zeba writes

zeba writes

Share

Digital Creator

31/07/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"

ذرا اس سخت وعید پر غور کیجیے…

چغلی ایک ایسی چنگاری ہے جو ایسی آگ بھڑکا دیتی ہے، جسے بجھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

کتنے ہی گھر اس نے اجاڑ دیے…

کتنے ہی رشتہ داروں کے تعلقات منقطع کر دیے…

کتنے ہی دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دی…

اور کتنے ہی دلوں کو شک، بدگمانی اور عداوت سے بھر دیا۔

اسی لیے بعض سلف فرمایا کرتے تھے:

"چغل خور ایک گھڑی میں وہ فساد برپا کر دیتا ہے، جو جادوگر ایک سال میں بھی نہیں کر پاتا۔"

پھر اس کے خطرے کی سنگینی پر بھی غور کریں…

نبی کریم ﷺ دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:

"یہ دونوں عذاب دیے جا رہے ہیں…"

اور ان میں سے ایک وہ شخص تھا جو لوگوں کے درمیان چغلی کیا کرتا تھا۔

لہٰذا خبردار! کبھی اختلافات بھڑکانے کا ذریعہ نہ بنیں۔

لوگوں کی باتیں اِدھر سے اُدھر پہنچانے کے بجائے، ان کے درمیان صلح اور محبت پیدا کرنے والے بنیں۔

کیونکہ ایک منتقل کی ہوئی بات برسوں کی محبت کو برباد کر سکتی ہے، جبکہ ایک اچھی بات بچھڑے ہوئے دلوں کو دوبارہ جوڑ سکتی ہے۔.

31/07/2026

وہ امتحانات میں نقل کیا کرتی تھی... مگر پھر بھی کامیاب ہوگئی۔ 🎓

وہ لوگوں کا استحصال کرتا تھا... مگر پھر بھی امیر بن گیا۔ 💱

وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا... مگر بظاہر اسے کچھ نہ ہوا۔

وہ بے پردہ تھی، حجاب چھوڑ دیا تھا... پھر بھی اسے کوئی ظاہری نقصان نہ پہنچا اور اس کی شادی بھی ہوگئی۔

ایسی بے شمار مثالیں ہمارے سامنے آتی ہیں...

اور بعض دین پر قائم رہنے والے لوگ یہ دیکھ کر متاثر ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں:

"اتنی نافرمانیوں کے باوجود بھی یہ لوگ تو کامیاب ہیں!"

لیکن یاد رکھو:

اللہ تعالیٰ بعض اوقات گناہ گاروں کو مہلت دیتا ہے، ان پر دنیا کی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ اس کی رضا کی علامت ہو، بلکہ کبھی یہ استدراج ہوتا ہے، یعنی انہیں ڈھیل دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی غفلت میں اور آگے بڑھ جائیں، یہاں تک کہ موت اچانک آ پہنچے اور انجام برا ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> "پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اپنی دی ہوئی نعمتوں پر خوب خوش ہو گئے تو ہم نے اچانک انہیں پکڑ لیا، پھر وہ ہر خیر سے مایوس رہ گئے۔"
(سورۃ الأنعام: 44)

"مُبْلِسُون" کا مطلب ہے: شدید حسرت، ندامت اور مایوسی میں مبتلا ہو جانے والے۔

اے اللہ! ہم تجھ سے حسنِ خاتمہ کا سوال کرتے ہیں۔ آمین۔ 🤲

31/07/2026
19/07/2026

*"آسان عمل، عظیم اجر"*

*وضو کے بعد یہ کلمات پڑھنے کی فضیلت۔*

*کتنی بڑی خوش نصیبی ہے کہ صرف چند لمحوں میں ادا کیا جانے والا ایک آسان عمل انسان کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھولنے کا سبب بن سکتا ہے۔ وضو کے بعد مسنون دعا پڑھنے کی عادت بنائیے اور اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کیجیے۔*
*حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنه سے روایت ہے کہ رسول اللهﷺ نے فرمایا:*

*"تم میں سے جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر یہ کہے: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں، وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو سکتا ہے۔*

(صحیح مسلم (234)

19/07/2026

===🪷===

*تسبیح*

عصر کے وقت یونیورسٹی پہنچا اور ابھی گیٹ سے داخل ہی ہوا تھا کہ ایک نوجوان درخت کے نیچے ہاتھ میں تسبیح لیے کچھ پڑھ رہا تھا۔

میں قریب گیا اور پوچھا: بھائی جان ! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کون سا ذکر کر رہے ہیں؟

نوجوان شرافت سے بھر پور چہرے کے ساتھ بولا: امیر صاحب!

مجھے کچھ زیادہ اذکار یاد نہیں ہیں، میں بس زمین و آسمان، درخت اور جانور، نباتات اور حشرات ، رات اور دن، سورج اور چاند، آسمان اور زمین کو دیکھ کر "سبحان اللہ " کہتا رہتا ہوں۔ اب میری زبان "سبحان اللہ ، سبحان اللہ" کہنے کی عادی ہوگئی ہے۔

میں اسے حوصلہ افزائی کے چند بول بول کر والسلام کہتے ہوئے سیدھا مسجد پہنچا کہ عصر کی نماز پڑھوں۔ وضو کیا اور نماز کےلیے کھڑا ہوگیا، جونہی تکبیر کہی اور پہلا جملہ بولا:

سبحانك اللھم و بحمدك تو ایسے محسوس ہوا جیسے سارا وجود تسبیح میں ڈوب گیا ہو۔ اسی دوران قرآن کریم کی یہ آیت قلب و ذہن کے پردے پر ظاہر ہونے لگی :

سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُ
اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو جس وقت کھڑے ہو۔ (سورت طور: 48)

پھر رکوع کیا تو حیران رہ گیا کہ وہاں بھی سبحان ربی العظیم سکھایا گیا ہے، پھر کھڑا ہوا اور نماز کے سب سے اہم رکن سجدے میں پیشانی رکھ دی۔

اب یہ وہ حالت تھی جس کے بارے میں حدیث میں ہے کہ انسان اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ میں نے سوچا کہ اتنی قُربت والی حالت میں تو کوئی ایسا جملہ سکھایا جائے گا جو ساری دنیا سے مجھے کافی ہو جائے گا، اسی سوچ و بچار میں پیشانی زمین پر رکھ رہا تھا کہ زبان سے بے اختیار نکلا:

سبحان ربی الاعلی۔

میں نماز پڑھ کر کلاس میں تو آ گیا لیکن ذہن "تسبیح" کے نور میں پھنسا رہ گیا۔ اس نور کے ہالے میں رہ کر قرآن و حدیث کے تسبیح والے باغ میں سیر کرتا رہا۔ ایک ایک آیت ذہن میں گھومتی چلی گئی اور سبحان اللہ کے ساتھ جوڑتی گئی۔

اب دیکھیے کہ ہمیں کہاں کہاں سبحان اللہ کہنا ہوتا ہے:

اگر لوگوں کی باتوں ، طعنوں اور جملوں سے دل تنگ ہو چکا ہے تو تسبیح کیجیے:

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ یَضِیْقُ صَدْرُكَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ(97)فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ(98)
اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔ تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جاؤ۔ (سورت حجر)

اگر کسی مصیبت میں پھنسے ہیں اور نکلنے کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی تو تسبیح کیجیے:

فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَ(143)لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ(144)
تو اگر حضرت یونس (مچھلی کے پیٹ میں) تسبیح کرنے والے نہ ہوتے تو ضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (سورت صافات)

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ بڑے گناہ گار ہیں ، اپنی جان پر بہت ظلم کر رہے ہیں تو تسبیح کیجیے:

لَا اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(87)
(اے سبحان اللہ !) تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو ہر عیب سے پاک ہے ، بیشک میں قصور وار ہوں۔ (سورت انبیاء)

اگر آپ کسی سفر میں کسی دوست کے ساتھ جا رہے ہیں تو تسبیح کیجیے:

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًا(33)
(موسی علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ ! ہارون کو میرے ساتھ کر دیجیے) تاکہ ہم دونوں تیری خوب تسبیح کریں۔ (سورت طہ)

اگر آپ کو لگتا ہے کہ زندگی میں کامیابیاں ہی کامیابیاں مل رہی ہیں اور فتوحات کا زمانہ شروع ہو گیا ہے تو تسبیح کیجے:

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ(1)وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا(2)فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ
جب اللہ کی مدد او ر فتح آئےاور لوگوں کو تم دیکھو کہ اللہ کے دین میں فوج فوج داخل ہو رہے ہیں تو اپنے رب کی تسبیح کرو۔

قرآن کریم کا مطالبہ ہے کہ:

وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ
اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام و صبح اس کی تسبیح کرو۔

وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا
سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو۔

وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ
رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں میں بھی تاکہ تم خوش ہو جاؤ۔

وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُودِ
رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کرو اور سجدوں کے بعد بھی۔

فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ
جب ستارے ڈوبیں تو بھی اس کی تسبیح کرو۔

وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا
رات کے لمبے وقت میں اس کی تسبیح کرو۔

یہ تسبیح ہی تو ہے جو فرشتوں کا مستقل معمول ہے، پرندوں کا صبح وشام کا ذکر ہے، انبیاء کرام علیھم السلام کےلیے حوصلہ اور تسلی ہے، اہل جنت کا مزاج ہے، انہیں جنت میں ایک تسبیح سکھائی جائے گی اور وہ اس کا ورد کرتے رہیں گے۔

زمین و آسمان اور ان کے درمیان موجود ہر چیز کی زبان تسبیح ہے۔ تسبیح سے دل مضبوط ہوتا ہے، غم مٹتے ہیں، ربِ محبت کی محبت پیدا ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر کہ اللہ خوش ہوتے ہیں، اسے اپنی تسبیح بہت پسند ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی مجلس سے اٹھتے تو سبحانک اللھم۔۔۔ کہتے، نیند سے بیدار ہوتے تو سبحان اللہ ۔۔۔۔ کہتے ، ایک مرتبہ صحابہ سے پوچھا کہ کیا آپ دن میں ایک ہزار نیکیاں نہیں کما سکتے؟ صحابہ نے کہا: وہ کیسے؟ فرمایا: سو مرتبہ سبحان اللہ کہو تو ہزار نیکیاں مل جائیں گی۔

ان سب آیات و احادیث سے معلوم ہوا کہ ایک مومن شخص کی پوری زندگی تسبیح کے گرد گھومتی ہے۔ وہ فضا میں اڑتے پرندے کو دیکھے تو سبحان اللہ، پانی کی لہروں کو ٹکراتے دیکھے تو سبحان اللہ ، خاموش جھیل کا نظارہ کرے تو سبحان اللہ، آبشاروں کا ترانہ سنے تو سبحان اللہ ، چمکتے تاروں اور مٹھاس بکھیرتے چاند کو دیکھے تو سبحان اللہ ، کوئل کی کوک سنے تو سبحان اللہ۔

وہ اٹھتا ہے تو تسبیح،
سوتا ہے تو تسبیح،
پریشان ہوتا ہے تو تسبیح،
خوش ہوتا ہے تو تسبیح۔

اس کی زبان تسبیح کی مٹھاس چکھ لیتی ہے،
دل تسبیح کا نور پا لیتا ہے،
روح تسبیح سے مضبوط ہو جاتی ہے ،
دماغ تسبیح سے کھل جاتا ہے
اور پوری زندگی "سبحان اللہ سبحان اللہ" کہتے گزار دیتا ہے۔

اے سبحان اللہ! ہمیں تسبیح کی حقیقت سمجھا دے اور دلوں کو تسبیح سے معمور و مخمور کر دے۔


_________

19/07/2026

*اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَائَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيْعِ سَخَطِكَ*

*اے الله! بے شک میں تیری عطا کردہ نعمتوں کے زوال سے ، تیری عطا کردہ عافیت کے بدل جانے سے، تیری سزا کے اچانک وارِد ہو جانے سے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔*

*( صحیح مسلم، کتاب الرقاق، باب اکثر اھل الجنة الفقراء واکثر اھل النار النساء وبیان الفتنة ۔۔۔: 6943 )*

19/07/2026

*اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْکَ یَاسَیِّدِی یَارَسُوْلَ اللّٰهﷺ♥️*
*اَلصَّلٰوةُوَالسَّلَامُ عَلَيۡكَ يَاسَيِّدِۡي يَاحَبِيۡبَ‌ اللّٰه ﷺ*🤍
*اَلصَّلٰوةُ وَ السَّلَامُ عَلَيۡكَ يَا سَيِّدِۡي يَا نَبِیَّ ﷲ ﷺ*♥️
*اَلصَّلٰوةُ وَ السَّلَامُ عَلَيۡكَ يَا سَيِّدِۡي يَا نُوْرَ اللّٰه ﷺ* 🤍.
درودِ پاک وہ عظیم عبادت ہے جسے اللہ تعالیٰ خود بھی اپنے محبوب ﷺ پر بھیجتا ہے۔

🤲 ایک مرتبہ درودِ ابراہیمی ضرور پڑھیں
*🌹﷽🌹 *📿اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ-اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ.📿*.♥️* *

🌹جَزَی اﷲُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّا هُوَ أَهْلُهٗ ﷺ🌹
‏نبی پاک ﷺ نے فرمایا ذکر اوردرود کی کثرت فقر غربت دور کرتی ہے۔ ‏(جلاء الافہام:۲۳۵)

19/07/2026

Category

Website

Address


Lahore
Lahore
570000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when zeba writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Lahore.