Care Quest
🤗 Health, Beauty & Wellness ❤️
03/08/2026
ایک گائناکولوجسٹ سے ایک نئی ماں نے پوچھا...
"ڈاکٹر صاحب، سیزیرین کے بعد کچھ خواتین کا زخم جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے، جبکہ کچھ میں انفیکشن کیوں ہو جاتا ہے؟"
گائناکولوجسٹ مسکرائیں اور بولیں،
"اکثر فرق سرجری میں نہیں... بلکہ سرجری کے بعد کی دیکھ بھال میں ہوتا ہے۔"
یہ جواب سن کر وہ حیران رہ گئی۔
کیونکہ اسے لگتا تھا کہ آپریشن ختم ہونے کے بعد اصل مشکل بھی ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
سیزیرین (Cesarean Section) ایک بڑا آپریشن ہوتا ہے۔
اس دوران پیٹ اور رحم پر چیرا لگایا جاتا ہے تاکہ بچے کی محفوظ پیدائش ممکن ہو سکے۔
آپریشن کے بعد جسم فوراً زخم بھرنے کا عمل شروع کر دیتا ہے۔
اب ذرا اپنے جسم کے اندر کا منظر تصور کریں۔
زخم کے کناروں پر نئے خلیے بن رہے ہیں۔
مدافعتی نظام جراثیم کو دور رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اور جسم دن رات اس زخم کو دوبارہ مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔
لیکن اگر اسی دوران جراثیم زخم تک پہنچ جائیں...
تو یہی شفا یابی کا عمل سست پڑ سکتا ہے۔
اسی لیے سیزیرین کے بعد پہلے چند دن سب سے زیادہ اہم سمجھے جاتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے...
جراثیم زخم تک پہنچتے کیسے ہیں؟
اگر زخم کو صاف نہ رکھا جائے...
ڈریسنگ وقت پر تبدیل نہ کی جائے...
بار بار گندے ہاتھ لگیں...
پسینہ زیادہ جمع ہو...
یا سخت کپڑوں کی مسلسل رگڑ پڑتی رہے...
تو انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے ڈاکٹر ہمیشہ زخم کو صاف، خشک اور محفوظ رکھنے کی ہدایت دیتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
ہر سرخی یا ہر درد انفیکشن نہیں ہوتا۔
سرجری کے بعد ہلکی سوجن اور تکلیف کچھ دن تک معمول کا حصہ ہو سکتی ہے۔
البتہ اگر...
🔸 زخم سے پیپ نکلنے لگے۔
🔸 بدبو آنے لگے۔
🔸 سرخی مسلسل بڑھنے لگے۔
🔸 بخار ہو جائے۔
🔸 یا درد پہلے سے زیادہ ہو جائے۔
تو انتظار کرنے کے بجائے فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہیے۔
ایک غلطی بہت سی خواتین انجانے میں کر بیٹھتی ہیں۔
وہ کسی کے مشورے پر زخم پر تیل، کریم، ہلدی، ٹوتھ پیسٹ یا گھریلو نسخے لگانا شروع کر دیتی ہیں۔
حالانکہ ہر چیز زخم کے لیے محفوظ نہیں ہوتی۔
بعض اوقات یہی چیزیں جراثیم کو بڑھنے کا موقع دے سکتی ہیں۔
اسی لیے زخم پر صرف وہی دوا یا ڈریسنگ استعمال کریں جو آپ کے ڈاکٹر نے تجویز کی ہو۔
لیکن ایک حقیقت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔
زیادہ تر مائیں اپنی ساری توجہ نومولود بچے پر دے دیتی ہیں...
اور اپنی صحت کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔
حالانکہ اگر ماں خود صحت مند ہوگی...
تبھی وہ اپنے بچے کی بہتر دیکھ بھال کر سکے گی۔
اس لیے متوازن غذا، مناسب پروٹین، وٹامن C، آئرن، پانی کی مناسب مقدار، ہلکی چہل قدمی اور آرام بھی زخم کی بہتر ریکوری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کیونکہ جسم کو زخم بھرنے کے لیے صرف دوا نہیں...
اچھی غذائیت بھی چاہیے ہوتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ سیزیرین کا زخم کب ٹھیک ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا آپ اسے ٹھیک ہونے کے لیے وہ صفائی، غذائیت اور دیکھ بھال دے رہی ہیں جس کی اسے واقعی ضرورت ہے؟
03/08/2026
ایک کلینیکل نیوٹریشنسٹ سے ایک خاتون نے پوچھا...
"میرے ہاتھ اور پاؤں میں بار بار سن ہونا، جھنجھناہٹ اور سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہوتا ہے۔ کیا اس کی وجہ واقعی وٹامن B12 کی کمی ہو سکتی ہے؟"
کلینیکل نیوٹریشنسٹ نے مسکرا کر کہا،
"ہو سکتی ہے... لیکن ہر بار یہی وجہ نہیں ہوتی۔"
وہ خاتون خاموش ہو گئی۔
کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر درجنوں ویڈیوز دیکھی تھیں جن میں ہر سن ہونے والے ہاتھ اور پاؤں کو وٹامن B12 کی کمی قرار دیا جا رہا تھا۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
وٹامن B12 ایک ایسا وٹامن ہے جو اعصاب (Nerves)، یعنی جسم میں پیغامات پہنچانے والے نظام، اور خون کے سرخ خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
جب جسم میں اس کی کمی ہو جائے تو بعض افراد میں ہاتھوں اور پاؤں میں سن ہونا، جھنجھناہٹ، سوئیاں چبھنے جیسا احساس، کمزوری، تھکن یا یادداشت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
اب ذرا اپنے جسم کے اندر کا منظر تصور کریں۔
دماغ ایک پیغام بھیجتا ہے۔
یہ پیغام اعصاب کے ذریعے ہاتھوں اور پاؤں تک پہنچتا ہے۔
اگر اعصاب کو مناسب غذائیت نہ ملے تو بعض اوقات یہی پیغامات متاثر ہونے لگتے ہیں، اور انسان کو سن ہونے یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہو سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
ہر سن ہونا وٹامن B12 کی کمی نہیں ہوتا۔
ذیابیطس، اعصابی بیماریاں، بعض ادویات، تھائیرائیڈ کے مسائل اور دیگر طبی وجوہات بھی ایسی علامات پیدا کر سکتی ہیں۔
اسی لیے اصل وجہ جاننا بہت ضروری ہے۔
پھر سوال یہ ہے...
وٹامن B12 قدرتی طور پر کہاں سے حاصل کیا جائے؟
قدرت نے اس کے بہترین ذرائع پہلے ہی ہماری خوراک میں رکھ دیے ہیں۔
🥚 انڈے
🥛 دودھ
🥣 دہی
🧀 پنیر
🐔 چکن
🐄 گائے کا گوشت
🍗 چکن کی کلیجی
🥩 گائے کی کلیجی
🐟 سالمن
🐟 ٹونا
🐟 سارڈین
🐟 میکریل
🦐 جھینگے
🥣 وٹامن B12 سے فورٹیفائیڈ سیریل
لیکن ایک حقیقت اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔
بعض لوگ یہ تمام غذائیں کھانے کے باوجود بھی وٹامن B12 کی کمی کا شکار ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے جسم میں اس وٹامن کا جذب (Absorption) درست طریقے سے نہیں ہو رہا ہوتا۔
اسی لیے اگر ہاتھوں یا پاؤں میں سن ہونا، جھنجھناہٹ، شدید تھکن یا کمزوری مسلسل برقرار رہے، تو صرف خوراک بڑھانے کے بجائے ڈاکٹر کے مشورے سے Vitamin B12 Test کروانا زیادہ دانشمندانہ قدم ہے۔
اور اگر واقعی کمی ثابت ہو جائے، تو ڈاکٹر ضرورت کے مطابق Vitamin B12 Supplement یا انجیکشن بھی تجویز کر سکتے ہیں۔
کیونکہ صحت اندازوں سے نہیں...
صحیح تشخیص اور صحیح غذائیت سے بہتر ہوتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ آپ وٹامن B12 والی غذائیں کھاتے ہیں یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آپ کے جسم میں واقعی وٹامن B12 کی کمی ہے یا نہیں؟
03/08/2026
ایک ڈرماٹولوجسٹ سے ایک خاتون نے پوچھا...
"میں نے مہنگے شیمپو، سیرم اور کئی گھریلو نسخے آزما لیے، لیکن بالوں کا گرنا کم کیوں نہیں ہو رہا؟"
ڈرماٹولوجسٹ نے اس کے بالوں کو غور سے دیکھا اور کہا،
"کیونکہ اکثر لوگ صرف گرتے ہوئے بال دیکھتے ہیں، ان کے پیچھے چھپی وجہ نہیں۔"
وہ خاتون خاموش ہو گئی۔
اسے لگتا تھا کہ ہر روز تکیے، کنگھی اور غسل خانے میں نظر آنے والے بالوں کا ایک ہی حل ہے:
کوئی طاقتور تیل۔
کوئی نیا شیمپو۔
یا کوئی ایسا نسخہ جو چند دن میں بالوں کا گرنا روک دے۔
مگر بالوں کی کہانی اتنی سادہ نہیں۔
بالوں کا زیادہ گرنا ذہنی دباؤ، بیماری، زچگی، غذائی کمی، ہارمونز، تھائیرائیڈ، موروثی مسئلے یا بالوں کے ساتھ سخت برتاؤ سمیت کئی وجوہات سے ہو سکتا ہے۔ اسی لیے مؤثر علاج کی پہلی شرط اصل وجہ معلوم کرنا ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بالوں کی روزمرہ دیکھ بھال بے فائدہ ہے۔
اصل راز یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
صدیوں سے برصغیر میں آملہ، ریٹھا، سکاکائی اور بھنگراج کو بالوں کی دیکھ بھال میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
آملہ میں قدرتی نباتاتی مرکبات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں، یعنی ایسے اجزا جو بالوں اور جلد کو نقصان پہنچانے والے آکسیڈیٹو دباؤ کے مقابلے میں مدد دے سکتے ہیں۔
بھنگراج، جسے سائنسی زبان میں Eclipta alba یا Eclipta prostrata کہا جاتا ہے، روایتی طور پر بالوں کی نشوونما کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ابتدائی لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں اس کے عرق نے بالوں کی نشوونما سے متعلق امکانات دکھائے ہیں، لیکن انسانوں میں اس پر مضبوط اور وسیع تحقیق ابھی محدود ہے۔
ریٹھا میں قدرتی سیپوننز (Saponins) ہوتے ہیں، یعنی جھاگ اور صفائی پیدا کرنے والے نباتاتی اجزا۔
سکاکائی روایتی طور پر بالوں اور سر کی جلد کو صاف کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
میتھی اس آمیزے کو گاڑھا پن اور نرمی دینے میں مدد کر سکتی ہے۔
لیکن ذرا اپنے سر کی جلد کے اندر کا منظر تصور کریں۔
ہر بال ایک باریک سے فولیکل (Follicle)، یعنی جلد کے اندر موجود بال کی جڑ، سے نکل رہا ہے۔
اس جڑ کے اردگرد جلد کی قدرتی حفاظتی تہہ موجود ہے۔
جب بالوں کو بار بار سخت کیمیکل، بہت زیادہ حرارت، کھنچاؤ یا رگڑ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو بال کمزور ہو کر ٹوٹ سکتے ہیں۔
ایک مناسب تیل بالوں کی سطح کو چکنا کر کے رگڑ اور خشکی کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ ہلکا مساج سر کی جلد کی دیکھ بھال کو زیادہ آرام دہ بنا سکتا ہے۔
لیکن یہاں ایک فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
بالوں کا ٹوٹنا اور بالوں کا جڑ سے گرنا ایک ہی مسئلہ نہیں۔
تیل خشک اور کمزور بالوں کو نرم رکھنے، ٹوٹ پھوٹ کم کرنے اور چمک بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
مگر اگر بال ہارمونز، خون کی کمی، تھائیرائیڈ، کسی بیماری یا موروثی وجہ سے گر رہے ہوں تو صرف تیل اصل مسئلے کا مکمل علاج نہیں ہوگا۔
اسی لیے یہ کہنا درست نہیں کہ کوئی بھی ہربل تیل چند ہفتوں میں ہر شخص کے بالوں کا گرنا لازماً بند کر دے گا۔ بالوں کے لیے کوئی ایک علاج سو فیصد مؤثر نہیں ہوتا، اور درست تشخیص کے بغیر علاج اکثر ناکام رہتا ہے۔
اس کے باوجود، ایک اچھی اور مستقل Hair-Care Routine بالوں کی ظاہری صحت میں واضح فرق پیدا کر سکتی ہے۔
ہربل ہیئر آئل بنانے کے لیے
ناریل یا سرسوں کا تیل: ایک کپ
آملہ پاؤڈر: ایک چمچ
سکاکائی پاؤڈر: ایک چمچ
ریٹھا پاؤڈر: ایک چمچ
بھنگراج پاؤڈر: ایک چمچ
میتھی دانہ: ایک چمچ
تیل کو بہت ہلکی آنچ پر نیم گرم کریں۔
تمام اجزا شامل کر کے تقریباً 10 سے 15 منٹ انتہائی دھیمی آنچ پر رکھیں۔ تیل کو دھواں دینے یا جلنے نہ دیں۔
چولہا بند کر کے اسے مکمل ٹھنڈا ہونے دیں۔
پھر باریک ململ کے کپڑے سے اچھی طرح چھان کر صاف اور خشک شیشے کی بوتل میں محفوظ کر لیں۔
استعمال سے پہلے بازو یا کان کے پیچھے تھوڑی مقدار لگا کر Patch Test کریں، یعنی دیکھیں کہ جلد پر خارش، جلن یا سرخی تو پیدا نہیں ہوتی۔
ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ تھوڑی مقدار سر کی جلد اور بالوں پر لگائیں۔
انگلیوں کے پوروں سے نرمی کے ساتھ چند منٹ مساج کریں۔ ناخن استعمال نہ کریں اور بہت زور سے رگڑنے سے بچیں۔
ابتدا میں اسے 30 سے 60 منٹ لگا رہنے دیں، پھر مائلڈ شیمپو سے دھو لیں۔ پوری رات تیل لگانا ہر شخص کے لیے ضروری یا موزوں نہیں، خاص طور پر اگر سر کی جلد چکنی، حساس یا خشکی کا شکار ہو۔
گرم تیل براہِ راست استعمال نہ کریں، کیونکہ زیادہ گرم تیل پہلے سے کمزور بالوں اور حساس جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
لیکن ایک عملی مسئلہ اب بھی باقی رہتا ہے۔
زیادہ تر لوگ نسخہ محفوظ کر لیتے ہیں، اجزا خریدنے کا سوچتے ہیں، مگر پھر آملہ، ریٹھا، سکاکائی اور بھنگراج الگ الگ تلاش کرنے، صحیح مقدار ملانے، تیل پکانے اور چھاننے کا وقت نہیں نکال پاتے۔
اور چند ہفتوں بعد وہی بوتل یا نسخہ کسی کونے میں بھول جاتا ہے۔
اسی لیے اگر آپ کے لیے یہ آمیزہ گھر میں بنانا مشکل ہے تو کسی ایسے معیاری ہربل ہیئر آئل کا انتخاب زیادہ عملی ہو سکتا ہے جس میں اجزا اور ان کی مقدار واضح لکھی ہو، غیر ضروری خوشبو اور سخت کیمیکل کم ہوں، پیکنگ محفوظ ہو اور بنانے والی کمپنی قابلِ اعتماد ہو۔
کیونکہ بالوں کی دیکھ بھال میں صرف اچھے اجزا کافی نہیں ہوتے۔
مستقل استعمال بھی ضروری ہوتا ہے۔
ایک مناسب ہربل آئل بالوں کو راتوں رات گھنا کرنے کا جادو نہیں، لیکن خشک، بے رونق اور ٹوٹتے بالوں کی نگہداشت کے لیے ایک مفید قدم بن سکتا ہے۔
اور کبھی کبھی یہی چھوٹا سا قدم انسان کو بے ترتیب تجربات چھوڑ کر ایک باقاعدہ Hair-Care Routine شروع کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
اگر بال اچانک بہت زیادہ گر رہے ہوں، گول خالی دھبے بن رہے ہوں، سر میں شدید خارش یا زخم ہوں، یا مانگ مسلسل چوڑی ہو رہی ہو تو صرف تیل بدلنے کے بجائے ڈرماٹولوجسٹ سے معائنہ کروائیں۔
سوال یہ نہیں کہ کوئی ہربل تیل جادو کر سکتا ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے بالوں کو صرف اس وقت یاد کرتے ہیں جب وہ گرنے لگتے ہیں، یا آج سے ان کی باقاعدہ اور سمجھ دار نگہداشت شروع کریں گے؟
03/08/2026
ایک کلینیکل نیوٹریشنسٹ سے ایک شخص نے پوچھا...
"لوگ روزانہ چقندر کا جوس کیوں پیتے ہیں؟ کیا واقعی اس میں کوئی خاص بات ہے، یا یہ صرف سوشل میڈیا کا ایک نیا فیشن ہے؟"
کلینیکل نیوٹریشنسٹ مسکرایا اور بولا،
"اگر چقندر صرف اپنے خوب صورت رنگ کی وجہ سے مشہور ہوتا، تو کھلاڑی اسے ورزش سے پہلے استعمال نہ کرتے۔"
وہ شخص ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گیا۔
کیونکہ بچپن سے اس نے چقندر کے بارے میں صرف ایک ہی بات سنی تھی:
چقندر خون بڑھاتا ہے۔
لیکن چقندر کی اصل کہانی صرف آئرن تک محدود نہیں۔
چقندر میں آئرن (Iron)، یعنی خون بنانے کے عمل میں استعمال ہونے والا ایک اہم معدنی جز، موجود ضرور ہوتا ہے۔ مگر اس کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ صرف چقندر کھانے سے خون کی کمی کا مکمل علاج ہو جائے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چقندر کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے؟
اس کی ایک بڑی وجہ اس میں موجود نائٹریٹس (Nitrates) ہیں۔
یہ قدرتی مرکبات جسم میں داخل ہو کر نائٹرک آکسائیڈ (Nitric Oxide) بنانے میں مدد دیتے ہیں، یعنی ایسا مادہ جو خون کی نالیوں کو قدرے کشادہ کرنے اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
اب ذرا اپنے جسم کے اندر کا منظر تصور کریں۔
دل ہر دھڑکن کے ساتھ خون کو آگے دھکیل رہا ہے۔
باریک خون کی نالیاں آکسیجن اور غذائیت کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچا رہی ہیں۔
اسی دوران نائٹرک آکسائیڈ خون کی نالیوں کو آرام کا پیغام دیتا ہے، تاکہ خون نسبتاً آسانی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔
یہی وجہ ہے کہ چقندر اور اس کے جوس پر ورزش، جسمانی برداشت اور بلڈ پریشر کے حوالے سے بھی تحقیق کی گئی ہے۔
بعض افراد اسے ورزش سے پہلے اپنی خوراک میں شامل کرتے ہیں، تاکہ جسمانی سرگرمی کے دوران پٹھوں تک آکسیجن کی ترسیل میں مدد مل سکے۔
لیکن یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔
چقندر کوئی جادوئی دوا نہیں۔
یہ نہ تو اکیلے خون کی کمی کا علاج ہے اور نہ ہی ہر قسم کی تھکن کا فوری حل۔
تھکن کی وجہ نیند کی کمی، آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی، تھائیرائیڈ، کم خوراک یا کسی دوسری طبی حالت سے بھی متعلق ہو سکتی ہے۔
البتہ متوازن غذا کے ساتھ چقندر ایک مفید اور غذائیت سے بھرپور اضافہ ضرور بن سکتا ہے۔
اس میں فولیٹ (Folate) بھی پایا جاتا ہے، یعنی ایک ایسا وٹامن جو نئے خلیات اور خون کے سرخ خلیات بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس کے ساتھ اس میں فائبر اور قدرتی رنگ دینے والے بیٹالینز (Betalains) بھی موجود ہوتے ہیں، یعنی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات رکھنے والے قدرتی مرکبات۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ چقندر خرید تو لیتے ہیں، مگر اسے باقاعدگی سے استعمال نہیں کر پاتے۔
کبھی اسے کاٹنے کا وقت نہیں ملتا۔
کبھی جوس بنانے کی مشقت آڑے آ جاتی ہے۔
اور کبھی چند دن بعد چقندر فریج کے کسی کونے میں پڑا رہ جاتا ہے۔
اسی لیے کچھ لوگ تازہ چقندر کے ساتھ ساتھ کسی قابلِ اعتماد اور معیاری Beetroot Powder کو بھی ترجیح دیتے ہیں، جسے پانی، اسموتھی یا روزمرہ مشروب میں آسانی سے شامل کیا جا سکے۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ روزمرہ کی خوراک میں ایک ایسی قدرتی چیز شامل ہو جو خون کی روانی، ورزش کی برداشت اور مجموعی غذائیت کو سہارا دے سکتی ہے، تو چقندر کو صرف ایک عام سبزی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
آپ اسے سلاد، جوس یا کسی معیاری چقندر پاؤڈر کی صورت میں اپنی روٹین کا حصہ بنا سکتے ہیں۔
ضروری نہیں کہ جسم میں ہر مثبت تبدیلی کسی مہنگی دوا یا پیچیدہ روٹین سے شروع ہو۔
کبھی کبھی فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہم کسی فائدہ مند چیز کے بارے میں جانتے تو پہلے سے ہیں، مگر اسے مستقل استعمال کرنا آج سے شروع کرتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ چقندر فائدہ مند ہے یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا آپ اسے صرف اگلی مفید پوسٹ سمجھ کر بھول جائیں گے، یا آج ہی اپنی روزمرہ روٹین کا حصہ بنانے کا فیصلہ کریں گے؟
03/08/2026
ایک کلینیکل نیوٹریشنسٹ سے ایک شخص نے پوچھا...
"میں روزانہ دھوپ میں نکلتا ہوں، پھر بھی میری Vitamin D کی رپورٹ ہر بار کم کیوں آتی ہے؟"
کلینیکل نیوٹریشنسٹ مسکرایا اور بولا،
"صرف سورج کو دیکھ لینا کافی نہیں، کبھی کبھی سورج کی روشنی جسم تک پہنچتی ہے، لیکن اس کا فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔"
یہ جواب سن کر وہ حیران رہ گیا۔
کیونکہ وہ برسوں سے یہی سمجھتا تھا کہ باہر نکلنا ہی Vitamin D حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا جسم صرف دھوپ میں کھڑے ہونے سے Vitamin D نہیں بناتا۔
جب سورج کی الٹرا وائلٹ بی (UVB) شعاعیں، یعنی وہ مخصوص شعاعیں جو جلد میں Vitamin D بنانے کا عمل شروع کرتی ہیں، براہِ راست جلد پر پڑتی ہیں تو جلد کے خلیے خاموشی سے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔
اس کے بعد جگر اور گردے اس مادے کو ایسی شکل میں تبدیل کرتے ہیں جسے جسم استعمال کر سکتا ہے۔
لیکن اگر دھوپ شیشے کے پیچھے ہو، زیادہ تر جسم کپڑوں سے ڈھکا ہو، یا دھوپ مناسب وقت پر نہ ملے، تو یہ قدرتی عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
اسی لیے بعض لوگ روزانہ باہر نکلتے ہیں، لیکن پھر بھی ان کے جسم میں Vitamin D کی کمی برقرار رہتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ Vitamin D کو صرف ہڈیوں سے جوڑتے ہیں۔
حالانکہ اس کا سب سے اہم کردار کیلشیم (Calcium)، یعنی ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے ضروری معدنی جز، کو جسم میں جذب ہونے میں مدد دینا ہے۔
جب Vitamin D کم ہو جائے تو بعض افراد میں ہڈیاں کمزور پڑ سکتی ہیں، پٹھوں میں درد یا کمزوری محسوس ہو سکتی ہے، اور جسم پہلے جیسی طاقت کا احساس نہیں دیتا۔
اس لیے صرف کیلشیم والی غذا کافی نہیں، جسم میں Vitamin D کی مناسب مقدار بھی ضروری ہے تاکہ کیلشیم اپنا کام صحیح طریقے سے انجام دے سکے۔
انسانی جسم اکثر اپنی ضرورتوں کا شور نہیں مچاتا۔
وہ خاموش اشارے دیتا ہے، اور سمجھدار وہی ہے جو ان اشاروں کو وقت پر پہچان لے۔
02/08/2026
ایک کلینیکل نیوٹریشنسٹ سے ایک خاتون نے پوچھا...
"میرے دو سیزیرین ہو چکے ہیں۔ اب میرا وزن خاص طور پر پیٹ اور کولہوں کے گرد تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کیا اس کی وجہ صرف آپریشن ہے؟"
کلینیکل نیوٹریشنسٹ مسکرایا اور بولا...
"اگر صرف سیزیرین سے وزن بڑھتا، تو ہر سیزیرین کروانے والی خاتون کا وزن ایک جیسا بڑھتا۔"
یہ جواب سن کر وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی۔
کیونکہ وہ کئی سال سے یہی سمجھ رہی تھی کہ اس کے جسم میں آنے والی ہر تبدیلی کی وجہ صرف آپریشن ہے۔
لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ دلچسپ ہے۔
اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد عورت کے جسم میں ہارمونز (Hormones)، نیند، ذہنی دباؤ، جسمانی سرگرمی اور خوراک کی عادات سب تبدیل ہو جاتی ہیں۔
اگر اس دوران جسم کو ضرورت سے زیادہ کیلوریز ملتی رہیں اور حرکت کم ہو جائے، تو اضافی چربی اکثر پیٹ، کولہوں اور رانوں کے گرد جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
یہ صرف ظاہری تبدیلی نہیں ہوتی۔
اگر وزن مسلسل بڑھتا رہے تو وقت کے ساتھ انسولین ریزسٹنس (Insulin Resistance)، فیٹی لیور (Fatty Liver)، ہائی بلڈ پریشر، جوڑوں پر زیادہ دباؤ اور دیگر میٹابولک مسائل کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
لیکن اچھی خبر یہ ہے...
جس طرح وزن ایک دن میں نہیں بڑھتا، اسی طرح اسے ایک دن میں کم بھی نہیں کیا جا سکتا۔
اصل تبدیلی روزانہ کی چھوٹی چھوٹی عادتوں سے آتی ہے۔
🚶 روزانہ کم از کم 30 منٹ پیدل چلیں یا ہلکی ورزش کریں۔
🥚 ناشتے میں پروٹین ضرور شامل کریں، جیسے دو ابلے ہوئے انڈے، دہی یا جو کا دلیہ، جس میں چیا سیڈز، السی، کدو کے بیج یا تل مناسب مقدار میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
🥗 ہر کھانے کے ساتھ سلاد، سبزیاں اور فائبر سے بھرپور غذائیں رکھیں۔
🍗 دوپہر یا رات کے کھانے میں مناسب مقدار میں پروٹین، جیسے چکن، مچھلی، دالیں یا دیگر متبادل شامل کریں۔
💧 دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
🍟 فاسٹ فوڈ، کولڈ ڈرنکس، میٹھی اشیاء اور بار بار تلی ہوئی چیزوں کو روزمرہ عادت نہ بنائیں۔
لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں...
صرف کولہوں یا صرف پیٹ کی چربی کم کرنے والی کوئی مخصوص ڈائٹ یا ورزش موجود نہیں۔
جب جسم کی مجموعی چربی کم ہوتی ہے تو جسم اپنی جینیاتی ساخت کے مطابق مختلف حصوں سے چربی کم کرتا ہے۔
اسی لیے صبر، مستقل مزاجی اور متوازن غذا ہی سب سے مؤثر حکمت عملی ہے۔
اگر وزن تیزی سے بڑھ رہا ہو، ماہواری بے قاعدہ ہو، شدید تھکن رہتی ہو یا پوری کوشش کے باوجود وزن کم نہ ہو رہا ہو، تو PCOS (Polycystic O***y Syndrome)، ہائپوتھائیرائڈزم (Hypothyroidism) یا دیگر ہارمونل وجوہات کی جانچ بھی ضروری ہو سکتی ہے۔
ماں بننے کے بعد جسم ضرور بدلتا ہے، لیکن صحیح خوراک، مناسب ورزش اور مستقل مزاجی کے ساتھ وہ دوبارہ مضبوط بھی بن سکتا ہے۔ مقصد صرف وزن کم کرنا نہیں، بلکہ اپنی صحت واپس حاصل کرنا ہے۔
آپ کے خیال میں بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہوتا ہے؟ وقت کی کمی، تھکن یا اپنے لیے وقت نہ نکال پانا؟
01/08/2026
ایک گٹ ہیلتھ ایکسپرٹ سے کسی نے پوچھا...
"اسپغول آخر ایسا کیا کرتا ہے کہ کھانے کے بعد دیر تک بھوک محسوس نہیں ہوتی؟"
وہ مسکرایا اور بولا...
"اسپغول خود یہ کام نہیں کرتا... اصل کام آپ کی آنتوں میں رہنے والے اربوں جراثیم کرتے ہیں۔"
یہ جواب سن کر بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔
کیونکہ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اسپغول صرف قبض دور کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
لیکن جدید سائنس نے اس کی ایک اور دلچسپ کہانی بھی بیان کی ہے۔
اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
جب اسپغول (Psyllium Husk) آنتوں میں پہنچتا ہے تو اس میں موجود حل پذیر فائبر (Soluble Fiber) پانی جذب کر کے ایک نرم جیل بناتا ہے۔
یہ جیل نہ صرف ہاضمے کی رفتار کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا کے لیے بھی غذا کا کام کر سکتا ہے۔
یہی مفید بیکٹیریا اس فائبر کو توڑ کر شارٹ چین فیٹی ایسڈز (Short-Chain Fatty Acids) بناتے ہیں۔
ان میں سے ایک اہم مرکب بائوٹائریٹ (Butyrate) ہے، جو آنتوں کے خلیوں کے لیے توانائی کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے اور آنتوں کی صحت برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
جدید تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ مرکبات گٹ برین ایکسس (Gut-Brain Axis) یعنی آنتوں اور دماغ کے درمیان موجود حیاتیاتی رابطے کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے بھوک اور پیٹ بھرنے سے متعلق ہارمونز پر اثر پڑ سکتا ہے۔
البتہ ایک اہم بات جاننا ضروری ہے۔
یہ کہنا درست نہیں کہ اسپغول براہِ راست دماغ کو لیپٹن (Leptin) کا سگنل بھیجتا ہے یا ہر شخص میں اگلے کھانے کے بعد انسولین کی بڑھوتری 40 فیصد کم کر دیتا ہے۔
مختلف مطالعات میں فائبر کے اثرات مختلف رہے ہیں، اور ان کا انحصار استعمال ہونے والی مقدار، فرد کی صحت، خوراک اور تحقیق کے طریقۂ کار پر ہوتا ہے۔
لیکن ایک بات پر کافی شواہد موجود ہیں۔
متوازن غذا کے حصے کے طور پر اسپغول جیسے حل پذیر فائبر خون میں شوگر کے اچانک اضافے کو کم کرنے، زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کے احساس اور آنتوں کی مجموعی صحت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
انسانی جسم کی سب سے دلچسپ بات شاید یہی ہے کہ بعض اوقات ہماری صحت کا فیصلہ صرف ہم نہیں، بلکہ ہمارے جسم کے اندر رہنے والے اربوں ننھے جراثیم بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
آپ نے کبھی اسپغول صرف قبض کے لیے استعمال کیا ہے، یا آپ اس کے آنتوں کی صحت سے متعلق فوائد کے بارے میں بھی جانتے تھے؟
Health Care
01/08/2026
ایک ماہرِ غذائیت سے کسی نے پوچھا...
"اچھی خوراک کا مطلب کیا ہے؟ پیٹ بھر کر کھانا یا جسم کی ضرورت پوری کرنا؟"
وہ مسکرایا اور بولا...
"بھرا ہوا پیٹ ہمیشہ صحت مند جسم کی علامت نہیں ہوتا۔"
یہ جواب سن کر بہت سے لوگ سوچ میں پڑ گئے۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں اکثر اچھی خوراک کا مطلب زیادہ کھانا سمجھا جاتا ہے۔
ناشتے میں بڑے بڑے پراٹھے، میٹھی چائے اور تلی ہوئی چیزیں۔
اور اگر پلیٹ بھر جائے تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ جسم کو بہترین غذا مل گئی۔
لیکن اصل حقیقت کچھ اور ہے۔
اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
اچھی خوراک (Healthy Diet) کا مطلب زیادہ کھانا نہیں، بلکہ ایسی غذا کھانا ہے جو جسم کو ضروری غذائی اجزاء فراہم کرے۔
مثلاً صبح کے ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے، دہی، تازہ پھل یا دیگر متوازن غذائیں جسم کو پروٹین (Protein)، وٹامنز اور منرلز فراہم کرتی ہیں، جو دن بھر توانائی اور صحت برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
دوسری طرف چینی، زیادہ چکنائی، جنک فوڈ، سافٹ ڈرنکس اور حد سے زیادہ پراسیسڈ غذائیں اگر روزمرہ معمول بن جائیں تو وقت کے ساتھ وزن بڑھنے، انسولین ریزسٹنس، دل کی بیماریوں اور دیگر صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
لیکن ایک سوال اکثر سامنے آتا ہے۔
"صحت مند خوراک تو بہت مہنگی ہوتی ہے!"
حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی مالی استطاعت مختلف ہوتی ہے، اور ہر کوئی ایک جیسی غذا نہیں خرید سکتا۔
مگر اکثر ہم روزانہ کولڈ ڈرنکس، چپس، مٹھائیاں اور غیر ضروری اسنیکس پر بھی اچھی خاصی رقم خرچ کر دیتے ہیں۔
اگر اسی بجٹ کا کچھ حصہ انڈوں، دہی، دالوں، موسمی پھلوں یا سبزیوں پر خرچ کیا جائے تو نسبتاً بہتر غذائی انتخاب ممکن ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیں، صحت مند غذا کا مطلب مہنگی غذا نہیں، بلکہ سمجھداری سے کیا گیا انتخاب ہے۔
اور اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہیں، ذیابیطس، PCOS (Polycystic O***y Syndrome) یا کسی اور بیماری کا سامنا کر رہے ہیں، تو اپنی ضرورت کے مطابق ماہرِ غذائیت سے مشورہ کرنا بہترین قدم ہے۔
آخر میں ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں...
ہم پیسے کمانے کے لیے اپنی صحت استعمال کرتے ہیں، لیکن بعد میں اکثر صحت واپس لانے کے لیے وہی پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ اس لیے اپنی غذا کو خرچہ نہیں، سرمایہ کاری سمجھیں۔
آپ کے خیال میں ہمارے معاشرے میں سب سے نقصان دہ روزانہ کھانے کی عادت کون سی ہے؟
30/07/2026
ایک غذائی ماہر سے کسی نے پوچھا...
"اگر گرمیوں میں انڈہ کھانا واقعی نقصان دہ ہے، تو دنیا کے گرم ترین ممالک میں لوگ اسے روزانہ کیوں کھاتے ہیں؟"
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
کیونکہ ہم میں سے اکثر نے بچپن سے ایک ہی بات سنی ہے۔
"گرمیوں میں انڈہ مت کھاؤ، جسم میں گرمی ہو جائے گی۔"
لیکن کیا یہ واقعی سچ ہے؟
یا یہ بھی اُن باتوں میں سے ایک ہے جو نسل در نسل بغیر ثبوت کے چلتی آ رہی ہیں؟
اصل حیرت ابھی باقی ہے۔
انڈہ دنیا کی سب سے زیادہ غذائیت سے بھرپور غذاؤں میں شمار ہوتا ہے۔
اس میں اعلیٰ معیار کا پروٹین (High-Quality Protein) یعنی ایسا پروٹین موجود ہوتا ہے جس میں جسم کی ضرورت کے تمام ضروری امائنو ایسڈز شامل ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ وٹامن ڈی (Vitamin D)، وٹامن بی 12 (Vitamin B12)، کولین (Choline) یعنی دماغ اور اعصابی نظام کے لیے اہم غذائی جز، اور کئی دوسرے ضروری وٹامنز اور منرلز بھی پائے جاتے ہیں۔
پھر لوگوں کو انڈہ کھانے کے بعد گرمی کیوں محسوس ہوتی ہے؟
اس کی وجہ ایک قدرتی عمل ہے جسے تھرمک ایفیکٹ آف فوڈ (Thermic Effect of Food) کہتے ہیں، یعنی خوراک کو ہضم کرنے کے دوران جسم کا معمول سے کچھ زیادہ توانائی استعمال کرنا۔
چونکہ پروٹین کو ہضم کرنے میں جسم نسبتاً زیادہ محنت کرتا ہے، اس لیے بعض افراد کو عارضی طور پر ہلکی گرمی محسوس ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ بیماری نہیں۔
اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈہ جسم کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
اصل مسئلہ اکثر کچھ اور ہوتا ہے۔
گرمیوں میں اگر پانی کم پیا جائے، مسلسل دھوپ میں رہا جائے یا جسم میں پانی کی کمی ہو جائے، تو ہیٹ اسٹریس اور گرمی سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان حالات کا ذمہ دار انڈہ نہیں، بلکہ ڈی ہائیڈریشن (Dehydration) یعنی جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے۔
اسی لیے ماہرین متوازن غذا کے ساتھ مناسب مقدار میں پانی پینے کی بھی تاکید کرتے ہیں۔
قدرتی غذاؤں سے ڈرنے کے بجائے، ہمیں اُن کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔ کیونکہ اکثر اوقات حقیقت افواہوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
آپ نے بھی بچپن میں یہ بات ضرور سنی ہوگی کہ "گرمیوں میں انڈہ جسم میں گرمی کرتا ہے۔" کیا آپ آج تک اس پر یقین کرتے تھے؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Model Town
Al Madenah Al Reyadhya
