Maria Zohaib
آپکی مخلص دوست
28/04/2025
ایک حاملہ عورت اپنے شوہر سے پوچھتی ہے: "آپ کیا چاہتے ہیں، بیٹا یا بیٹی؟"
شوہر جواب دیتا ہے: "اگر بیٹا ہوا تو میں اسے ریاضی سکھاؤں گا، اس کے ساتھ ورزش کروں گا، اسے شکار کرنا سکھاؤں گا اور بہت کچھ۔"
عورت ہنستے ہوئے پوچھتی ہے: "اور اگر بیٹی ہوئی تو؟"
شوہر مسکراتے ہوئے کہتا ہے: "اگر بیٹی ہوئی تو مجھے اسے کچھ بھی سکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وہ مجھے سب کچھ سکھائے گی: کیسے لباس پہننا ہے، کیسے کھانا ہے، کیا کہنا ہے اور کیا نہیں کہنا۔ بہت جلد، وہ میری دوسری ماں کی طرح بن جائے گی۔ اور بغیر کچھ خاص کیے بھی، وہ ہمیشہ مجھے اپنا ہیرو سمجھے گی۔ جب میں اسے 'نہیں' کہوں گا، وہ سمجھ جائے گی۔ اور وہ ہمیشہ اپنے مستقبل کے شوہر کا موازنہ مجھ سے کرے گی۔ چاہے جتنی بڑی ہو جائے، وہ ہمیشہ چاہے گی کہ میں اسے اپنی چھوٹی شہزادی کی طرح ہی پیار کروں۔ وہ دنیا سے میرے لیے لڑے گی، اور اگر کسی نے مجھے تکلیف دی، تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔"
عورت، کچھ حیران ہو کر پوچھتی ہے: "کیا تمہارا مطلب ہے کہ تمہاری بیٹی یہ سب کچھ کرے گی، لیکن بیٹا نہیں؟"
شوہر کہتا ہے: "نہیں، نہیں! میرا بیٹا بھی یہ سب کر سکتا ہے، لیکن اسے وقت کے ساتھ یہ سب سیکھنا ہوگا۔ دوسری طرف، بیٹیاں ان خوبیوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں۔ بیٹی کا باپ ہونا ہر مرد کے لیے حقیقی فخر کی بات ہے۔"
پھر عورت کہتی ہے: "لیکن وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ نہیں رہے گی۔"
شوہر نرمی سے جواب دیتا ہے: "ہاں، لیکن ہم ہمیشہ اس کے دل میں رہیں گے، جہاں بھی وہ جائے۔"
بیٹیاں واقعی فرشتے ہوتی ہیں... وہ غیر مشروط محبت اور خیال کے ساتھ پیدا ہوتی ہیں، ہمیشہ کے لیے۔
یہ تحریر اُن تمام خوش نصیب والدین کے لیے ہے جنہیں بیٹیاں عطا ہوئی ہیں۔
27/04/2025
میری بیوی نے کچھ دنوں پہلے گھر کی چھت پر
کچھ گملے رکھوا دیے اور ایک
چھوٹا سا باغ بنا لیا.
گزشتہ دنوں میں چھت پر گیا تو یہ دیکھ کر
حیران رہ گیا کہ بہت گملوں میں پھول کھلتے گئے
ہیں، نیبو کے پودے میں دو نیبو بھی لٹکے ہوئے ہیں اور
دو چار ہری مرچ بھی لٹکی ہوئی نظر آئی.
میں نے دیکھا کہ گزشتہ ہفتے اس نے بانس
کا جو پودا گملے میں لگایا تھا، اس گملے
کو گھسیٹ کر دوسرے گملے کے پاس کر رہی تھی.
میں نے کہا تم اس بھاری گملے کو کیوں گھسیٹ
رہی ہو؟ بیوی نے مجھ سے کہا کہ یہاں یہ بانس
کا پودا سوکھ رہا ہے، اسے کھسکا کر اس
پودے کے پاس کر دیتے ہیں.
میں ہنس پڑا اور کہا ارے پودا سوکھ رہا ہے
تو کھاد ڈالو، پانی ڈالو. اسے
کھسکا کر کسی اور پودے
کے پاس کر دینے سے کیا ہو گا؟ "
بیوی نے مسکراتے ہوئے کہا یہ
پودا یہاں اکیلا ہے اس لئے مرجھا رہا ہے.
اسے اس پودے کے پاس کر دیں گے تو یہ پھر
لہلہا اٹھے گا. پودے اکیلے میں سوکھ جاتے ہیں،
لیکن انہیں اگر کسی اور پودے کا ساتھ
مل جائے تو جی اٹھتے ہیں. "
یہ بہت عجیب سی بات تھی. ایک ایک کر کے کئی
فوٹو آنکھوں کے آگے بنتی چلی گئیں.
ماں کی موت کے بعد والد صاحب کیسے ایک
ہی رات میں بوڑھے، بہت بوڑھے ہو گئے تھے.
اگرچہ ماں کے جانے کے بعد سولہ سال
تک وہ رہے، لیکن سوکھتے ہوئے پودے کی طرح.
ماں کے رہتے ہوئے جس
والد صاحب کو میں نے کبھی اداس نہیں دیکھا تھا،
وہ ماں کے جانے کے بعد خاموش سے ہو گئے تھے.
مجھے بیوی کے یقین پر مکمل اعتماد
ہو رہا تھا. لگ رہا تھا کہ سچ مچ پودے
اکیلے میں سوکھ جاتے ہوں گے. بچپن میں میں
ایک بار بازار سے ایک چھوٹی سی رنگین
مچھلی خرید کر لایا تھا اور اسے شیشے کے
جار میں پانی بھر کر رکھ دیا تھا.
مچھلی سارا دن گم سم رہی. میں نے اس کے لئے
کھانا بھی ڈالا، لیکن وہ چپ چاپ ادھر-
ادھر پانی میں گھومتی رہی.
سارا کھانا جار کی تلہٹی میں جا کر بیٹھ
گیا، مچھلی نے کچھ نہیں کھایا.
دو دنوں تک وہ ایسے ہی رہی، اور ایک صبح میں نے
دیکھا کہ وہ پانی کی سطح پر
الٹی پڑی تھی. آج مجھے گھر میں
پالی وہ چھوٹی سی مچھلی یاد آ
رہی تھی.
بچپن میں کسی نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا، اگر
معلوم ہوتا تو کم سے کم دو، تین یا
ساری مچھلیاں خرید لاتا اور
میری وہ پیاری مچھلی یوں تنہا نہ مر جاتی.
مجھے لگتا ہے کہ دنیا میں
کسی کو تنہائی پسند نہیں.
آدمی ہو یا پودا، ہر
کسی کو کسی نہ کسی کے ساتھ
کی ضرورت ہوتی ہے.
آپ اپنے ارد گرد جھانكیں، اگر کہیں کوئی
اکیلا نظر آئے تو اسے اپنا ساتھ دیجئے، اسے
مرجھانے سے بچاے. اگر آپ اکیلے ہوں،
تو آپ بھی کسی کا ساتھ لیجئے، آپ
خود کو بھی مرجھانے سے روكے.
تنہائی دنیا میں سب سے بڑی سزا ہے. گملے کے
پودے کو تو ہاتھ سے کھینچ کر ایک
دوسرے پودے کے پاس کیا جا سکتا ہے، لیکن
آدمی کو قریب لانے کے لئے ضرورت
ہوتی ہے رشتوں کو ان کا مقام اور اپنی زندگی میں ان کی جگہ دینے کی ۔۔
26/04/2025
جنگل کا انوکھا اسکول
ایک دن جنگل میں تعلیم کا چرچا ہونے لگا۔ جانوروں کو یوں لگا جیسے علم حاصل کرنا اب ضروری ہو گیا ہو، اور اس سوچ کے پیچھے جنگل کے دانا اُلو صاحب کا بڑا کردار تھا۔ وہ برسوں سے جانوروں کو تعلیم کی اہمیت سمجھا رہے تھے اور آخرکار وہ انہیں قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
کچھ ہی دنوں بعد، جنگل کے تمام جانور جمع ہوئے تاکہ اس تعلیمی مشن کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔ طویل بحث و مباحثے کے بعد سب نے اتفاق کیا کہ جنگل میں ایک اسکول قائم کیا جائے گا۔
اُلو صاحب کو اسکول کا نگران بنایا گیا، اور خرگوش، کوا، گلہری اور بطخ کو نصاب تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی۔
ہر جانور نے اپنی مہارت کے مطابق مضامین تجویز کیے۔ خرگوش نے دوڑنے کو، کوا نے اُڑنے کو، بطخ نے تیراکی کو اور گلہری نے درختوں پر چڑھنے کو نصاب کا حصہ بنانے کی سفارش کی۔ اسکول انتظامیہ نے تمام تجاویز کو منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہر جانور کو یہ تمام مضامین پڑھنے ہوں گے، چاہے وہ جس صنف کا ماہر ہو۔
جب سال کا اختتام ہوا اور نتائج کا اعلان ہوا، تو صورت حال کچھ یوں تھی:
خرگوش نے دوڑنے میں شاندار 100 نمبر لیے، مگر اُڑنے، تیراکی اور درخت پر چڑھنے میں بُری طرح ناکام رہا۔
پرندے فضا میں اُڑنے میں تو ماہر نکلے، لیکن زمین پر دوڑنا یا پانی میں تیراکی کرنا ان کے لیے ناممکن تھا۔
گلہری نے درختوں پر چڑھنے میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا، مگر تیراکی اور اُڑنے میں فیل ہو گئی۔
اسکول کی انتظامیہ خوش تو تھی کہ سب جانور تعلیم حاصل کر رہے ہیں، مگر نتائج دیکھ کر سب کی پیشانیوں پر بل آ گئے۔
یہ کیسا تعلیمی نظام تھا جس میں کسی کی فطری صلاحیت کو مکمل نظرانداز کر دیا گیا تھا؟
یہی سوال اُلو صاحب کے ذہن میں بھی آیا۔ وہ ایک دانشور تھے، اس لیے انھوں نے گہرا تجزیہ کیا اور کہا:
"ہر جاندار ایک منفرد فطرت اور قدرتی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ایک ہی جیسے مضامین سب پر لاگو کرنا زیادتی ہے۔ تعلیم کا مقصد یہ نہیں کہ ہر کسی کو ہر فن میں ماہر بنایا جائے، بلکہ اصل تعلیم وہ ہے جو انسان—or جانور—کو اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچاننے اور نکھارنے میں مدد دے۔"
26/04/2025
ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا جو ہزارکوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہوجائےگی تو تڑپے گی وہ خوش ہوگااس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10 ، 10 انگلیوں والے انسان 32 ، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی ، نہ شکاری ، نہ آگ ، نہ کھولتا تیل ، نہ مرچ مسالحہ ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان ، کچھ بھی نہیں تھا ۔ چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی انپڑھ جاہل ، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی ، کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں ۔ میں نے خود ریسرچ کی ھے ، اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں ، میرا ذاتی مشاہدہ ھے ، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے ، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔
چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منہ ڈالا ، کانٹا چبھا ، مچھلی تڑپی ، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا ، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں ۔ بڑی مچھلی کیطرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل رہے___
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے___
مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی
انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا
بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گئے تو
26/04/2025
*دنیا کے ایک کامیاب شخص کی زندگی کے گیارہ فارمولے*
✍️1۔ تنخوہ مت لیں‘ تنخواہ آپ کو کبھی دولت مند نہیں بنائے گی۔
✍️2۔ آپ اپنی رقم سے کبھی سرمایہ کاری نہ کریں‘ سرمایہ کاری صرف دولت کی حفاظت کرتی ہے‘ یہ آپ کو دولت مند نہیں بناتی‘ آپ کو ہمیشہ سرمایہ کاری سے پہلے سرمایہ پیدا کرنا چاہیے۔
✍️3۔ آپ روزانہ خوشحالی کے دس آئیڈیاز سوچیں ‘ یہ دس آئیڈیاز آپ کےلئے خوشحالی کا خزانہ ثابت ہوں گے۔
✍️4۔آپ زندگی میں کبھی چائے‘ کافی اور ٹیکسی کی بچت نہ کریں‘ پیسے بچانے کےلئے بس پر سفر نہ کریں کیونکہ دنیا میں آج تک کوئی شخص بچت سے امیر نہیں ہوا‘امارت زیادہ پیسے کمانے سے آتی ہے بچت سے نہیں۔
✍️5۔آپ لکھنا سیکھیں‘ لکھنے سے انسانی دماغ میں اضافہ ہوتا ہے‘ آپ میں سوچنے سمجھنے کی اہلیت بڑھتی ہے اور سوچنے سمجھنے والے لوگ کبھی غریب نہیں رہتے۔
✍️6۔ آپ کے پاس اگر رقم ہے تو آپ کبھی اس رقم کا دو فیصد سے زیادہ سرمایہ کاری پر خرچ نہ کریں‘ 98 فیصد رقم اپنے پاس رکھیں‘ یہ 98فیصد رقم آپ کے اعتماد میں اضافہ کرے گی‘ میں نے زندگی میں بے شمار ایسے کروڑ پتی دیکھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے دولت سے نواز رکھا تھا‘انہوں نے اپنی دولت مختلف منصوبوں پر لگا رکھی تھی اور کروڑپتی ہونے کے باوجود ان کی جیبیں خالی تھیں۔
✍️7۔ آپ کبھی ایسا کاروبار نہ کریں جس میں زیادہ مقابلہ ہو‘ ایسا کاروبار کریں جس میں آپ اپنی اجارہ داری قائم کر سکیں۔
✍️8۔ چوبیس گھنٹے میں آٹھ گھنٹے سونا سب سے اچھی سرمایہ کاری ہے۔
✍️9۔ آپ ہمیشہ ان لوگوں کو وقت دیں جو آپ سے محبت کرتے ہیںنہ کہ ان لوگوں کو جن کے لئے آپ بے وقعت ہیں یا جن کو آپ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
✍️10۔ آپ سارا دن ان نعمتوں پر شکر ادا کریں‘اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو عنایت کر رکھی ہیں‘ شکر انسان کی توانائی میں اضافہ کرتا ہے۔ *شکر کرنے کے بہت فوائد ملتے ہیں آزمودہ ہے*
✍️11۔ آپ اپنے اوپر ‘ اپنے جسم پر‘ اپنے ذہن پر اور اپنے تجربے پر اعتماد کریں‘ آپ صحیح اور غلط کے بارے میں دوسروں سے پوچھنے کے بجائے اپنے آپ سے سوال کریں‘ دنیا میں آپ کا آپ سے بڑا کوئی دوست نہیں‘ آپ اپنے آپ کو دھوکا نہیں دے سکتے.
22/04/2025
18/04/2025
ایک چھ سالہ بچہ اپنی چار سالہ بہن کا ہاتھ تھامے بازار سے گزر رہا تھا۔ دونوں آہستہ آہستہ چل رہے تھے کہ اچانک وہ رکا اور مڑ کر دیکھا — اس کی بہن پیچھے رہ گئی تھی۔ وہ ایک کھلونوں کی دکان کی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی، اور اندر موجود ایک گڑیا کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی۔
بھائی اس کے پاس آیا اور نرمی سے پوچھا، "کیا تمہیں یہ گڑیا چاہیے؟"
لڑکی نے ہاں میں سر ہلایا اور گڑیا کی طرف اشارہ کیا۔
بچہ فوراً بہن کا ہاتھ تھامے دکان کے اندر گیا، اور بڑے بھائیوں جیسی ذمہ داری سے وہ گڑیا اٹھا کر اس کی ننھی ہتھیلی پر رکھ دی۔ بہن کی آنکھوں میں خوشی کی چمک صاف نظر آ رہی تھی۔
یہ سارا منظر دکان دار بھی غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ حیران تھا کہ اتنا چھوٹا بچہ اتنی محبت اور خلوص سے اپنی بہن کی خواہش پوری کر رہا ہے۔
بچہ دکان دار کے پاس آیا اور سادگی سے پوچھا،
"انکل، یہ گڑیا کتنے کی ہے؟"
دکان دار نے مسکرا کر جواب دیا،
"بیٹا، تم کیا دے سکتے ہو اس کے بدلے؟"
بچے نے فوراً اپنی چھوٹی جیب سے کچھ چمکتی ہوئی سیپیاں نکالیں — وہی جو اس نے سمندر کے کنارے سے چن کر سنبھال رکھی تھیں۔ اس نے سیپیاں میز پر رکھ دیں۔
دکان دار نے ان سیپیوں کو یوں گننا شروع کیا جیسے نوٹ گن رہا ہو۔
بچے نے کچھ پریشان ہو کر سوال کیا،
"انکل، کیا یہ کم ہیں؟"
دکان دار نے نرمی سے کہا،
"نہیں بیٹا، یہ تو گڑیا کی قیمت سے کہیں زیادہ ہیں۔"
یہ کہہ کر اس نے چار سیپیاں رکھ لیں اور باقی واپس بچے کو دے دیں۔ بچہ خوشی سے چمکتا ہوا اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر دکان سے باہر نکل گیا۔
یہ منظر دکان میں کام کرنے والا ایک کاریگر بھی دیکھ رہا تھا۔ اس نے حیرانی سے پوچھا،
"صاحب، اتنی مہنگی گڑیا صرف چار سیپیوں میں دے دی؟"
دکان دار نے گہری سانس لیتے ہوئے جواب دیا،
"ہاں، ہمارے لیے یہ صرف سیپیاں ہیں، مگر اس بچے کے لیے یہ اس کے خزانے سے کم نہیں۔
آج شاید وہ نہیں سمجھتا کہ قیمت اور پیسے کیا ہوتے ہیں،
مگر کل جب وہ بڑا ہوگا اور یہ لمحہ یاد کرے گا کہ کبھی اس نے اپنی بہن کے لیے صرف چند سیپیوں میں گڑیا خریدی تھی،
تو اُسے یاد آئے گا کہ دنیا میں اب بھی اچھے لوگ موجود ہیں۔
شاید یہی یاد اُسے کسی دن کسی اور کے ساتھ بھلائی کرنے پر آمادہ کر دے۔"
17/04/2025
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ السلاﻡ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ
ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﮬﮯ،
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﻞ ﺻﺒﺢ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺋﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺑﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮬﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ السلاﻡ ﺻﺒﺢ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ لاﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ السلاﻡ ﻧﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭼﺎ ﺍﭼﮭﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮬﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﺮﺍ ﺍﻧﺴﺎﻥ
ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮬﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ
ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺍﭼﮭﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮﻥ ﺳﺎ ﮬﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﻭﮦ ﺁﭘﮑﯽ
ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮬﮯ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ السلاﻡ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﮐﮧ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﻈﺮ ﺻﺒﺢ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺪ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ
ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ تھا ﺟﻮ ﺻﺒﺢ کو دیکھا ﺗﮭﺎ
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ السلاﻡ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ کلاﻡ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﯾﺎ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﻣﺎﺟﺮﮦ ﮬﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺗﮭﺎ ﻭﮨﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮﺳﮑﺘﺎ ﮬﮯ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﯾﮧ ﺷﺨﺺ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﮐﻨﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎﺋﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ جا رہا تھا ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﺑﺎ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ ﯾﮧ ﭘﮩﺎﮌ ﺟﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺑﯿﭩﺎ بولا ﺍﺑﺎ ﺍﻥ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺌﮯ ﮬﮯ ﻭﮦ بولے ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ
ﯾﮧ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﮩﺎﮌﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺑﮩﺖ ﻭﺳﯿﻊ ﻭ ﻋﺮﯾﺾ ﮬﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ
ﺍﺑﺎ ﺍﺱ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺑﺎﭖ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺩ ﺁﮦ ﺑﮭﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮلے ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ ﺍﺱ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮨﯿﮟ
ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺑﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﮬﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﻤﮏ ﺳﯽ آﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ بولے
ﮨﺎﮞ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﯼ
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﯽ ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮬﮯ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ! ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ
ﭘﺴﻨﺪ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﺗﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ. ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﺎﺻﺮﻑ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺑﻠﮑﮧ
ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﯿﮑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ
ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﺳﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺟﮭﮑﺎ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﻋﻤﻞ ﮬﮯ وہی لوگ اللہ کے قریب اور برگزیدہ بندے بن جاتے ہیں اور اللہ ان کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺑﺤﻤﺪﮦ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻟﻌﻈﯿﻢ
17/04/2025
ایک وکیل صاحب نے ایک استاد کو اپنا کنواں بیچ دیا دو دن بعد وکیل صاحب استاد کے پاس آئے اور کہنے لگے
معلم صاحب، میں نے آپ کو کنواں بیچا ہے، اس کا پانی نہیں! اگر پانی استعمال کریں گے تو اس کے پیسے الگ سے دینے ہوں گے
استاد مسکرائے اور بولے
جی بالکل! میں بھی آپ کے پاس آنے والا تھا۔ کہنا یہ تھا کہ آپ اپنا پانی میرے کنویں سے نکال لیں، نہیں تو کل سے کرایہ بھرنا ہوگا
یہ سن کر وکیل گھبرا گئے اور بولے
اجی میں تو بس مذاق کر رہا تھا!
استاد نے ہنستے ہوئے جواب دیا
وکیل صاحب، آپ جیسے ہی ہمارے پاس پڑھ کر وکیل بنتے ہیں
اساتذہ کو سلام! 🙏🙏
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Shakiainfo@gmail. Com
Peshawar
