی لمبی باتیں شروع ہوجاتی ہیں مگر چند نوٹ نکال کر بیوی کے ہاتھ میں رکھنے کی نوبت نہیں آتی
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بیچاری کبھی اپنے والدین کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے کبھی بہنوں سے مانگتی ہے کبھی سہیلیوں سے اُدھار لیتی ہے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شوہر کو یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ہوتے ہوئے دوسروں سے پیسے مانگے بیوی بھی ایک انسان ہے اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں اس کے بھی دل میں کچھ ارمان ہوتے ہیں کبھی دل چاہتا ہوگا کہ اپنی پسند کی کوئی چیز خرید لے کبھی دل چاہتا ہوگا کہ اپنے والدین بہن بھائیوں یا کسی سہیلی کو تحفہ دے کبھی کسی غریب کی مدد کرنے یا صدقہ دینے کا دل کرتا ہوگا اور کبھی یہ خواہش بھی ہوتی ہوگی کہ کچھ پیسے میرے پاس اپنے ہوں جو کسی ضرورت یا مجبوری میں کام آسکیں
یہی وہ عورت ہے جو اپنا گھر اپنے والدین اپنے بہن بھائی اور اپنی دنیا چھوڑ کر آپ کے پاس آئی ہے اس نے اپنی زندگی آپ کے حوالے کردی ہے وہ خود کمانے نہیں جاتی اس لیے اس کی ضروریات پوری کرنا آپ کی ذمہ داری ہے
ہم دوستوں کے ساتھ ہوٹلوں میں سیر و تفریح میں گھومنے پھرنے میں اور دوسری غیر ضروری چیزوں پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن جب بیوی چند پیسے مانگ لے تو ہمیں بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے یہ رویہ درست نہیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہر ماہ اپنی آمدنی میں سے بیوی کا جیب خرچ مقرر کر دیں جب بھی تنخواہ ملے تو گھر آکر اپنی استطاعت کے مطابق دو ہزار پانچ ہزار یا دس ہزار جو ممکن ہو خوشی سے بیوی کے ہاتھ میں رکھ دیں اور یاد رکھیں جب جیب خرچ دے دیا تو پھر اس کا حساب نہ لیں یہ نہ پوچھیں کہ کہاں خرچ کیا کیوں خرچ کیا کس پر خرچ کیا جیب خرچ کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ انسان اپنی مرضی سے اپنی خوشی سے جہاں چاہے خرچ کرسکے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور ان پر خوش دلی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین_

آپکی کیا رائے ہے اس پر۔۔۔

27/09/2026

قصہ لوط علیہ السلام

(پہلا حصہ)

حضرت لوط بن حاران بن تارح، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی بھتیجے تھے۔ آپ عراق کی سرزمین کلدانیوں کی بستی اور میں پیدا ہوئے۔ اپنے والد کی وفات کے بعد اپنے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مابین النہرین تشریف لے گئے وہاں سے جزیرہ قورا چلے گئے
جسے آج کل جزیرﮤ ابن عمر کہتے ہیں جو نہر دجلہ کے کنارے پر واقع ہے جہاں آشوریوں کی حکومت قائم تھی۔ وہاں سے کنعان کی سرزمین کی طرف چلے گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حکم پر آپ نے شرق اردن کے سرسبز و شاداب علاقہ کو اپنی تبلیغ کا مرکز بنایا۔

قوم لوط: یہ قوم عراق و فلسطین کے درمیان واقع شرق اردن میں بستی تھی۔ ان کے دار الحکومت کا نام سدوم تھا جو بحیرﮤ مردار جسے بحر لوط بھی کہتے ہیں کے کنارے پر آباد تھا۔ اس بحیرہ کے گرد کئی ایک بستیاں آباد تھیں۔
تاریخ میں ان بستیوں کا نام بھی آتا ہے لیکن آج ان بستیوں کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ بعض مؤرخین یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ممکن ہے یہ بستیاں بحیرہ مردار میں غرق ہو گئی ہوں۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ
وَ لُوۡطًا اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الۡفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنۡ اَحَدٍ مِّنَ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۸۰﴾

۸۰۔ اور لوط (کا ذکر کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا: کیا تم ایسی بے حیائی کے مرتکب ہوتے ہو کہ تم سے پہلے دنیا میں کسی نے اس کا ارتکاب نہیں کیا۔

اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ قوم لوط نے ہی ہم جنس بازی کے عمل بد کی ابتدا کی اور اسی کو رواج دیا اور دنیا میں اس غیر فطری فحش کاری کو متعارف کرایا۔ لہٰذا یہ قوم اس عمل بد کے ارتکاب کے علاوہ اسے رواج دینے اور اسے دنیا میں متعارف کرانے کی بھی مجرم ہے۔
قوم لوط کے بعد یونانی قوم نے اس فحش کاری کو اخلاقی جواز دینے کی کوشش کی اور مغرب کی جدید جاہلیت نے تو اس کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا۔ یہ لوگ صنفی حقوق کے ضامن تعدد زوجات کو نا جائز سمجھتے ہیں
لیکن مردوں کو زنانہ پن میں مبتلا کر کے اقلاً دو عورتوں کی جنسی حق تلفی کر کے ان کے لیے صنفی خیانت اور اخلاقی بے راہ روی کے اسباب فراہم کرتے ہیں،
اس طرح وہ تعدد زوجات کو غیر انسانی اور تعدد تجاوزات کو اخلاقی و قانونی سمجھتے ہیں۔ مغرب کے مادی انسان کی فکری و اخلاقی پستی اور قدروں کی پامالی پر حیرت ہوتی ہے۔

جاری ہے

26/09/2026

آمین ثم آمین۔۔

25/09/2026

ف*ج میں صرف ایک انڈا اور 5 جنازے

کراچی... احسن آباد کا ایک چھوٹا سا گھر۔
دروازہ ٹوٹا تو اندر قیامت کا منظر تھا ڈاکٹر عمر اس کی جوان بیوی اور 3 کمسن کلیاں... 5 لاشیں۔ پورا خاندان ختم۔

لیکن اس گھر کی تلاشی میں جو چیز ملی اس نے پورے پاکستان کو ننگا کر دیا۔

رپورٹ کہتی ہے۔۔۔گھر میں ایک روپیہ نہیں تھا ایک روٹی کا اٹا تک نہیں تھا ف*ج کھولا تو اندر صرف ایک انڈا رکھا تھا
بس ایک انڈا... اور 5 انسانوں کی بھوک بیماری اور بے بسی کی پوری داستان۔۔۔

یہ کوئی عام گھر نہیں تھا یہ ایک ڈاکٹر کا گھر تھا وہ ڈاکٹر جو دوسروں کو زندگی دیتا تھا آج خود جگر کے کینسر سے گل رہا تھا۔ ایک ماہ پہلے نوکری سے نکال دیا گیا ایک طرف کینسر کی تکلیف دوسری طرف بے روزگاری تیسری طرف 3 چھوٹی بچیوں کی بھوک۔۔۔۔

محلے والوں نے بتایا کہ چند دن پہلے اس کی بیوی نے شرم و حیا کو ایک طرف رکھ کر گھر کا اوون بیچنے کی کوشش کی۔ 10 ہزار کا اوون کوئی خریدار نہ ملا تو ایک پڑوسی نے ترس کھا کر 2 ہزار دے دیے سوچو وہ 2 ہزار کتنے دن چلے ہوں گے۔۔۔۔؟

میں پوچھتی ہوں وہ ماں اپنی بچیوں کو کیا دلاسہ دیتی ہوگی؟
بیٹا آج پانی پی کر سو جاؤ کل ابو دوا بھی لائیں گے اور کھانا بھی؟
وہ باپ اپنی بیٹیوں کی آنکھوں میں کیسے دیکھتا ہوگا جب ف*ج میں صرف ایک انڈا ہو اور 3 بچیاں ہوں؟

یہاں کینسر نے نہیں مارا یہاں غربت نے مارا ہے یہاں حالات وہ کینسر بن گئے تھے جس کا کوئی علاج نہیں تھا۔

کہاں ہے ریاست۔۔۔؟ کہاں ہیں اربوں کے فنڈ؟ کہاں ہیں لنگر خانے اور احساس پروگرام کے دعوے؟

ہمیں بڑے فخر سے حضرت عمرؓ کا واقعہ یاد آتا ہے کہ رات کو گشت کرتے ہوئے ایک ماں کو دیکھا جو بھوکے بچوں کو بہلانے کے لیے ہانڈی میں پتھر ابال رہی تھی۔ عمرؓ نے آٹا اپنی پیٹھ پر لادا خادم نے کہا حضور میں اٹھا لیتا ہوں تو عمرؓ رو پڑے اور کہا کیا قیامت کے دن میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے۔۔۔۔😭؟

آج احسن آباد کے اس گھر میں بھی بچے بھوک سے بلک رہے تھ مگر کوئی عمرؓ نہیں آیا۔ ریاست سو رہی تھی حکمران سو رہے تھے ہم سب سو رہے تھے۔

یہ 5 لاشیں نہیں یہ اس نظام کے منہ پر 5 تماچے ہیں یہ ایک انڈا گواہی دے گا کہ اس ملک میں غریب ہونا جرم بن گیا ہے۔

خدارا اپنے آس پاس دیکھو۔۔! تمہارے گلی محلے میں بھی کوئی ڈاکٹر عمر بھوک سے مر رہا ہوگا کوئی ماں اوون بیچ رہی ہوگی اس کا ہاتھ تھام لو اس سے پہلے کہ اس کے گھر سے بھی

25/09/2026

Address


Pakistan
Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Umlina Hair Secrets posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Karachi.