azhar jaffari
مولانا اظہر جعفری فقہ جعفریہ
04/10/2026
03/10/2026
*♻️ فیضِ امام زمان عج*
*📌 قَالَ الإمامُ المَهديُّ اَرَوَاحَنَا فِدَاہُ*
*أمّا وَجهُ الاِنتفاعِ بِي في غَيبَتي فَكَالاِنتِفاعِ بِالشَّمسِ إذا غَيَّبَها عَنِ الأبصارِ السَّحابُ*
*میری غیبت کے زمانے میں مجھ سے فائدہ اٹھانے کی مثال ایسی ہے جیسے سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جانے کے باوجود اس کی روشنی اور حرارت سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے*
*📚 بحار الأنوار، ج ۵۲، ص ۹۲*
*👤علامہ محمد باقر مجلسی
اظہر عباس جعفری
23/09/2026
مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا کیا ہے ؟
سب سے پہلے میں آپ قارئین کی خدمت میں کتب لغات سے لفظ مصحف کے معانی پیش کروں گا تاکہ باقی تفصیل سمجھنے میں آسانی ہو
لسان العرب میں مرقوم ہے کہ
الْمُصْحَفِ وَالْمُصْحَفِ الْجَامِعُ لِلصَّحُفِ الْمَكْتُوبَةِ بَيْنَ الدَّمْتَيْنِ كَأَنَّهُ أَصْحُفٍ وَالْكَسْرُ وَالْفَتْحُ فِيْهِ لُغَةٌ
ترجمہ : لفظ مصحف کا اطلاق ان صحائف پر کیا جاتا ہے جو کہ لکھے ہوئے ہوں اور دو دفیتوں کے درمیان لکھے ہوئے ہیں اور اس میں کسر و فتح دونوں ہی درست ہیں
کتاب المصباح المنیر میں لکھا ہے
الصَّحِيفَةُ قِطْعَةٌ مِنْ جِلْدٍ أَوْ قِرْ طَاسٍ كُتِبَ فِيهِ ... وَالْجَمْعُ صُحُفُ بِضَمَّتَيْنِ وَصَحَائِفُ ... وَالْمْصحفَ بضم المیم الشھر مِنْ كَسْرِهَا
ترجمہ:- لفظ صحیفہ کا اطلاق چمڑے کے ٹکڑے اور لکھے ہوئے کاغذ پر کیا جاتا ہے۔ اس کی جمع صحف اور صحائف۔ لفظ مصحف کی میم پر پیش کسرہ سے زیادہ مشہور ہے۔
کتاب اقرب الموارد میں لکھا ہے:
الْمُصْحَفُ اسْمٌ مَفْعُولِ وَحَقِيقَتُهَا فَجْمَعُ الضُّعْفِ أَوْ مَا يُجمعُ مِنْهَا بَيْنِ دَفَتِي الْكِتَبِ لَقَتِيَ الْكِتَبِ لِشَيْتِيَ الْكِتَبِ الْمِشَيْتِي ٌ وَهُمَا
الْمُصْحَفُ الْمُصْحَفُ جَمَعَ مَصَاحِفٌ
ترجمہ :- لفظ مصحف اسم مفعول ہے اور وہ صحیفوں کے مجموعہ کا نام ہے یا جو مواد ایک منظم کتاب کی دفیتوں میں جمع ہو، اس کی جمع مصاحف ہے
کتب لغت میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ مصحف اس مجموعہ کو کہا جاتا ہے جس میں کچھ صحیفے جمع ہوں۔
علامہ وحید الزمان خان فرماتے ہیں مصحف فاطمہ ، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مصحف کو کہتے ہیں حضرت فاطمہ س آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد صرف 75 دن تک زندہ رہیں اور ان دنوں میں اپنے والد ماجد کی مفارقت کی وجہ سے سخت غمزدہ رہتی تھیں اس حالت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آیا کرتے ان کو تسلی دیتے ان کا دل خوش کرتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حال اور آپ کا مقام ان سے بیان کرتے اور ان کی اولاد کا حال جو ان کے بعد ہونے والا تھا وہ بھی بیان کرتے حضرت علی علیہ السلام ان باتوں کو لکھتے تھے یہی مصحف فاطمہ سلام اللہ علیہا ہے
اہل سنت کی معتبر کتاب لغات الحدیث ص 569
کتاب اصول کافی ج 1- 2 ص 291
یہ امر تعجب خیز نہیں ہے کہ جناب سیدہ الکونین سلام اللہ علیہا سے جناب جبرائیل علیہ السلام کا کلام کرنا کیونکہ جناب مریم سلام اللہ علیہا اور جناب سارہ سلام اللہ علیہا اور جناب ام موسی سلام اللہ علیہا (یوحاند ) سے جناب جبرائیل علیہ السلام کا مخاطب ہونا اور ان سے گفتگو کرنا اور جیسا کہ ان برگزیدہ خواتین سے جناب جبرائیل علیہ السلام کے گفتگو کرنے کے واقعات قرآن مجید میں ملتے ہیں جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شان تو ان سب خواتین سے بلند و بالا ہیں کیونکہ آپ عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں حدیث نبوی کےمطابق
امام جعفر صادق علیہ اسلام نے فرمایا :
وَإِنَّ عِنْدَنَا لَمُصْحَفُ فَاطِمَةُ لا وَمَا يُدْرِيهِمْ مَا الْمُصْحَفُ فاطمة ثُمَّ قَالَ: مُصْحَفُ فِيْهِ مِثْلُ قُرَانِكُمْ هَذَا ثَلَاثُ مَرَّاتٍ وَاللَّهِ مَا فِيهِ مِنْ قُرْآنِكُمْ حَرْفٌ وَاحِدٌ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٍ أَمْلَاهَا اللَّهُ وَأَوْحَى إِلَيْهَا قَالَ قُلْت هَذَا وَاللَّهِ الْعِلْمِ
ترجمہ:- ہمارے پاس مصحف فاطمہ ہے لوگوں کو اس مصحف فاطمہ کا کیا علم ہے؟ پھر فرمایا: یہ وہ مصحف سے جو تمھارے قرآن سے حجم میں تین گنا بڑا ہے اس میں تمھارے قرآن کا ایک حرف بھی نہیں ہے۔ اللہ نے اس کا املا کر کے سیدہ کو وحی کی تھی۔ میں (راوی) نے عرض کیا: خدا کی قسم! یہ ہے علم
بصائر الدرجات ص 156
اس روایت میں امام نے خود وضاحت کر دی کہ وہ نہ تو قرآن ہے اور نہ ہی اس میں قرآنی موضوعات ہیں۔
سید محسن عالی لکھتے ہیں:
یہ امر واضح ہے کہ اس میں قرآن کی کوئی بات نہیں لوگوں کو اس کے لفظ مصحف سے مغالطہ ہوا ہے۔ اور کچھ روایات میں ہے کہ اس میں جناب سیدہ سلام للہ علیہا کی وصیت تھی۔ کچھ روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ اس میں رسول خدا کی ایسی تعلیمات تھیں جو آپ نے حضرت علی کو لکھوالی تھیں۔
کتاب اعیان الشیعہ ج 1 ص 97
علامہ خطیب محمد کاظم قزوینی لکھتے ہیں:
روایت میں جو یہ الفاظ دکھائی دیتے ہیں کہ اس میں تمھارے قرآن کا ایک بھی حرف نہیں ہے۔ اس جملہ کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ نعوذ باللہ ناقص ہے اور مصحف فاطمہ میں اس کی تکمیل کی گئی ہے۔ پس ! اس طرح کے نظریہ سے ہزار بار توبہ۔
اسی طرح سے اس کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ اللہ نے جناب سیدہ پر کوئی اور قرآن نازل کیا تھا اور جو بھی شخص اس طرح کا تاثر دے وہ یا تو جاہل ہے یا پھر معاند ہے۔
فاطمہ الزہراء من المہد الی اللحد ص 83
علمائے شیعہ کے اقوال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ مصحف فاطمہ کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کی ایسی علمی میراث سمجھتے ہیں جو آپ نے اپنی اولاد بالخصوص آئمہ علیھم السلام کے لیے چھوڑی تھی۔ اور جب حضرت مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا تو وہ اپنی جدہ طاہرہ کی اس علمی وراثت کو ظاہر کریں گے۔
#والسلام
جمع و ترتیب از
#مصحف #فاطمہ
Ali Karbalai Write's
Category
Website
Address
Karachi
Karachi
74200
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when azhar jaffari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.
