Polio Programme Updates and Awarness

Polio Programme Updates and Awarness

Share

اس گروپ میں بہت سے فائیدہ مند تحریریں اور کہانیاں شئیر ?

26/07/2025

خون کے سفید خلیئے ( Total White Cells / White blood cells)
سی بی سی ٹیسٹ کا ایک اہم جُز ہوتے ہیں ، ان کا کام انفکشن سے لڑنا ہوتا ہے اور یہ ہماری قوت مدافعت کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں ۔ ان کی تعداد کم یا زیادہ ہونے سے جسم میں موجود انفکشن کا پتہ چلتا ہے ۔

نارمل رینج 4 سے 11 ( 4000 سے 11000 cells/µL)

وھائیٹ بلڈ سلز (WBC) کن صورتوں میں بڑھتا ہے ۔
🔹️انفیکشن۔
🔹️سوزش (inflammation)۔
🔹️الرجی ۔
🔹️کچھ ادویات جیسے سٹیرائڈز یا کچھ بیماریوں میں ۔

وھائیٹ بلڈ سلز کن صورتوں میں کم ہوجاتے ہیں ۔
🔹️بون میرو کی بیماریوں میں ۔
🔹️وائیرس کی وجہ سے جیسے ڈینگی ، HIV ، ہیپاٹائیٹس وغیرہ
🔹️بعض دوائیوں کی وجہ سے جیسے کینسر کی دوائیاں ۔

صحت سے متعلق معلومات کے لیئے ہمیں فالو کریں

26/07/2025

*ہم کمیونٹی ہیلتھ ورکرز ہیں—پاکستان کی اصل طاقت!*
سردی کی راتیں ہوں یا گرمی کے دن، حملے ہوں یا دھمکیاں، ہم نے نا خوف دیکھا، نا تھکاوٹ! ہر بار ہر بیماری، چاہے پولیو ہو یا کورونا، ڈینگی ہو یا خسرہ—ہم ہی ہر اول لائن پر ڈٹے رہے۔ ہمارے خون پسینے سے پاکستان کے بچوں کو صحت ملی، گھروں میں امید آئی۔ لیکن آج… ہمارا صلہ صرف ایک میسج پر برطرفی؟ محنت، جانفشانی اور وفاداری سب نظر انداز؟

*کیا پاکستان کے اصل ہیروز کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے؟*
ہم مطالبہ کرتے ہیں:
- ہماری ملازمت کی بحالی اور تحفظ!
- کم از کم سرکاری تنخواہ اور وقت پر ادائیگی!
- ہماری حفاظت، عزت اور کام کے بہتر حالات!
- عالمی ادارے اور حکومتی نمائندے فوری نوٹس لیں اور انصاف فراہم کریں!

*میڈیا، سوشل ایکٹیوسٹس، انسانی حقوق تنظیمیں—ہمارا ساتھ دیں!*
ہزاروں ورکرز اور ان کے خاندان روٹی سے محروم ہو رہے ہیں، یہ صرف ایک جاب نہیں، قوم کے مستقبل کی بقا ہے۔ ہماری ناانصافی پورے پاکستان کی صحت پر اٹیک ہے۔

*اب ہم خاموش نہیں رہیں گے! براہِ کرم اس پیغام کو پھیلائیں—آپ کی ایک شیئر، ایک آواز، ہمارے لیے اُمید بن سکتی ہے

24/07/2025

*پولیو کے خاتمے میں WHO کا کردار اور CBV ماڈل کی کامیابی - لیکن اب ظالمانہ تبدیلیاں کیوں ہیں؟*
- پولیو ایک خطرناک بیماری ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر کوششیں کی گئی ہیں۔ پاکستان میں—خاص طور پر خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں (بشمول پشاور) — ڈبلیو ایچ او نے 1994 سے 2015 تک مختلف حکمت عملیوں اور نظاموں جیسے ڈی ڈی ایم کا استعمال کرتے ہوئے پولیو پروگرام چلائے۔
- ان نظاموں میں زیادہ تر ورکرز کو یومیہ اجرت پر رکھا گیا تھا اور ٹیم نمبروں اور حاضری کے ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی گئی تھی۔
- اس نظام نے نہ تو کارکنوں کو تحفظ فراہم کیا اور نہ ہی پولیو پر قابو پایا۔
- پھر 2015 میں، ایک بڑی تبدیلی آئی: سی بی وی (کمیونٹی بیسڈ ویکسینیشن) ماڈل، جو افریقہ میں استعمال ہوتا تھا، خیبر میں متعارف کرایا گیا۔
- کارکنوں کو براہ راست ان کے کھاتوں میں ادائیگی کی گئی۔
- کارکنوں نے مستقل شناخت، مناسب تربیت حاصل کی، اور انہیں مقامی علاقے تفویض کیے گئے۔
- لوگوں کا اعتماد بڑھ گیا کیونکہ کارکن اب اپنی برادریوں سے تھے۔
- *نتیجہ:*
- 2015 کے بعد خیبر میں پولیو کیسز کی تعداد سینکڑوں سے کم ہو کر صفر تک پہنچ گئی!

- *لیکن آج…*
- حکومت اور متعلقہ محکمے اب پرانے کرپٹ ڈی ڈی ایم سسٹم کو واپس لا رہے ہیں۔
- ڈینگی، کورونا، خسرہ، ٹائیفائیڈ، اور 12 دیگر بیماریوں سے لڑنے والے 10 سال تک خدمات انجام دینے والے کارکنان کو بغیر کسی وجہ کے برطرف کیا جا رہا ہے۔
- نظام یومیہ اجرت اور جعلی ٹیموں کی طرف واپس جا رہا ہے، جو کارکنوں کے ساتھ غیر منصفانہ ہے اور کمیونٹی کی صحت کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

- *اہم سوالات:*
- جب سی بی وی سسٹم کامیاب تھا تو اسے کیوں بند کیا جا رہا ہے؟
- پاکستان میں پولیو اب بھی موجود ہے- تو ایک ثابت شدہ ماڈل کو کیوں ختم کیا جائے؟
- ڈبلیو ایچ او اور عالمی ایجنسیوں کو ان کے فراہم کردہ لاکھوں فنڈز کا جوابدہ کون ٹھہرائے گا؟

- *کیا ڈی ڈی ایم سسٹم میں واپسی بدعنوانی کے ذریعے فنڈز کو استعمال کرنے کا ایک اور موقع ہے؟*

- *ہماری اپیل:*
- ہم CBV سسٹم کو جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
- پرانے کارکنوں کو ایڈہاک یا کنٹریکٹ ہیلتھ ورکرز کے طور پر برقرار رکھا جائے۔
- عالمی ایجنسیوں کو نہیں لینا چاہئے۔

World Health Organization- Pakistan
UNICEF Rotary International World Bank
Health+

Polio Eradication In Pakistan

24/07/2025

- *The role of WHO in polio eradication and the success of the CBV model — but why are there now cruel changes?*
- Polio is a dangerous disease, and massive efforts have been made globally for its eradication. In Pakistan—especially in Khyber district of Khyber Pakhtunkhwa (including Peshawar)—the WHO ran polio programs from 1994 to 2015 using various strategies and systems like DDM.
- In these systems, most workers were hired on daily wages and there was widespread corruption in team numbers and attendance records.
- This system provided neither protection to workers nor control over polio.
- Then in 2015, a major change occurred: the CBV (Community Based Vaccination) model, which was used in Africa, was introduced in Khyber.
- Workers were paid directly into their accounts.
- Workers received permanent identification, proper training, and were assigned local areas.
- People’s trust increased because workers were now from their own communities.
- *Result:*
- After 2015, the number of polio cases in Khyber dropped from hundreds to zero!

- *But today…*
- The government and relevant departments are now bringing back the old corrupt DDM system.
- Workers who served for 10 years—fighting dengue, corona, measles, typhoid, and 12 other diseases with over 85% vaccination coverage—are being dismissed without reason.
- The system is shifting back to daily wage and fake teams, which is unfair to workers and endangers community health.

- *Key questions:*
- When the CBV system was successful, why is it being discontinued?
- Polio still exists in Pakistan—so why end a proven model?
- Who will hold WHO and global agencies accountable for the millions in funding they provide?

- *Is the return to the DDM system merely another opportunity to "consume" the funds through corruption?*

- *Our appeal:*
- We demand the CBV system be continued.
- The old workers should be retained as ad hoc or contract health workers.
- Global agencies should take no

Photos from Polio Programme Updates and Awarness's post 19/07/2025

پولیو اب بھی ہمارے ماحول میں موجود ہے، لیکن بروقت ویکسینیشن کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ پولیو سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن ہی سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔
🔉باخبر رہیں، محتاط رہیں، اور ہر بچے کی مکمل ویکسینیشن یقینی بنائیں۔

19/07/2025

پولیو کی ویکسین کی ایجاد سے پہلے مریضوں کی حالت بڑی المناک ہوتی تھی۔ چھوٹے بچوں کے پھیپھڑوں کے مسلز پر پولیو وائرس کے حملے سے وہ اتنے کمزور ہو جاتے کے سانس لینے میں دقت محسوس ہوتی ۔ ان بچوں کی اس دردناک حالت کو دیکھ کر محسن دنیا سائنسدانوں نے iron Lung نامی مشین ایجاد کی جس کی وجہ سے بچوں کی زندگی تھوڑا سکون میں اور لمبی ہوجاتی۔ یہ جسم کے گرد خلا پیدا کر کے بچوں کو آسانی سے سانس لینے میں مدد فراہم کرتی ۔
لیکن اس مشین سے اموات کونا روکا جا سکا۔ پھر پولیو وائرس کی ویکسین سے اس بیماری کا سدباب کیا گیا۔

19/07/2025

🎗 سرویکل کینسر سے بچاؤ ممکن ہے!
📍 9 سے 14 سال کی بچیوں کو HPV ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ وہ مستقبل میں سرویکل کینسر سے محفوظ رہیں۔
✅ حکومت سندھ محکمہ صحت کا اہم اقدام
📞 مزید معلومات کے لیے کال کریں: 1166

12/07/2025

اپنے بچوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے کے لیے سادہ مگر مؤثر اقدامات اپنائیں! 💪✨
✔️ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ کا 5 سالکا بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے باقاعدگی سے لے رہا ہو۔
✔️ 15 ماہ کی عمر تک تمام معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات مکمل کروائیں۔
✔️ صفائی ستھرائی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں، خصوصاً بار بار ہاتھ دھونا معمول بنائیں۔
✔️ بچوں کو ایسی متوازن غذا دیں جو پروٹینز، وٹامنز، فائبر اور صحت مند چکنائی سے بھرپور ہو۔
یہ سادہ اقدامات پولیو سمیت کئی دیگر بیماریوں کے خلاف مضبوط دفاع فراہم کرتے ہیں۔ آئیں، مل کر اپنے بچوں کے محفوظ، صحت مند اور روشن مستقبل کو یقینی بنائیں!

12/07/2025

ڈیپریشن کی دوا کھانے سے بھوک زیادہ لگتی ہے اور کولیسٹرول بھی بڑھتا ہے جو وزن بڑھ جانے کی وجہ ہوتی ہے ۔ ڈپریشن کی دوائیاں کھانے کے ساتھ ساتھ ورزش اور اکٹیو رہنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ ورزش کرنے سے وزن بھی کنٹرول رہتا ہے اور ڈپریشن بھی کم محسوس ہوگا ۔ ڈپریشن کی دوائیوں کے کچھ وقت استعمال کے بعد اکثر وزن اتنا زیادہ ہوا ہوتا ہے کہ مریض اپنے آپ کو دیکھ کر اور زیادہ ڈیپریشن میں چلا جاتا ہے ۔ دوا اور ورزش جب ساتھ ساتھ ہو تو ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے کہ دوا کھانے کی ضرورت پھر نہیں رہتی ۔ جتنی زیادہ ورزش اتنا ہی زیادہ فائدہ ہمیں فالو کریں

Want your business to be the top-listed Beauty Salon in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Peshawar