Hakeem Rai Khalid

Hakeem Rai Khalid

Share

اس پیج پر ہم صحت کے لیے قدرتی علاج ۔وڈیو
youtube.com/@hakeemraikhalid4099?si=FfMGExOOEupNn6Ka

24/08/2026

بسم اللہ الرحمن الرحیم
جنات کا اثر بمقابلہ دماغی امراض: حقیقت، فرق اور جامع قدرتی علاج

تن ہے گر لاغر تو ہوتا ہے پریشاں دل بھی
روح کا مسکن سلامت ہو تو روشن عقل بھی

دردِ دل کا مداوا تو فطرت میں پنہاں ہے
سمجھ لے جو نبض کو وہی مردِ دانا ہے

ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ ذہنی و نفسیاتی امراض کو لا علمی کے باعث جنات، آسیب یا سحر قرار دے کر اصل علاج سے غافل ہو جاتے ہیں، جبکہ 90 فیصد سے زائد کیسز بنیادی طور پر اعصابی و دماغی خلل کے ہوتے ہیں۔

طبی اور فلسفیانہ نقطہ نظر:

* طب یونانی اور طب اسلامی کے مطابق:
شیخ الرئیس بو علی سینا اور حکیم علی گیلانی کے نزدیک دماغی عوارض اخلاط کے عدم توازن سے پیدا ہوتے ہیں۔ جب خلطِ سودا یا بلغم دماغ پر غالب آ جائے تو انسان کو خوف، تنہائی، وسوسے اور ہذیان کی شکایت ہوتی ہے۔

* نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق:
صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق جب عضلاتی اعصابی تحریک غیر طبعی حد تک بڑھ جائے یا دماغ و اعصاب میں سدے پیدا ہو جائیں تو سوداوی فضلات خون کو کثیف کر دیتے ہیں۔ اس خشکی و سردی سے طبیعت میں خوف، چڑچڑا پن اور وہم پیدا ہو جاتا ہے جسے غدی یا اعصابی تدابیر سے درست کیا جاتا ہے۔

* آیورویدک اور سنسکرت فلسفہ منطق:
قدیم سنسکرت کتب جیسے چرک سمہتا میں اسے انماد یا اپسمار کہا گیا ہے، جو کہ وات اور پِت کے بگڑنے سے من یعنی دماغ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ منطقِ طب یہ کہتی ہے کہ ہر اثر کا ایک مادی سبب ہوتا ہے، اس لیے جسمانی بگاڑ کو فورا غیبی اثر قرار نہیں دینا چاہیے۔

فرق کیسے پہچانیں؟

علامت: آغاز
دماغی مرض: آہستہ آہستہ مہینوں میں نمودار ہوتا ہے۔
آسیبی اثر: اچانک چند گھنٹوں میں مکمل تبدیلی آتی ہے۔
علامت: تلاوت و نماز

دماغی مرض: کوئی خاص ردعمل نہیں ہوتا۔
آسیبی اثر: اذان، نماز اور قرآن کی تلاوت سے شدید بے چینی یا غصہ۔

علامت: نیند کی کیفیت
دماغی مرض: بے خوابی یا حد سے زیادہ نیند۔
آسیبی اثر: خونخوار جانوروں کے خواب، نیند میں چیخنا یا جھٹکے۔

علامت: یادداشت
دماغی مرض: عام باتیں بھولنا، توجہ میں کمی۔
آسیبی اثر: اپنی ہی حرکات سے یکسر لاعلم ہو جانا۔
علامت: گفتگو کا انداز

دماغی مرض: منطقی مگر الجھی ہوئی باتیں کرنا۔
آسیبی اثر: آواز میں اچانک تبدیلی یا غیر مانوس زبان بولنا۔
جامع طریقہ علاج:

دماغی امراض کے لیے اندرونی و بیرونی تدابیر:

* خمیرہ گاؤزبان سادہ یا جواہر مہرہ کا استعمال دل اور دماغ کو طاقت دیتا ہے اور وسوسے ختم کرتا ہے۔

* شربت اعصاب دماغی خشکی کو دور کر کے پرسکون نیند لاتا ہے۔

* روغن بادام سر میں ہلکا مساج کریں اور روغن کنجد سے پاؤں کے تلووں کی مالش کریں۔

روحانی و نفسیاتی سکون کے لیے:

* مصفی خون ادویات سے جسم کے فاسد مادوں کا اخراج کریں۔

* گھر میں لوبان، ہرمل اور کلونجی کا بخور یعنی دھونی دیں۔

* پانچ وقت نماز کی پابندی، سورہ بقرہ کی تلاوت اور پانی پر سات بار آیت الکرسی دم کر کے پلائیں۔

سنہری اصول:
پہلے تمام بنیادی ٹیسٹ جیسے سی بی سی، وٹامنز اور ایم آر آئی کروائیں کیونکہ وٹامن ڈی اور بی 12 کی کمی سے بھی یہ کیفیات ہو سکتی ہیں۔ جسمانی علاج معالج سے اور روحانی تسکین دعا و ذکر الٰہی سے حاصل کریں۔

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابن طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے خدمت خلق میں مصروف عمل)
معاونت: اسکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

مطب کا پتہ:
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، اوکاڑہ، پنجاب، پاکستان۔

رابطہ نمبر: 00923007530789

اگر آپ کو یہ معلومات کارآمد لگیں تو پیج کو لائک، فالو اور پوسٹ کو شیئر ضرور کریں تاکہ مخلوقِ خدا مستفید ہو سکے۔

24/08/2026

وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
آمین یا رب العالمین
فیس بک کے لیے مکمل پوسٹ:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
اے رب کائنات! ہم محتاج تو غنی، ہم کمزور تو طاقتور، ہم بھٹکے ہوئے تو راستہ دکھانے والا، ہم خالی دامن تو دامن بھرنے والا۔ ہمیں وہ عطا فرما جو ہمارے حق میں بہترین ہو اور دین و دنیا کی خیر نصیب فرما۔ آمین!
حکمت اور طب کے علمی خزانوں سے چند اشعار:
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
تندرستی ہزار نعمت ہے
یہ جہاں کی سب سے بڑی دولت ہے
نبض دیکھ کر جو بتائے حالِ دل و جاں
وہی طبیب ہے جو سمجھے رمزِ حیات کا نشاں
طب و حکمت: صدیوں کے علمی و فلسفیانہ تجربات کا نچوڑ
علمِ طب محض ادویات کا نام نہیں بلکہ یہ کائنات، انسانی جسم اور روح کے باہمی ربط کا ایک عمیق فلسفہ ہے۔
طب اسلامی اور نبوی ﷺ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اصل شفا اللہ کے دستِ قدرت میں ہے اور پرہیز و حفظانِ صحت بہترین علاج ہے۔
طب یونانی اور بقراط و بو علی سینا کا فلسفہ اخلاطِ اربعہ (دم، بلغم، صفرا، سودا) کے توازن کو ہی زندگی اور صحت کی بنیاد قرار دیتا ہے۔
آیوروید اور قدیم سنسکرت کا فلسفہ تری دوشا (وات، پِت، کَف) اور پنچ مہابھوت (پانچ بنیادی عناصر) کے ہم آہنگ توازن کو انسانی حیات کا راز مانتا ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء (تحقیقاتِ صابر ملتانی رحمۃ اللہ علیہ) کے منطقی اصولوں کے مطابق انسانی جسم کے تینوں مفرد اعضاء (دل، دماغ، جگر) کی باہمی نبض شناسی، کیفیات اور افعال کے توازن سے مرض کی جڑ تک پہنچ کر علاج کیا جاتا ہے۔
جب منطق، فلسفہ، اور پچاس سالہ عملی تجربہ یکجا ہوں، تو علاج صرف تسکین نہیں بلکہ مستقل شفا کا ذریعہ بنتا ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل
زیرِ نگرانی و معاونت:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مقام:
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
آن لائن مشورہ و رہنمائی کے لیے رابطہ کریں:
00923127530789
اگر آپ کو یہ علمی و تحقیقی معلوماتی تحریر پسند آئی ہو تو پیج کو لائک، فالو اور دوست و احباب کے ساتھ شیئر ضرور کریں۔

23/08/2026

انسانی وجود، باطن کا لاشعور اور متوازن شعور کی حقیقت
انسان کی شخصیت کا ایک بڑا حصہ اس کے لاشعور کے نہاں خانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔

یہ پوشیدہ دنیا وہ گہرا سمندر ہے جہاں احساسات، ماضی کے نقوش، دبی ہوئی خواہشات اور انسانی جبلتیں موجود ہوتی ہیں۔

انسان اپنے اس پوشیدہ باطن کو تبھی سمجھ سکتا ہے جب اس کا شعور بیدار، متوازن اور محتاط ہو۔

تاہم، صرف اپنی ذات کے اندر کھو جانا کمال نہیں؛ بیدار شعور وہ ہے جو بیک وقت اپنی اندرونی نفسیاتی کیفیت کو بھی سمجھے اور بیرونی دنیا میں انسانی امکانات، تعلقات اور زندگی کے عملی تقاضوں پر بھی گہری نظر رکھے۔

حکمت و تصوف کے اشعار:

دل بینا بھی کر طلب خدا سے
کہ آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

(علامہ اقبال)
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

(علامہ اقبال)
باطن کے آئینے میں جو دیکھا تو کھل گیا
اک کہکشاں تھی ذات کے اندر چھپی ہوئی

فلسفہ طب و نفسیات کا تقابلی جائزہ:

* نظریہ مفرد اعضاء:
نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں لاشعور اور شعور کا گہرا تعلق انسانی دماغ و اعصاب سے ہے۔ جب دماغ و اعصاب میں سستی یا خلل ہو تو خیالات پراگندہ اور لاشعور مضطرب ہو جاتا ہے۔
عضلات، غدد اور اعصاب کا درست توازن ہی شعور کو بیداری اور لاشعور کو سکون بخشتا ہے۔

اعصابی توازن باطنی آگاہی اور بیرونی عمل دونوں کو درست رکھتا ہے۔

* طب یونانی و اسلامی فلسفہ:
طب یونانی میں روحِ نفسانی دماغ کا مرکز ہے جو انسانی فہم، ادراک اور حافظے کی نگران ہے۔

طب اسلامی کے مطابق انسان محض جسم نہیں بلکہ روح، نفس اور بدن کا مجموعہ ہے۔ بیدار شعور کا کام امارہ نفس کو مطمئن نفس میں بدلنا ہے، تاکہ باطن پاکیزہ ہو اور ظاہر میں اخلاق و فلاح کے امکانات روشن ہوں۔

* آیوویدک و سنسکرت فلسفہ:
سنسکرت فلسفے کے مطابق شعور کو چیتنیا اور لاشعور کے سنسکاروں کو سمسکارا کہا جاتا ہے۔

آیوویدا کے مطابق جسم اور ذہن کے تین دوشاز یعنی وات، پت اور کف کے عدم توازن سے باطنی اضطراب پیدا ہوتا ہے۔

جب ذہن ستوک حالت میں ہو تو شعور بیدار رہتا ہے اور انسان اندرونی اور بیرونی کائنات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی حاصل کر لیتا ہے۔

جب انسان اپنے باطن اور ظاہر میں یہ اعتدال پیدا کر لیتا ہے، تبھی وہ ذہنی بیماریوں، مایوسی اور بے سمتی سے بچ کر ایک کامیاب اور پُرسکون زندگی گزار سکتا ہے۔

تحریر و رہنمائی:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے پانچ عشروں سے خدمت خلق میں مصروف)
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

رابطہ و واٹس ایپ: 00923127530789
اگر آپ کو یہ علمی و فکری تحریر پسند آئی ہو تو پیج کو لائک، شیئر اور فالو ضرور کریں تاکہ حکمت کی روشنی سب تک پہنچ سکے۔

23/08/2026

ہم پرندوں اور جانوروں جتنے بھی آزاد نہیں ہیں۔
کیا آپ نے کبھی کسی پرندے کو پاسپورٹ بنوانے کے لیے سرکاری دفتروں کے چکر کاٹتے دیکھا ہے؟

وہ جب چاہیں بغیر کسی سرحد اور مداخلت کے نیلے آسمان پر پرواز کر کے ایک خطے سے دوسرے خطے میں چلے جاتے ہیں۔

انہیں کسی ویزے کی محتاجی نہیں ہوتی۔ حیرت تو یہ ہے کہ کائنات کی تمام مخلوقات میں سے صرف انسان ہی وہ وجود ہے جو اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین اور پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، اور ستم ظریفی دیکھیے کہ وہ اس قید کے باوجود آزادی کا جشن بھی مناتا ہے۔

بقول شاعر:
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
ہر قیامت سے یوں ہی سر کو اٹھایا جائے

فلسفہ و طب کی گہرائیوں میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل قید صرف جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کا من اور جسم بھی غیر فطری طرزِ زندگی کی زنجیروں میں جکڑا جا چکا ہے

طب یونانی اور بقراط کا فلسفہ بتاتا ہے کہ انسان تب تک بیمار اور قید رہتا ہے جب تک وہ فطرت کی دی ہوئی قوتِ مدبرہ بدن کے اصولوں سے بغاوت کرتا ہے۔

جس طرح پرندے عناصرِ اربعہ (آگ، ہوا، مٹی، پانی) کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر اڑتے ہیں، انسان جب تک اخلاط (دم، بلغم، صفرا، سودا) کے فطری توازن کو برقرار نہیں رکھتا، وہ اندرونی بے چینی اور روگ کا شکار رہتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء کی رو سے دیکھا جائے تو انسان کے بنیادی اعضائے رئیسہ یعنی قلب، دماغ اور جگر جب تک اپنے طبعی افعال اور حرارتِ غریزیہ کے ساتھ کام نہ کریں، جسم میں تسکین اور قبض کی صورتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روح اور بدن کو مفلوج کر دیتی ہیں۔

سوداوی اور عضلاتی تحریک کی زیادتی انسان کو وسوسوں، خوف اور تنگیِ حیات کی ایسی زنجیروں میں باندھ دیتی ہے جس سے آزادی صرف قانونِ فطرت کی بحالی سے ہی ممکن ہے۔

آیورویدک اور سنسکرت فلسفے کا اصول (پراکرتی اور وِکرتی) بھی یہی درس دیتا ہے کہ جب انسان اپنی اصل فطرت سے دور ہو کر پنج مہابھوت کے توازن کو بگاڑتا ہے، تو اس کا واتا، پتا اور کفا بے قابو ہو کر اسے ہر لمحہ غلام بنا دیتے ہیں۔

طب اسلامی کا بھی یہی سنہری اصول ہے کہ شفا، سکون اور حقیقی آزادی صرف فطرتِ الٰہی کی پیروی میں ہے۔
حکمت کا خوبصورت شعر اس حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے:
آزادیِ کامل ہے فقط قربِ الٰہی

فطرت سے جو ہٹ جائے وہ زنجیر میں ہوگا

تیرے بیمار کو شفا کی طلب
نسخۂ خضر کی دعا کی طلب

اگر آپ بھی دائمی، پیچیدہ امراض یا اندرونی بے چینی و غیر متوازن صحت کے مسائل سے نجات پا کر حقیقی تندرستی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو فطری طریقِ علاج کا انتخاب کیجیے۔

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (پچھلے پانچ عشروں سے طب و حکمت کی خدمات میں مصروف)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ و واٹس ایپ: 00923127530789
اگر یہ تحریر آپ کے دل کو چھو گئی ہو تو پیج کو لائک، فالو اور دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں تاکہ علم و حکمت کا یہ پیغام دور تک پہنچ سکے۔

23/08/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، اطبائے کاملین کے مجرب اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے نسخہ جات کا سلسلہ جاری ہے۔
موضوع: ام الامراض قبض کا مستقل اور بے ضرر قلع قمع
حکمت اور طب کے علمی خزانوں سے منتخب اشعار:
معدہ گر صاف رہے، تن میں توانا آئے
قبض ہو جائے تو سو روگ کا در وا آئے
تندرستی کا ہے دارو ترے ہاضمے کے اوپر
صفائی امعا سے ملے جسم کو فرحت کا نشاں
حکمت و فلسفہ طب کے تناظر میں حقیقتِ قبض:
طب یونانی اور بقراطی فلسفے کے مطابق امعا (آنتوں) میں برودت اور یبوست کا بڑھ جانا اخراج کے طبعی عمل کو روک دیتا ہے۔ افلاطونی و جالینوسی اصولوں کے تحت جب تک آنتوں کی سستی اور غلیظ اخلاط کا ازالہ نہ ہو، بدن کو شفا ممکن نہیں۔
طب اسلامی اور نبوی اصولوں میں بھی پیٹ کی صفائی اور معدے کی اصلاح کو تمام تر علاج کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، کیونکہ معدہ بیماریوں کا گھر اور پرہیز ہر علاج کی اصل ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء کی روشنی میں یہ نسخہ عضلاتی خشکی اور تشنج کو توڑ کر مخاطی پردوں میں طبعی رطوبت اور اعصابی تحریک پیدا کرتا ہے، جس سے سدے کھلتے ہیں اور انتڑیاں نرم ہو کر فضلات کو بغیر مروڑ خارج کر دیتی ہیں۔
آیورویدک اور سنسکرت فلسفہ طب کے مطابق یہ درویہ وات دوش (خشکی اور ریاح) کو شانت کرتا ہے اور آملہ کے ذریعے پِت اور کف کو معتدل بنا کر رسائن یعنی بدن کو نئی طاقت بخشتا ہے۔
مجرب و نایاب نسخہ: زوج برائے قبض و تقویت بدن
ھوالشافی
اجزاء:
مغز تخم ارنڈ (ارنڈی کے بیج کا مغز) : دو حصہ
پوست آملہ خشک : ایک حصہ
خالص مصری یا گلوکوز : کل دوا کے وزن کے برابر
ترکیب تیاری:
دونوں ادویہ کو باریک پیس کر سفوف یعنی مثل غبار بنا لیں، پھر اس میں ہم وزن مصری یا گلوکوز اچھی طرح یکجان کر کے شیشے کے محفوظ جار میں رکھ لیں۔
مقدار خوراک اور طریقہ استعمال:
ایک سے دو چائے کے چمچ رات کو سوتے وقت نیم گرم دودھ کے ساتھ استعمال کریں۔
طبی فوائد و خصوصیات:
یہ دائمی اور ضدی قبض کی بے مثل اور آزمودہ دوا ہے۔
جسم کے تمام عضلات کی سختی اور کھچاؤ کو دور کر کے طبعی لچک لاتی ہے۔
جسم کی قوت مدافعت میں بھرپور اضافہ کرتی ہے۔
اس کے باقاعدہ استعمال سے اجابت معمول پر آ جاتی ہے، جس کے باعث یہ سنگرہنی (آئی بی ایس) میں بھی بے حد مفید ہے۔
بدن کے غدود سے فاسد اور سوزشی مادوں کو خارج کر کے دردوں کا خاتمہ کرتی ہے، اس لیے وجع المفاصل، جوڑوں کے درد اور گٹھیا کے مریضوں کے لیے تحفہ خاص ہے۔
عام قبض کشا ادویات کی طرح اس کے کوئی مضر یا بعد کے اثرات نہیں ہوتے، آنتوں کو کمزور نہیں کرتی بلکہ طاقت اور قوت بخشی میں کشتہ چاندی کے ہم پلہ ثابت ہوتی ہے۔
اطبائے کرام اور محققین اس نسخے کو ضرور تیار کریں، بفضلِ خدا یہ بڑے بڑے پیچیدہ نسخہ جات پر بازی لے جاتا ہے۔
زیرِ سرپرستی و تحقیق:
استاذ الاطباء، پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابن طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف عمل
طبی معاونت:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
مطب و پتہ:
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر، پنجاب، پاکستان
براہ راست رابطہ و رہنمائی:
فون و واٹس ایپ: 00923127530789
اس مفید اور علمی پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو کریں تاکہ طب و حکمت کی یہ نایاب روشنی ہر ضرورت مند تک پہنچ سکے۔

23/08/2026

نزلہ و زکام اور سوزشِ انف: حقیقت، علامات اور شافی علاج
تنقیہ گر نہ ہو تو امراض بڑھتے ہیں

بقا صحت کی مادہ کے بہانے میں رکھی ہے
طبیبِ حاذق وہی ہے جو سمجھے رمزِ مرض
دوا کی اصل تو اسباب مٹانے میں رکھی ہے
زکام اور نزلہ انسانی بدن کے ان ابتدائی عوارض میں شمار ہوتے ہیں جنہیں اگر بروقت اور درست طبی اصولوں کے تحت سنبھالا نہ جائے تو یہ دائمی امراض کا سبب بن جاتے ہیں۔

طب یونانی کی رو سے جب رقیق مادہ ناک کی راہ سے خارج ہو اور مقامی سطح پر سوزش پیدا کرے تو اسے زکام کہا جاتا ہے، اور جب یہی مادہ حلق یا سینے کی جانب گرنے لگے تو اس کیفیت کو نزلہ قرار دیا جاتا ہے۔

جدید طب میں اسے کورائزا (Coryza)، کولڈ ان دی ہیڈ (Cold in the Head) یا کٹار (Catarrh) کا نام دیا گیا ہے۔ لفظ کٹار یونانی الاصل ہے جس کے معنی بہنے کے ہیں، یعنی جب غشائے مخاطی میں سوزش کے سبب رطوبت کا تراوش ہو تو یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

رائی نائی ٹس (Rhinitis) بھی ناک کی اندرونی لواب دار جھلی کی سوزش ہی کا علمی نام ہے۔

فلسفہ طب، نظریہ مفرد اعضاء اور آیورویدک تقابل:

طب اسلامی اور فلسفہ یونان کی رو سے نزلہ کی ابتدا دماغی غشاؤں کے ضعف اور بخارات کے انصباب سے ہوتی ہے۔ آیوروید اور سنسکرت طب میں اسے پرتی شیاے (Pratishyaya) کہا جاتا ہے جس میں وات اور کف دوش کی خرابی سے یہ عارضہ جنم لیتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء کے مطابق نزلہ و زکام اعصابی غدی یا غدی عضلاتی تحریک و تسکین کے باہمی عدم توازن کے نتیجے میں نمودار ہوتا ہے۔

رطوبات کا بکثرت بہاؤ بلغم کی زیادتی یا صفراء کے جوش کی دلیل ہوتا ہے۔

اسباب و علامات:
اس مرض کا سبب وائرل انفیکشن یا مائیکرو کٹاریسن خردبینی جرثومہ ہوتا ہے جو موسمی تغیر، ٹھنڈی ہوا، سرد پانی کے اچانک استعمال، گرد و غبار، یا موروثی کمزوری کی وجہ سے بدن پر غالب آ جاتا ہے۔

علامات میں سر میں بوجھ، پیشانی پر جکڑن، چھینکوں کی کثرت، ناک و آنکھوں سے پانی بہنا، سونگھنے اور چکھنے کی حس میں کمی، گلے میں خراش، آواز کا بیٹھنا اور بعض اوقات 101 سے 102 فارن ہائٹ تک ہلکا بخار شامل ہے۔
جب یہ مرض پرانا ہو جائے تو اسے کرانک نیزل کٹار، نزلہ مزمن یا کرانک رائی نائیٹس کہتے ہیں۔ اس کی دوسری صورت میں جھلی پتلی پڑ جاتی ہے اور تعفن پیدا ہوتا ہے جسے عربی میں نخر الانف، اردو میں پینس اور انگریزی میں اوزینا (Ozena) کہا جاتا ہے۔

اصول علاج و مستند مجربات:
قانونِ طب کا سنہری اصول ہے کہ ابتدا میں نزلہ و زکام کو ہرگز خشک یا بند نہ کیا جائے، بلکہ مادہ کا اخراج اور تنقیہ ہونے دیا جائے تاکہ اخلاط فاسدہ دماغ میں رک کر خرابی پیدا نہ کریں۔

1۔ جوشاندہ برائے نزلہ حار (گرم زکام):
بہیدانہ 3 گرام، عناب 5 گرام، سپستان 9 دانہ کو ہلکے پانی میں جوش دے کر چھان لیں اور شربت بنفشہ 2 تولہ ملا کر پلائیں۔ دردِ سر کی صورت میں شیرۂ تخم کاہو مقشر 3 گرام شامل کریں۔

2۔ حب نزلہ:
جند بیدستر 2 گرام، زعفران 2 گرام، رب السوس 6 گرام، دار چینی 6 گرام، شہد 6 گرام، صمغ عربی 10 گرام، کتیرا 10 گرام، نشاستہ 10 گرام۔ باریک پیس کر کالی مرچ کے برابر گولیاں بنائیں اور دو دو گولی صبح و شام استعمال کریں۔

3۔ حب جدوار:
فلفل سفید 1 گرام، دار چینی 2 گرام، فلفل دراز 2 گرام، لونگ 3 گرام، جدوار 5 گرام، جوزبوا 5 گرام، زعفران 5 گرام، کبابہ 5 گرام، مستگی رومی 5 گرام، خصیت الثعلب 5 گرام، شہد خالص 12 گرام۔ کوٹ چھان کر چنے کے برابر گولیاں بنائیں، رات سوتے وقت 1 سے 3 گولی استعمال کریں۔

4۔ حب بیش:
بیش مدبر 1 گرام، عود صلیب 1 گرام، عود اگر 3 گرام، ایلوا 3 گرام، شہد 1 رتی، زعفران 1 رتی۔ مناسب بدرقہ کے ساتھ استعمال کرائیں۔

5۔ نسخہ برشعثاء (اکسیر دماغ و معدہ):
فلفل سیاہ 20 گرام، فلفل سفید 20 گرام، بذر البنج سفید 20 گرام، شہد 10 گرام، زعفران 5 گرام، سنبل الطیب 1 گرام، عقر قرحا 1 گرام، فرفیون 1 گرام۔ تمام ادویہ کو کوٹ کر سہ چند شہد میں ملا کر تین ماہ تک جو کے اندر دفن رکھیں۔ خوراک: نصف گرام سے 2 گرام۔

پرہیز و ہدایات:
پرانے زکام کے مریض دہی، لسی، دودھ، ترش و بادی اشیاء، تمباکو نوشی اور برف کے ٹھنڈے پانی سے مکمل اجتناب کریں۔ ہاضمہ درست رکھیں، سر کو سرد ہوا سے بچائیں اور دن کے وقت سونے سے گریز کریں۔

زیرِ سرپرستی:
استاد الاطباء پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابن طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے خدمتِ خلق میں مصروف عمل)
معالج و محقق:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ و واٹس ایپ: 00923127530789
طب و حکمت کی مستند معلومات، امراض کے درست اسباب اور دیسی علاج کے لیے ہمارے پیج کو لائک، فالو اور شیئر ضرور کریں۔

23/08/2026

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
یارب جلیل میری غفلتوں کی بھی حد نہیں، تیری رحمتوں کی بھی حد نہیں

نہ میری خطا کا شمار ہے، نہ تیری عطا کا شمار ہے
ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو برا چاہنے والوں کی برائی سے، دشمنوں کی دشمنی سے، حاسدوں کے حسد سے محفوظ فرما۔ ہمارے جان و مال، عزت و آبرو اور ایمان کی حفاظت فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

حکمت و دانائی کے موتی:

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں
تندرستی ہے اگر تو سلطنت ہے ہاتھ میں
بے شفا دولت ہے کیا بس خاک کی اوقات میں
نبض دیکھ کر جو بتائے دل کا سارا حال
وہی طبیبِ باکمال ہے، وہی صاحبِ کمال

علمِ طب، فطرت کا عظیم الشان فلسفہ:

صحت مند زندگی کا راز قدرت کے اصولوں میں پنہاں ہے۔ طبِ اسلامی و نبوی ہمیں اعتدال، پرہیز اور روحانی و جسمانی پاکیزگی کا درس دیتی ہے۔ طبِ یونانی کے بانی بقراط اور جالینوس کے مطابق اخلاطِ اربعہ (دم، بلغم، صفرا، سودا) کا توازن ہی اصل صحت ہے۔ سنسکرت فلسفہ و آیوروید کا نظریہ واتا، پتا، کفا (Tridosha) بھی عناصر کے توازن پر زور دیتا ہے۔ جبکہ برصغیر کے عظیم طبی محقق حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانی کا نظریہ مفرد اعضاء اعضائے رئیسہ (دل، دماغ، جگر) کی باہمی تحریک، تسکین اور تحلیل کو سمجھ کر مرض کی جڑ کو ختم کرنے کا بے مثال اور سائنسی طریقہ علاج فراہم کرتا ہے۔ جب تک سببِ مرض کو دور نہ کیا جائے، حقیقی شفا ممکن نہیں۔
نصف صدی سے زائد (پانچ عشروں) کا بے مثال طبی تجربہ اور خاندانی روایت:

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے 50 سال سے دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت میں مصروفِ عمل۔

زیرِ نگرانی:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
خالد دواخانہ
مقام: چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر، پنجاب، پاکستان۔

رابطہ و واٹس ایپ: 00923127530789

دیرینہ و پیچیدہ امراض کے مستقل اور قدرتی علاج کے لیے تشریف لائیں یا دنیا بھر سے آن لائن مشورہ حاصل کریں۔
پیج کو لائک، فالو اور دوست احباب کے ساتھ شیئر ضرور کریں تاکہ یہ طبی و سائنسی معلومات ہر ضرورت مند تک پہنچ سکیں۔

22/08/2026

عورتوں کے چہرے کے غیر ضروری بالوں کے علاج کے دوران پرہیز اور مناسب غذائی چارٹ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عورتوں کے چہرے پر فالتو بالوں کے علاج کے دوران ادویات کے ساتھ ساتھ درست غذا اور پرہیز انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نظریہ مفرد اعضاء اور طب یونانی کے مطابق یہ بیماری عضلاتی یعنی خشک سرد مزاج کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم علاج کے دوران خشک اور سوداوی غذاؤں کا استعمال جاری رکھیں گے تو دوا کا اثر سست ہو جائے گا۔

پرہیز (جن چیزوں سے مکمل بچنا ضروری ہے)

ترش، سوداوی اور خشکی پیدا کرنے والی تمام چیزوں سے پرہیز کریں۔ بڑا گوشت، بینگن، دال مسور، الو، گوبھی، مٹر، چنے، اور پالک۔ ترش پھل، دہی، لسی، اور سرکہ۔ سموسے، پکوڑے، فاسٹ فوڈ، نان، اور کولڈ ڈرنکس۔ چائے اور کافی کا زیادہ استعمال۔

مطلوبہ غذائی چارٹ (غدی تر اور گرم تر غذائیں)

علاج کے دوران جسم میں گرمی اور تری پیدا کرنے والی غذائیں مفید ثابت ہوتی ہیں تا کہ سوداوی مادوں کا اخراج ہو سکے۔

ناشتہ: بکری یا دیسی مرغی کے شوربے کے ساتھ روٹی، یا دیسی گھی میں پکا ہوا دیسی انڈا۔ ساتھ میں کھجور يا انجیر کا استعمال کریں۔ چائے کی جگہ ادرک اور دارچینی کا قہوہ لیموں نچوڑ کر استعمال کریں۔

دوپہر اور رات کا کھانا: لوکی، کدو، توری، ٹنڈے، گاجر، شلغم، اور دیسی مرغی یا بکریاں کا شوربہ۔ روٹی گندم کی ہو اور سالن میں دیسی گھی یا زیتون کا تیل استعمال کریں۔ دال مونگ دھلی ہوئی اور پالک کی جگہ کدو کا سالن بہترین ہے۔

پھل اور قہوہ: پھلوں میں میٹھا ام، خربوزہ، پپیتا، ناشپاتی، اور سیب استعمال کریں۔ دن میں دو بار ادرک، اجوائن، اور سونف کا قہوہ پیئں۔

طبیب کی ہدایت

غذا ہی اصل دوا ہے۔ جب تک جسم کا مزاج درست نہیں ہوگا تب تک اندرونی ہارمونز کا توازن بحال نہیں ہو سکتا۔ مناسب غذائی تدبیر اور علاج سے چہرے کے غیر ضروری بالوں سے مستقل نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔

مشورے اور مکمل تشخیص کے لیے تشریف لائیں یا رابطہ کریں۔

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں سے طب و حکمت کے شعبے میں خدمت میں مصروف ہیں

خالد دواخانہ چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر

طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

رابطہ نمبر: 03127530789

تحریر پسند ائی ہو تو پیج کو لائک، شیئر اور فالو ضرور کریں۔

22/08/2026

عورتوں کے چہرے پر فالتو بال اور ان کا مستقل طبّی علاج
بسم اللہ الرحمن الرحیم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عورتوں کے چہرے پر فالتو بالوں کا اگنا اجکل کی خواتین کا ایک انتہائی تشویشناک اور حساس مسئلہ بن چکا ہے۔

عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا صرف لیزر ہی واحد علاج ہے جو کہ نہ صرف انتہائی مہنگا ہے بلکہ مستقل حل بھی نہیں فراہم کرتا۔

حکمت کے نظریے اور مفرد اعضاء کے قانون کے مطابق اس کا علاج جڑ سے ممکن ہے۔

بالوں کی پیدائش کا حکمتی راز
حکمت کے اصولوں کے مطابق بال سوداوی مادے سے پیدا ہوتے ہیں۔

خالقِ کائنات نے عورتوں کے جسم سے سودا اور فاسد مادوں کے اخراج کے لیے ماہانہ نظام حیض مقرر فرمایا ہے۔

جب تک یہ نظام درست رہتا ہے عورتوں کا مزاج سوداوی نہیں ہوتا۔ لیکن اگر اس ماہانہ کورس میں کسی قسم کا خلل، رکاوٹ یا بے قاعدگی ا جائے تو یہ فاسد مادے اور سودا اندر ہی رک جاتے ہیں۔

یہ رکے ہوئے مادے اندرونی ہارمونز کے ساتھ مل کر ایسی غیر طبعی ترکیب بناتے ہیں جو نسوانیت میں تبدیلی کا موجب بنتی ہے اور چہرے پر مردانہ طرز کے سخت بال اگنا شروع ہو جاتے ہیں۔

نظریہ مفرد اعضاء اور طب یونانی کے تحت تشخيص و علاج

قانونِ مفرد اعضاء کے مطابق یہ حالت عضلاتی تحریک یعنی جسم میں خشک اور سرد مادوں کی زیادتی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

اس کا بنیادی اور کامیاب علاج یہ ہے کہ عضلاتی تحریک کو غدی تحریک یعنی گرم تر مزاج میں تبدیل کر دیا جائے۔

اگرچہ یہ مرض عسر العلاج یعنی تھوڑی توجہ اور صبر طلب ہے، لیکن لا علاج ہرگز نہیں ہے۔

جب تک اندرونی سوداوی مادے خارج نہیں ہوں گے، اوپر سے لیزر کروانے کا کوئی مستقل فائدہ نہیں ہوگا۔

طبّی حِکمت کے علمی خزانوں سے چند اشعار

تن کی تندرستی میں ہے جان کی بقا
طبیبِ حاذق ہی جانتا ہے ہر دردو دوا

مزاجِ جسم کو سمجھو تو مٹ جائیں گی بیماریاں
طبیعت خود سنبھالے گی اگر بدلے گی کیفیات

علاج کی اہم ادویات
مریضہ کی برداشت اور مزاج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے درجہ ذیل ادویات کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے:

حب مفید النساء

ملین نمبر 5

مسہل نمبر 4

قرص سلاطین

حب مفید النساء بنانے کا نسخہ

حب مفید النساء کے بنیادی اجزاء میں رائن، مصبر، ہیرا کشیس، اور سونٹھ شامل ہیں جن کو مساوی وزن لے کر باریک پیس کر پانی کی مدد سے چنے کے برابر گولیاں بنائی جاتی ہیں۔

یہ دوا ماہانہ نظام کی اصلاح کرتی ہے اور اندرونی فاسد مادوں کو خارج کر کے بالوں کی افزائش کو روکتی ہے۔

کسی بھی قسم کے مشورے اور مکمل تشخیص کے لیے تشریف لائیں یا رابطہ کریں۔

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
پچھلے پانچ عشروں سے طب و حکمت کے شعبے میں خدمت میں مصروف ہیں

خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

رابطہ نمبر: 03127530789

اگر اپ کو یہ معلوماتی تحریر پسند ائی ہو تو پیج کو لائک، شیئر اور فالو ضرور کریں تاکہ دیگر بہنیں بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔

تحریر کے مطابق ویڈیو جرنیٹ کریں 9:16

21/08/2026

بخار اور اس کی اقسام: عضلاتی بخار کی حقیقت اور اصولی علاج

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

طبی کتب اور قانونِ فطرت کے مطابق بخار بذاتِ خود کوئی مستقل مرض نہیں بلکہ جسم کے اندرونی نظام میں پیدا ہونے والے بگاڑ کا ایک دفاعی ردِ عمل ہے۔

طبِ یونانی میں حکیم بوعلی سینا اور بقراط نے حرارتِ غریبہ کے اسباب کو واضح کیا، جبکہ آیورویدک فلسفہ (سنسکرت ترِ دوشا) میں اسے وات، پت اور کف کے عدم توازن سے جوڑا گیا۔

قانون مفرد اعضاء کی رو سے اخلاط و مزاج کے تحت بخار کی بنیادی طور پر چار اقسام بنتی ہیں:

عضلاتی تحریک کا بخار (خشکی و سردی / سوداوی)
قشری تحریک کا بخار (گرمی و خشکی / صفراوی)
اعصابی تحریک کا بخار (تری و سردی / بلغمی)

مخاطی تحریک کا بخار

علمِ حکمت کے موتی:

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

نبض پر جب ہاتھ رکھنا، سوچ کر رکھنا قدم
زندگی کی ڈور میں پوشیدہ ہے رازِ عدم

طبیعت خود معالج ہے اگر رستہ دکھا دیں ہم
بدن کی آگ بجھ جائے جو اصلی جڑ مٹا دیں ہم

عضلاتی بخار کیا ہے؟
یہ بخار عضلاتی (خشک و سرد) تحریک کے تحت عضلات اور قلب کے سکیڑ کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔

اس میں مریض شدید گھبراہٹ، بے چینی، جسم میں کھچاؤ اور شدید دردوں کا شکار ہوتا ہے۔

آیورویدک منطق میں اسے وات کے غلبے سے اور طبِ اسلامی و یونانی میں خلطِ سودا کے تعفن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

ایک جامع مثال:
اگر کوئی الیکٹرک موٹر یا پنکھا چلتے ہوئے زیادہ گرم ہو جائے تو یہ حرارت کسی اندرونی خرابی کا اشارہ ہے۔

اس کا حل ہرگز یہ نہیں کہ موٹر پر پانی ڈال کر اسے زبردستی ٹھنڈا کیا جائے۔ ماہر الیکٹریشن ہی دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ بیرنگ خراب ہیں، کوائل شارٹ ہے یا کمپریسر میں نقص ہے۔

خرابی دور ہوتے ہی موٹر کا درجہ حرارت معمول پر آ جاتا ہے۔

اسی طرح انسانی بدن میں اگر بخار ہو تو بغیر تشخیص کے پسینہ آور یا زبردستی ٹھنڈک پہنچانے والی ایلوپیتھک مسکن ادویات سے بخار دبانا خطرناک نتائج کا باعث بنتا ہے۔

اگر بخار پیدا کرنے والے اصل سبب کا ازالہ کر دیا جائے تو بخار خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔

اگر اصل وجہ چھوڑ کر صرف بخار کے پیچھے پڑ گئے تو مرض بڑھتا چلا جائے گا جس سے سوزش، ورم، رسولیاں، ٹی بی، دمہ، جگر اور گردوں کا سکڑاؤ حتیٰ کہ عضلاتی کینسر تک کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

اصولِ علاج:
عضلاتی بخار اور اس تحریک کے امراض کا اصولی علاج یہ ہے کہ مریض کی نبض کے مطابق قشری اعصابی (گرم تر) اور اعصابی قشری (تر گرم) تدابیر و ادویات استعمال کروائی جائیں تاکہ جسم سے سوداوی مادوں کا اخراج ہو اور رطوبات بحال ہوں۔

اگر امراض مہلک اور علامات پیچیدہ صورت اختیار کر جائیں تو مکمل اصولِ علاج اور پرہیز جاننے کے لیے میری تصنیف اسرار النبض فی شفاء العلیل کا مطالعہ فرمائیں۔

ہر معالج کے لیے مزاج کی درست تشخیص اور اصولِ علاج پر دسترس رکھنا لازمی ہے۔

زیرِ سرپرستی و مشاورت:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد

(پچھلے پانچ عشروں سے خدمتِ خلق میں مصروف)
خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

رابطہ و واٹس ایپ: 00923127530789

طب و حکمت کی مستند معلومات کے لیے پیج کو لائک، فالو اور شیئر ضرور کریں۔

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Okara?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00