Iqbal official
You can get general knowledge
اچھے کام اتنے خاموشی سے کرو جتنے کہ شادی شدہ حضرات گھر کے کام کرتے ہیں🤣🤣
ضلع کوھاٹ میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوہاٹ کے ایس ایس سی (سالانہ-1) امتحان میں نقل کی روک تھام اور شفافیت برقرار رکھنے کیلئے ڈپٹی کمشنر کوھاٹ نے درج ذیل اقدامات پر دفعہ 144 کے تحت 30 یوم کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔
1۔ پاکٹ گائیڈ کی خرید و فروخت۔
2۔ مائیکرو فوٹو سٹیٹ کی پرنٹنگ و خرید و فروخت۔
3۔ نقل کرنے کا مواد۔
4۔ امتحانی مراکز کی حدود میں غیر مجاز افراد کی موجودگی پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔
سائنسی اعتبار سے پاکستان میں عیدالفطر بدھ کو ہوگی۔
08/04/2024
پاکستان میں مکمل سورج گرہن کل نہیں بلکہ آج سے 10 سال بعد 20 مارچ 2034 کو مقامی وقت کے مطابق عصر کے وقت 4 بج کر 49 منٹ پر شروع ہو گا اور 4 بج 54 منٹ پر ختم ہو گا۔ اس مکمل سورج گرہن کو خیبر پختخواہ میں کوہاٹ، پشاور اور اوپر کے علاقوں جبکہ اسلام آباد، راولپنڈی اور مظفر آباد میں دیکھا جا سکے گا۔ ان علاقوں کے علاوہ ان سے اوپر اور نیچے کے علاقوں میں کم و بیش آدھے پاکستان میں جزوی سورج گرہن ہو گا۔
08/04/2024
عید کب ہو گی؟
سورج گرہن ہمیشہ نئے چاند کی پیدائش پر ہوتا ہے۔ نئے چاند سے مراد یہ کہ چاند سورج اور زمین کے درمیان میں آ چکا ہے اور اسکے اس سائیڈ پر جو زمین سے نظر آتی ہے، کے معمولی سے حصے پر سورج کی روشنی اب پڑنا شروع ہو جائے گی۔
آج امریکہ ، میکسیکو اور کینیڈا میں اُنکے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کو سورج گرہن ہو گا۔ جسکا مطلب یہ کہ پاکستان میں کل شام کے وقت تک نئے چاند کو قریب 20 گھنٹے ہو چکے ہونگے۔ اب چونکہ چاند زمین کے گرد ایک دن میں تقریباً 13.2 ڈگری گھومتا ہے جسکا مطلب یہ ہوا کہ نئے چاند کی پیدائش سے 20 گھنٹے بعد چاند 11 ڈگری گھوم چکا ہو گا تو اس بات کا واضح امکان ہے کہ چاند کل پاکستان میں نظر آئے گا اگر مطلع ابر آلود نہ ہوا. چونکہ پاکستان شمال سے جنوب میں زیادہ پھیلا ہوا ہے، لہذا چاند دیکھنے کا وقت شمالی علاقوں میں 7 بجے سے 7:30 تک جبکہ جنوبی علاقوں میں 7:30 سے 8 بجے کے دوران ہو گا۔ لہذا عید الفطر بروز بدھ کو ہو گی۔
وآخر الدعوانا
چِلی کا صحرا، آسمان اور وسعتیں!!
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
صحرا زمین پر اّن علاقوں کو کہتے ہیں جہاں بارش سال میں شازو نادر ہی ہو۔ اس حوالے سے دنیا کا سب سے بڑا صحرا زمین کے جنوبی قطب پر موجود انٹارکٹیکا کا برِ اعظم ہے جو دنیا کا خشک ترین علاقہ ہے۔ تاہم دنیا میں اور بھی کئی ایسے صحرا ہیں جو خشک سالی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان میں ایک ہے چِلی کا اٹاکامہ صحرا۔ اس صحرا کے ایک طرف بحرِ الکاہل ہے جبکہ دوسری طرف اندیس نامی پہاڑی سلسلہ۔
قدیم زمانوں میں بلب یا برقی قمقمے نہیں ہوا کرتے تھے۔ لوگ صحراؤں، چٹیل میدانوں میں صاف اور ستاروں سے بھرا روشن آسمان دیکھتے۔ قدیم انسان آسمان میں ستاروں
کو دیکھ کر راستے تلاش کرتے۔ ستارے قدیم دور کے انسان کے لیے حیرت کے ساتھ ساتھ تجسس کا بھی سامنا لیے ہوتے۔
آپ نے کبھی سورج کی روشنی میں موبائل فون استعمال کیا ہے۔ کس قدر مشکل سے اسکی سکرین نظر آتی ہے۔ تیز روشنی میں مدہم شے نظر کہاں آتی ہے۔ یہی حال رات کے آسمانوں کا ہے۔ جدید انسان کے بنائی روشنیاں اور برقی قمقمے رات کے آسمان پر روشنی بکھیرتے ہیں تو کئی مدہم ستارے اس مصنوعی روشنی میں چھپ جاتے ہیں۔ آسمانوں کو تکنا ہو توشہر سے دور کسی مقام پر جائیں، وہاں صاف کُھلا آسمان دِکھے گا۔
اسی وجہ سے دنیا بھر کی فلکی مشاہدہ گاہیں صحراؤں یا پہاڑوں پر بنائی جاتی ہیں جہاں بڑی بڑی اور جدید ٹیلیسکوپس رات کے آسمانوں میں اس وسیع کائنات کے بے کراں مناظر میں رازِ حیات وممات ڈھونڈتی ہیں۔
ایسی ہی ایک فلکی مشاہدہ گاہ چِلی کے اس اٹاکامہ صحرا میں ہے جسےParanal Observatory کہتے ہیں اور اسے یورپ کی فلکیاتی مشاہدات کی تنظیم یورپین ساؤتھ آبزرویٹری چلاتی ہے۔ اس مشاہدہ گاہ کو 1999 میں تعمیر کیا گیا اور اس میں اب تک پانچ جدید ٹیلیسکوپس شامل ہیں جو روشنی کی مختلف ویویلینتھس میں نوری سالوں کی مسافت پر ستاروں اور کہکشاؤں کو دیکھتی ہیں، زمین کے علاوہ باقی سیاروں پر زندگی کے آثار ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ہیں اور کائنات کے حیرت کدے کی مناظر ہمیں دِکھاتی ہیں۔
دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیات ان ٹیلسکوپس کو استعمال کرنے کے لیے سال بھر درخواستیں دیتے ہیں اور انکی درخواستوں کی منظوری پر کچھ وقت انکو دیا جاتا ہے کہ یہ آسمان میں ان جدید ٹیلیسکوپس کی مدد سے کسی خاص حصے میں کسی خاص ستارے یا کہکشاں کا مشاہدہ کریں اور سائنسی تحقیق کو آگے بڑھائیں۔
اب تک اس مشاہدگاہ نے ہم پر کائنات کے کئی راز افشا کیے ہیں جن میں زمین اور زمین سے بڑی سائز کے سیاروں کی دریافت بھی ہے اور بلیک ہولز کی معلومات بھی۔ نجانے کتنی دنیائیں ابھی انسانوں کے تجسس کے انتظار میں چھپی ہوئی ہیں۔کون جانتا ہے پر تجسس کا یہ سفر لامحدود ہے اتنا ہی۔لامحدود جتنی کہ یہ کائنات ہے۔
وسعتِ ابتدا نہیں معلوم
وسعتِ انتہا نہیں معلوم
ہم معلوم ہے جو ہے معلوم
اور جو معلوم تھا، نہیں معلوم
اس پیج پر ڈاکٹر حفیظ الحسن کی سائنسی تحاریر پڑھنے کو ملیں گیں۔follow the page
29/02/2024
بیرونی ممالک جانے کے راستے!!
اگر آپ بیرونِ ممالک آنا چاہتے ہیں تو اسکے مختلف طریقے ہیں اور یہ اس پر منحصر ہے کہ آپکی عمر، تعلیم، خاندانی صورتحال اور پیشہ کیا ہے۔
یہاں بات کرتے ہیں تعلیم یافتہ افراد کی جنکے پاس سائنس یا بزنس کی ڈگریاں ہیں۔ ایسے افراد بیرونِ ملک اعلی تعلیم کے حصول کے سلسلے میں سٹوڈنٹ ویزا پر آ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ، برطانیہ، یورپ، آسٹریلیا ، چین اور ملیشیا کی کئی یونیورسٹیاں ہیں جہاں کم قیمت میں، سکالرشپ یا مفت میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس حوالے سے کئی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں ماسٹرز اور پینایچ ڈی لیول کے پروگران ڈھونڈے جا سکتے ہیں۔چند ایسی ویب سائٹس جہاں ماسٹرز کے پروگرام مختلف ممالک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں وہ یہ ہیں:
https://www.mastersportal.com
(ماسٹرز کے پروگرامز کے حوالے سے)
https://www.phdportal.com/
(پی ایچ ڈی کے پروگرمز کے حوالے سے)
یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ ان دو ویب سائٹس پر اپ دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف طرح کے ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز دیکھ سکتے ہیں۔
تا ہم اگر اپکو اسکالرشپ کے حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہو اور اپکو انگلش میں معلومات لینا مشکل ہورہی ہو تو اپ گوگل میں "Urdu Scholarships.com.pk" سرچ کرسکتے ہے
یہاں یہ بات یاد رکھیں کہ بہت سے یورپی ممالک میں تعلیم مفت ہے تاہم ان ممالک میں سمسٹر فیس لی جاتی یے جوفی سمسٹر چند سو یور ہوتی ہے یعنی ڈیڑھ سے دو لاکھ روپے کے درمیان۔ البتہ اس سمسٹر فیس سے اپکو مفت پبلک ٹرانسپورٹ، لائیبریری اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ یہ فیس تعلیمی اخراجات کی مد میں نہیں لی جاتی۔ جن یورپی ممالک میں تعلیم کم قیمت یا کم و بیش مفت ہے ان میں جرمنی سرِ فہرست ہے۔ اسکے علاوہ چیک ری پبلک، امفن لینڈ ، ناروے، آسٹریا وغیرہ میں بھی سمسٹر فیس نہیات کم ہے۔ جرمنی یورپ کا آبادی اور وسائل کے اعتبار سے بڑا ملک ہے اور یہاں مخلتف شعبہ جات میں دنیا کی ٹاپ کلاس یونیورسٹیاں موجود ہیں ۔ جرمنی میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کے پروگرامز اور سکالرشپس آپ اس ویب سائٹ پر تلاش کر سکتے ہیں۔
https://www.daad.de/de/studieren-und-forschen-in-deutschland/studienprogramme-sprachkurse/alle-studiengaenge/
فرانس میں انگریزی میں تعلیمی ڈگریوں کے پروگرام اس ویب سائٹ پر:
https://www.usa.campusfrance.org/programs-taught-in-english
سویڈن میں اس ویب سائٹ پر:
https://studyinsweden.se/plan-your-studies/degree-programmes/
ناروے میں اس ویب سائٹ پر:
https://studyinnorway.no/study-opportunities
امریکہ میں اس ویب سائٹ پر:
https://www.findamasters.com/masters-degrees/courses.aspx?400l20
کینڈیا میں اس ویب سائٹ پر:
https://www.educanada.ca/study-plan-etudes/graduate-studies-etudes-superieures.aspx?lang=eng
اور ایسے ہی دوسرے ممالک میں انکے آفیشل پلیٹفارمز پر۔
ساینس کے شعبہ جات میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک کم و بیش جاب کی طرح ہوتی ہے۔ اس حوالے سے آپکو یورپ اور امریکہ میں مختلف ٹاپکس پر پی ایچ ڈی پوزیشنز اور پوسٹ ڈاک کے لیے اپلائی کرنا پڑتا ہے۔
ایک ایسی ویب سائٹ جہاں آپکو مخلتف پی ایچ ڈی پوزینشز ٹاپکس کے اعتبار سے ملیں گی وہ یہ ہے:
https://euraxess.ec.europa.eu/jobs/search
اسکے علاوہ امریکہ اور دیگر ممالک میں پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاک کی پوزینشز مخلتف جاب پورٹلز پر ایڈورٹائز ہوتی ہیں۔ آپ ان جاب پورٹلز پر جا کر Phd یا Postdoctoral لکھیں تو ایسی کیی پوزیشنز آئیں گی جنکی شرائط پر اگر آپ پورا اُترتے ہیں تو ان پر اپلائی کر سکتے ہیں۔
مخلتف جاب پورٹلز یہاں پر:
https://resources.workable.com/tutorial/job-sites-in-usa
اگر آپ کینڈیا، آسٹریلیا،نیوزی لینڈ وغیرہ امیگریشن باہتے ہیں تو اس کے لیے ان ممالک کی ویب سائٹس یہ ہیں:
کینیڈا
https://www.canada.ca/en/services/immigration-citizenship.html
آسٹریلیا
https://immi.homeaffairs.gov.au/
نیوی ذی لینڈ
https://www.immigration.govt.nz/
خدارا ایجنٹوں اور انسانی سمگلروں کے ہاتھوں ذلیل ہو کر مت آئیں۔ آپ اگر پڑھے لکھے ہیں تو انٹرنیٹ پر باہر کے ممالک میں تعلیم ، کاروبار اور امیگریشن کے حوالے سے تمام معلومات خود بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کی زندگیاں کو یوں داؤ پر مت لگائیں کہ کل کو آپکے بوڑھے ماں باپ یا بچے تمام عمر بس آپکا راستہ ہی تکتے رہیں۔ شکریہ
مزید اسکالرشپس کی معلومات کیلئے ہمیں پیج کو Follow کریں
Find 90000+ Masters Worldwide: all MBA, MSc., MA, LLM, MPhil and other postgraduate programmes - Mastersportal.com Find and compare Master degrees from top universities worldwide: search all MBA, MSc, MA, LLM, MPhil and more postgraduate programmes to study abroad or at home.
26/02/2024
مریخ کا نیلا سورج!!
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
شام کا منظر کسے اچھا نہیں لگتا۔ زمین پر سورج کی کرنوں کی شفق محبوب کے گالوں سی لالیاں آسمان میں بکھیرتی ہیں تو آسمان پر سورج کسی سرخ پکے ہوئے سیب کی مانند دکھتا ہے۔ مگر ایسا محض زمین پر ہوتا ہے۔ اگر آپ مریخ پر جائیں تو شام کا منظر الگ ہو گا۔ آپکو ہلکا نیلا سورج اُفق سے اترتا نظر آئے گا۔ اب تک ناسا کے کئی بھیجے جانے والے مشنز جو مریخ پر اُتر چکے ہیں، مریخ کی شاموں کا منظر کیمروں میں قید کر کے ہمیں دکھا چکے ہیں کہ مستقبل میں جب انسان یہاں اُترے گا اور یہاں بسیرا کرے گا تو شام کو تھک ہار کر وہ ایک نیلا سورج آسمان سے اُترتے دیکھے گا۔
مریخ پر دراصل گرد ہے جو آئرن آکسائڈ یعنی زنگ کی بنی ہوئی ہے۔ اسی لیے اس سیارے کو سرخ سیارہ بھی کہتے ہیں۔ اگر اپ ٹیلیسکوپ سے مریخ کو دیکھیں تو یہ سرخ دکھتا ہے۔ وجہ اسکی سطح پر پھیلی ہوئی زنگ کی گرد۔
یہی گرد اسکی فضا میں بھی موجود ہے۔ دن کے وقت سورج کی روشنی مریخ کی فضا سے گزرتی ہے تو اس میں موجود ذرات سرخ رنگ کی روشنی کو زیادہ بکھیرتے ہیں سو دن کے وقت مریخ کا آسمان نارنجی یا ہلکا سرخ دکھائی دیتا ہے مگر جب شام ہونے لگتی ہے تو سورج افق سے نیچے ہوتا ہے۔ یوں سورج کی روشنی کو زیادہ فضا میں سے گزر کر آنا پڑتا ہے۔ اب فضا میں موجود گرد سرخ رنگ کو اتنا بکھیرتی ہے کہ وہ جذب ہو جاتا ہے۔ پیچھے بچتی ہے نیلے رنگ کی روشنی۔ اسے یوں سمجھیں کہ شام میں مریخ کی فضا سورج کے سرخ رنگ کے لیے فلٹر بن جاتی ہے جو صرف نیلے رنگ کو ہی گزرنے دیتی ہے۔
زمین پر اسکا الٹ ہے۔ کیونکہ زمین کی فضا میں گیسیں نیلے رنگ کو زیادہ بکھیرتی ہیں۔ سو دن کو آسمان نیلا جبکہ شام میں آسمان اور سورج دونوں سرخ دکھتے ہیں۔
25/02/2024
مریخ سے زمین کیسی دکھتی ہے؟
تحریر: ڈاکٹر حفیظ الحسن
تصویر میں نظر آنے والا چھوٹا سا روشن نقطہ دراصل ہماری زمین ہے۔ یہ تصویر ناسا کی کیورئیاسٹی روور نے مریخ پر 31 جنوری 2014 کو مریخ پر غروبِ آفتاب کے 80 منٹ بعد کھینچی۔ یہ روور دراصل ایک روبوٹک، خود کار گاڑی ہے جو 6 اگست 2013 کو مریخ پر اُتری۔ اس میں جدید کیمرے اور سائنسی آلات نصب ہیں جنکا مقصد مریخ پر زندگی کے آثار ڈھونڈنا اور مریخ کے متعلق معلومات اکٹھا کرنا ہے۔ یہ روور آج بھی مریخ پر کام کر رہی ہے اور متواتر زمین پر سائنسدانوں کو بیش قیمت ڈیٹا مہیا کر رہی ہے جس سے وہ ماضی میں مریخ کے متعلق بہتر طور پر جان رہے ہیں۔ جب روور کے کیمرے نے مریخ سے زمین کی تصویر لی تو زمین اُسوقت مریخ سے تقریباً 16 کروڑ کلومیٹر دور تھی۔
یہ بات کس قدر ءیران کں ہے کہ ہم اس زمین کو اس قدر دور سے دیکھ سکتے ہیں۔
مستقبل میں اگر انسان مریخ پر جائیں گےتو رات میں مریخ کے آسمان پر اُنہیں باقی ستاروں کے ساتھ ساتھ دو روشن اجسام ستاروں کی طرح چمکتے نظر آئیں گے۔ ان میں ایک ہوگی ہماری زمین اور دوسرا ہو گا ہماری زمین کا چاند۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Kohat
